0
Friday 21 Sep 2018 17:33

فلسطین کے خلاف ٹرمپ کا کھیل

فلسطین کے خلاف ٹرمپ کا کھیل
تحریر: مسعود الحناوی

گذشتہ ہفتے منگل کے دن عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کے مہاجرین کے کمیشن UNRWA کو فلسطینیوں کی فلاح و بہبود کیلئے دی جانے والی امداد روک دیئے جانے کا جائزہ لیا۔ اچانک ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک اور اعلان سامنے آ گیا جس میں مشرقی بیت المقدس میں داخل فلسطینی مریضوں کی مدد سے مخصوص 25 ملین ڈالر پر مبنی امریکی امداد بھی ختم کر دیئے جانے کی اطلاع دی گئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد واضح ہے۔ وہ ملت فلسطین کے خلاف گھیرا تنگ کرنا چاہتے ہیں۔
 
امریکہ نے حال ہی میں مسئل فلسطین کیلئے ایک راہ حل پیش کیا ہے جو "صدی کی ڈیل" کے نام سے معروف ہے۔ اس راہ حل میں فلسطینیوں کی وطن واپسی کا حق مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے تمام فلسطینی گروہوں اور جماعتوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی اور عرب ممالک نے فلسطینیوں پر یہ معاہدہ قبول کرنے کیلئے بے تحاشہ دباو ڈال رکھا ہے۔ وہ ہر قیمت پر فلسطینیوں کو یہ ذلت آمیز راہ حل قبول کرنے پر راضی کرنا چاہتے ہیں۔ اس راہ حل میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حتی فلسطین اتھارٹی اور پی ایل او جیسے فلسطینی گروہ جو امریکہ اور اسرائیل سے مذاکرات کی پالیسی پر گامزن تھے وہ بھی اس راہ حل کو ماننے پر تیار نظر نہیں آتے۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ کے مہاجرین کمیش کو دی جانے والی امداد روک دینے پر مبنی اقدام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے اس چیز کی کوئی اہمیت نہیں کہ یہ امداد منقطع ہونے کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی مریضوں اور ان کے اہلخانہ کتنی شدید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے اور ان اسپتالوں میں کام کرنے والے افراد کا مستقبل بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ سے جاری امریکی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لانا شروع کر دی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے صرف ایک چیز اہم ہے اور وہ یہ کہ جس طرح بھی ممکن ہو ملت فلسطین کو اپنے ظالمانہ مطالبات کے سامنے جھکا دیا جائے۔ امریکی حکومت اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی اتحادی ہے اور کسی بھی ایسے اقدام سے دریغ نہیں کرتی جو غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق غصب کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہو۔
 
امت مسلمہ کی رائے عامہ میں ہمیشہ سے یہ سوال موجود ہے کہ: "مظلوم فلسطینی قوم کے خلاف امریکہ کے حالیہ اقدامات کے مقابلے میں عرب حکمرانوں کا ایجنڈہ کیا ہے؟" عرب سربراہان مملکت اپنے اجلاسوں اور میٹنگز میں پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام پانے والے امریکی اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں؟ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان محمود عفیفی نے اعلان کیا ہے کہ عرب حکمران بین الاقوامی اداروں اور شخصیات سے رابطہ کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ کے مہاجرین کمیشن کو دی جانے والی امریکی امداد جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایسے اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں۔ عرب حکومتوں کو زیادہ سنجیدگی سے میدان میں آنا پڑے گا اور زیادہ موثر اقدامات انجام دینا ہوں گے۔ اس وقت عرب وزرائے خارجہ اور حکام کو فلسطینیوں کی حمایت کیلئے کھل کر میدان میں آنے کی ضرورت ہے۔ البتہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس کی امید بہت کم ہے کیونکہ عرب حکومتوں نے ہمیشہ فلسطینیوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کی حمایت کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 751272
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب