0
Wednesday 3 Oct 2018 00:38

اپنی رفتار اور سمت درست رکھنے کی ضرروت

اپنی رفتار اور سمت درست رکھنے کی ضرروت
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

سعودی رجیم کی طرف سے گوادر میں آئیل سٹی قائم کرنے اور سی پیک کا شراکت دار بننے کی خبر کو نئے پاکستان کے وزیر اطلاعات کو چھلانگیں مار مار کر بتانے سے پہلے ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ ستمبر 2017ء میں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید احمد المالکی نے اسوقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ سعودی عرب کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب بہت جلد گوادر پورٹ میں سرمایہ کاری کرکے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ بن جائے گا۔ سعودی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب کی ترقی اور استحکام کے لئے تیس لاکھ سے زائد پاکستانی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں، سعودی عرب کی سی پیک میں سرمایہ کاری سے سعودی عرب کو اسی طرح کا کردار پاکستان میں ادا کرنے کا موقع میسر ہوگا۔ سعودی عرب یہ بھی منصوبہ بنا رہا ہے کہ انجینیئرنگ فرمز کو 100 فیصد غیر ملکی ملکیت کی اجازت دی جائے، چونکہ ہمارے دو طرفہ تجارتی اور سفارتی تعلقات دوستانہ بنیادوں پر قائم ہیں، چنانچہ یہ سارے مواقع ہمارے لئے مزید ممکن، آسان اور عملی ہوسکتے ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ اِس سب کی ایک قیمت بھی ہوسکتی ہے۔ یہ نہایت بچکانہ سوچ ہے کہ دو ممالک کے درمیان دوستی ایک دوسرے کے لئے فکر، ہمدردی، اور محبت پر قائم ہوتی ہے۔ ادلا بدلی کا اصول ہمیشہ کارفرما ہوتا ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں، خطے اور پاس پڑوس میں تیزی سے دوست اور حلیف تبدیل کئے جا رہے ہیں، عالمی بساط پر اس تیزی سے مہرے بڑھائے اور ہٹائے جا رہے ہیں کہ یہ برق رفتار تبدیلیاں حالات کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا رہی ہیں۔ پاکستان کے اپنے اتحادی ایک بڑی کشمکش میں ہیں۔ سعودی عرب نے نہ صرف قطر کے خلاف جارحانہ سفارتی اقدامات کئے ہیں، بلکہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے اشارے بھی دے رہا ہے۔ سعودی، ایران کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب قطر کے معاملے پر ترکی کو بھی ترکی بہ ترکی جواب دے رہا ہے۔ اس سب کے دوران عرب دنیا کا غریب ترین ملک یمن بھی ہے، جس پر سعودی بمباری کا سلسلہ تھمنے کو نہیں آرہا۔

سعودی عرب کے ان اقدامات کے پیچھے ایک خوف چھپا ہے، وہی خوف جو تیل کی دولت سے مالا مال ہر خلیجی بادشاہت کو محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ کا ساتھ نہ رہا تو خطے میں موجود حریفوں سے کیسے نمٹا جائے گا؟ سعودی عرب ایک عرصے سے امریکہ کی چھتری تلے پناہ لیے ہوئے تھا، لیکن اوباما دور میں اسے امریکہ کے رویئے میں تبدیلی اور تنہائی کا احساس ہوا، جب اوباما نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر مسئلے پر ڈیل کی۔ ایٹمی مسئلے پر بڑی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتے کے بعد اور اس سے قبل بھی ایران نے عراق، شام اور لبنان میں مداخلت کی پالیسی اپنائی، جس نے سعودی عرب کے خوف کو بڑھاوا دیا کہ اب امریکہ سعودی عرب کے تحفظ کو پہلے جیسی اہمیت نہیں دیتا۔ اگرچہ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یقین دہانی کروانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن صدر بش کے بعد اوباما اور پھر اوباما کے بعد ٹرمپ کی پالیسیوں میں انتہائی بڑے تضادات کے بعد اب دنیا بھر میں امریکہ کے حوالے سے حتمی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے اتحاد کی ایک بڑی (اور شاید بنیادی) وجہ تیل تھا۔

سعودی عرب تیل کی قیمتوں میں استحکام کے لئے امریکہ کا ساتھ دیتا رہا، لیکن اب توانائی کے متبادل ذرائع کی وجہ سے تیل کی قیمتوں اور پیداوار میں بڑی تبدیلی مستقبل کے سودوں کے لئے ممکن نہیں رہی۔ ان حالات میں خلیج میں سفارتی جنگ مزید بڑھ سکتی ہے۔ خلیج کی اس کشیدگی میں سعودی قطر تنازع کی بنیادی وجوہات میں ایک شام کے حالات بھی ہیں، جہاں روس، ایران اور امریکہ نے حالیہ دنوں میں نئی سرخ لکیریں کھینچی ہیں۔ روس اتحادی ایران، شامی صدر بشارالاسد اور عراق کی ملیشیاؤں کی مدد سے اسٹریٹیجک اہمیت کے علاقے پر تسلط چاہتا ہے۔ روس کا مقصد خلیج سے امریکہ کو نکال باہر کرنا ہے۔ ایران اور شام امریکہ کو داعش کے علاقے سے ہٹا کر شام کے صحرا میں نئی جنگ میں پھسنانا چاہتے ہیں یا پھر نئی جنگ میں پھنسنے کا ڈراوا دے کر خطے سے نکلنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کو اگر روس کی مدد سے شام کے راستے بحیرہ روم تک رسائی ملتی ہے تو یہ اسرائیل کے لئے ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔ یہی مجبوری ہے جو امریکہ کو خطے میں فوجی کارروائی تک لائی۔ امریکہ داعش کی پسپائی کے بعد خطے سے نکلنے کے لئے ابھی واضح حکمت عملی نہیں بنا پایا کہ جنگ کے بعد شام میں کس کی حکومت ہوگی، یا بشارالاسد کا کیا کیا جائے گا۔ یہ حالات خلیج میں آگ مسلسل بھڑکتے رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ان حالات میں پاکستان جو امریکی کیمپ سے نکالے جانے کی صورت میں روس اور چین کے ساتھ توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو بھی اہمیت دیتا ہے، کدھر جائے گا؟ ایران کے اتحادی روس کا ساتھ کیسے دے پائے گا؟ سعودی عرب کو ترکی اور قطر کے ساتھ تعلقات رکھتے ہوئے کیسے مطمئن کرے گا؟ افغانستان اور ہندوستان اور امریکہ اور ہندوستان کے درمیان بڑھتی ہوئی پینگوں کی صورت میں مغربی بارڈر کے حالات کیسے کنٹرول ہوں گے۔؟ ایسے کئی بھیانک سوالات منہ کھولے کھڑے ہیں، لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت کو کرسی کے جھگڑے سے ہی فرصت نہیں۔ ایک فریق کرسی بچانے دوسرا چھیننے کی فکر میں ہے، ان حالات میں ملکی دفاع کے اداروں کو بھی سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ سیاسی قیادت نے مفادات کو پس پشت ڈال کر حالات کا یکسوئی سے مقابلہ نہ کیا تو خطرات کے یہ بادل مزید گہرے ہوتے جائیں گے۔

چین ہمیں پاک چین اقتصادی راہداری دیتا ہے، ہم بدلے میں اُنہیں نرم کاروباری ضوابط دیتے ہیں۔ سعودی ہمیں سرمایہ کاری کی اجازت دیں گے تو ہم اپنا غیر جانبدار مؤقف برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ پاکستان کو نہایت سوچ سمجھ کر چلنا پڑے گا۔ جب ہم سعودی سلطنت میں آنے والی معاشی تبدیلیوں کے فائدوں پر غور کریں تو یہ بھی غور کرنا چاہیئے کہ کیا ہم میں اتنی صلاحیت ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اُٹھا سکیں؟ کیا ہمارے پاس وہ ہنر اور مہارت موجود ہے، جس کی اِس وقت سعودی عرب کو تلاش ہے۔؟ اپنا گھر ٹھیک کرنے اور معیشت کے لئے بہتر فیصلے کرنے کا ایک دیانتدارانہ اور مضبوط منصوبہ اِس وقت ہماری اہم ضرورت ہے۔ الفاظ کو اقدام میں بدلنا ہوگا۔ پاکستان میں نئی حکومت بننے کے بعد سے سب سے زیادہ زیرِ بحث سی پیک کا منصوبہ ہے۔ سعودی عرب سی پیک میں تیسرے فریق کی حیثیت سے شامل ہو رہا ہے اور سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کے لئے سعودی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، جو سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے کر واپس ریاض جائے گا اور آئندہ چند ہفتوں میں ولی عہد محمد بن سلمان دورہ اسلام آباد کے دوران سرمایہ کاری منصوبوں کا اعلان کریں گے۔

 بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو کوئی چین کے مارشل پلان کا نام دے رہا ہے تو کوئی اسے چین کے نئے ورلڈ آرڈر سے تعبیر کر رہا ہے۔ چین اور پاکستان نے سی پیک کو اس قدر نمایاں کیا کہ دنیا کی تشکیک اب تشویش میں بدل چکی ہے۔ اس تشویش کے نتیجے میں سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ کے مقابلے میں 2 نئے منصوبے سامنے آچکے ہیں۔ سی پیک چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا حصہ ہے، جس میں سی پیک کے علاوہ مزید 5 اقتصادی راہداریاں بھی شامل ہیں، لیکن اگر اہمیت صرف سی پیک کو مل رہی ہے تو اس کی ایک وجہ 6 راہداریوں میں سے صرف سی پیک کو ہی کامیاب اور قابلِ عمل منصوبہ گردانا جانا ہے۔ چین بھی بیلٹ اینڈ روڈ پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے سی پیک کا حوالہ دینا نہیں بھولتا۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک اور خطے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں، خطے اور پاس پڑوس میں تیزی سے دوست اور حلیف تبدیل کئے جا رہے ہیں، عالمی بساط پر اس تیزی سے مہرے بڑھائے اور ہٹائے جا رہے ہیں کہ یہ برق رفتار تبدیلیاں حالات کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر بنا رہی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 753555
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب