0
Friday 5 Oct 2018 19:02

سعودی عرب کو ٹرمپ کی دھمکی، کون بیدار ہے؟؟

سعودی عرب کو ٹرمپ کی دھمکی، کون بیدار ہے؟؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

لیجیئے صاحب! وہی ہوگیا جس نے آخر ایک دن ہونا ہی تھا۔ امریکہ بہادر نے اپنے ’’بہترین دوست‘‘ سعودی عرب کو بھی آئینہ دکھا دیا۔ ہم روزِ اول سے کہتے آرہے تھے، ہم نہیں بلکہ قرآن کریم فرقان حمید نے 14 سو سال قبل ہی نشاندہی کر دی تھی کہ یہود و نصاریٰ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے، مگر سعودی عرب نے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ’’کافروں‘‘ سے یارانہ بنا لیا، جس کا نتیجہ گذشتہ روز سامنے آگیا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کے شاہ سلمان کو ہی لتاڑ دیا۔ ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ سعودی عرب ہماری افواج کی وجہ سے محفوظ ہے، ہم اگر پیچھے ہٹ جائیں تو سعودی عرب کی حکومت 2 ہفتے بھی نہ نکال سکے۔ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اس دفاع کی قیمت بھی مانگی۔ امریکی صدر نے سعودیہ کے حکمرانوں کو دھمکی دی کہ امریکہ سے اسلحہ لینے اور تیل کی کنوؤں تک رسائی دینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے، اگر سعودی عرب نے امریکہ کو تیل نہ دیا اور اس کا اسلحہ نہ خریدا تو پھر انہوں نے شاہ سلمان کو اپنے روایتی انداز میں ان کی اصلیت سے آگاہ کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، پہلے دن سے ہی مسلمانوں کیخلاف ہاتھ دھو کر پڑا ہوا ہے، ٹرمپ کے بیانات سے ایسے لگتا ہے کہ وہ مسلم دشمنی میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا ہے۔ پہلے امریکی صدور بھی ایسے ہی خیالات رکھتے تھے، مگر ٹرمپ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ ٹرمپ دنیا کے امن و امان کو تباہ کرکے پوری دنیا کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے، وہ اپنا اسلحہ بیچنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے ہر وقت تیار ہے، جبکہ ان کی نظر عربوں کے تیل پر بھی ہے، کیونکہ اس تیل کے علاوہ امریکہ کی معیشت کی گاڑی چل ہی نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ عرب ملکوں کیساتھ امریکہ کا معیار ہمیشہ دوہرا رہا ہے۔ امریکہ نے بے بنیاد پروپیگنڈے سے ہمیشہ عربوں کو خوفزدہ کیا، اس کیلئے عربوں کو ایران سے ڈرایا جاتا رہا، ایران پر ایٹم بم بنانے کا الزام عائد کرکے عربوں کو اس سے محفوظ رہنے کیلئے فرضی کہانی سنا کر اپنا اسلحہ بیچا، امریکہ کا اس حوالے سے موقف تھا کہ عربوں نے اپنا دفاع مضبوط نہ کیا تو ایران کا اسلامی انقلاب سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک میں گھس جائے گا۔ عرب بھی بھولے ثابت ہوئے اور امریکہ کی باتوں میں آکر ایران کو اپنا دشمن سمجھنے لگے، جبکہ ایران متعدد بار کہہ چکا ہے کہ اس کے کوئی توسیع پسندانہ عزائم نہیں ہیں بلکہ وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے۔

اب امریکہ نے سعودی عرب پر چڑھائی کر دی ہے، سعودی عرب نے امریکی ایما پر ہی یمن پر یکطرفہ جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں عام شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں، لاکھوں لوگ یمن میں غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے نمائندے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں یمن کی صورتحال بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ گذشتہ 5 برسوں سے یمن کے نہتے عوام پر بارود کی بارش جاری ہے۔ یمن کے محاذ کیلئے ہی سعودی عرب نے امریکہ سے اسلحہ کی خریداری کیلئے معاہدے کئے اور اسلحہ کی خریداری کیساتھ ساتھ امریکی فوجیوں کو بھی اس جنگ میں شامل کیا گیا، جس کا سعودی عرب امریکہ کو بھاری ’’کرایہ‘‘ بھی دے رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل امریکہ صدر کو سعودی عرب کا دورہ بھی کروایا گیا، جہاں عرب حکمرانوں کی کانفرنس میں ٹرمپ نے شرکت کی اور عربوں کو اپنا دوست اور خود کو عربوں کو خیر خواہ قرار دیا۔ اسی کانفرنس کے دوران نام نہاد فوجی اتحاد تشکیل دیا گیا، جس کی سربراہی پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حصے میں آئی۔ اس اتحاد کا بظاہر مقصد سعودی عرب کا دفاع بتایا گیا، مگر یہ اتحاد سعودی عرب کا دفاع کم اور ہمسایہ ممالک پر جارحیت زیادہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

سعودی عرب نے خطے میں ظاہری بالادستی کیلئے جہاں یمن کا محاذ کھول رکھا ہے، وہاں اور بھی بہت سے مسائل ہیں جن کا ریاض کو خطے میں سامنا ہے۔ اگر ٹرمپ کی دھمکی کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے تو سعودی عرب کے حکمرانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا، کیونکہ امریکہ نے سعودی عرب کو ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا ہے اور کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن جنگ ہو یا دیگر خطے کے مسائل سعودی عرب کو امریکہ نے ہی منظم انداز میں پھنسایا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ اسی طرح اس کا اسلحہ فروخت ہوتا رہے۔ حوثیوں نے آج تک مکہ مکرمہ کی طرف ایک بھی گولی نہیں چلائی، مگر موثر پروپیگنڈہ کے ذریعے دنیا کو یہ بتایا گیا کہ حرمین شریفین خطرے میں ہیں۔ حیرت ہے مقدس مقامات مسلمانوں کے ہیں، فکر امریکہ کو ہے؟

سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ کیوں اس فکر سے پریشان ہے، اس سوال کا جواب یہ ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو خطے میں توسیع دینے کے منصوبے کو عملی شکل دینے کیلئے عرب حکمرانوں کو اپنا کاسہ لیس بنا لیا ہے۔ اسرائیل کو امریکی پشت پناہی میں اسرائیل اپنی سرحدوں کو قبلہ اول بیت المقدس سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک لانے کے نقشہ بنا چکا ہے اور اسی فارمولے کے تحت پورے خطے میں کہیں داعش، کہیں القاعدہ، کہیں طالبان، کہیں النصرۃ، کہیں دیگر گروہوں کے ذریعے اس کام کو انجام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم تاحال ناکامی کا سامنا ہے، لیکن اب امریکی صدر کا سعودی عرب کو دھمکانہ واقعاً ایک سنگین فعل ہے جس پر مسلم دنیا کی خاموشی و بے حسی بھی سوالیہ نشان ہے۔

موجودہ صورتحال میں مسلم حکمرانوں کے سامنے امریکہ کا اصل چہرہ آچکا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم حکمران اپنی پالیسیوں کا از سرنوء جائزہ لیں اور اپنی بقاء کیلئے وحدت کا مظاہرہ کریں۔ جن مسلمان ممالک میں اختلافات ہیں، انہیں مل بیٹھ کر حل کر لیا جائے۔ سعودی عرب کو بھی اب بیداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، اگر سعودی حکمران قرآن تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے یہود ونصاریٰ سے دور رہیں اور اس حدیث مبارکہ ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے‘‘ پر عمل کرتے ہوئے باہمی وحدت کا مظاہرہ کریں تو امریکہ کی ہوش ایک دن میں ٹھکانے آسکتی ہے۔ صرف عرب ملک تیل کے ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو سپلائی دینا بند کر دیں، امریکہ چند منٹوں میں مسلمانوں کے پاؤں میں پڑ جائے گا اور اگر مسلمان ایسا نہیں کرتے تو امریکہ ان کی گردنوں کو پڑنے کیلئے تو تیار ہے ہی، دیکھنا یہ ہے کہ کون بیداری مغری کا مظاہرہ کرتا ہے، امریکہ یا امت مسلمہ۔؟
خبر کا کوڈ : 754082
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب