0
Friday 12 Oct 2018 21:43

خیبر پختونخوا میں ڈینگی کا بڑھتا ہوا طوفان صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

خیبر پختونخوا میں ڈینگی کا بڑھتا ہوا طوفان صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
رپورٹ: ایس علی حیدر

خیبر پختونخوا میں وبائی امراض میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، خسرے کی وباء اور ڈینگی بخار نے صوبے کی عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈینگی وائرس نے اب تک 430 افراد کو اپنا شکار بنا لیا ہے، یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو رجسٹرڈ ہیں، تاہم غیر رجسٹرڈ مریض اس میں شامل نہیں اور طبی ماہرین نے اعداد و شمار بڑھنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ گذشتہ برس عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ڈینگی وائرس سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی تھی، جس کے مطابق سب سے زیادہ ڈینگی کیسز خیبر پختونخوا میں سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈینگی بخار 1994ء سے چل رہا ہے۔ گذشتہ برس ڈینگی سے خیبر پختونخوا میں 69 اموات ہوئی تھیں اور 24 ہزار 807 مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ ڈینگی سے بعض اموات بلڈ ٹرانسفیوژن میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ڈینگی کے علاج کیلئے ضروری ہے کہ ہسپتالوں کی طبی امداد بہتر بنائی جائے اور ڈینگی مریضوں کیلئے وارڈز معیار کے مطابق بنائے جائیں۔

تازہ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں ڈینگی سے متاثرہ علاقے تو بدل گئے ہیں، لیکن ڈینگی کا وبال بدستور موجود ہے، ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافے نے متعلقہ اداروں کے فُاول پروف انتظامات کے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ یاد رہے کہ ماہ اگست کے اوائل میں خیبر پختونخوا میں ڈینگی وائرس کی وباء دوبارہ پھیلنے کا انتباہ جاری کیا گیا تھا۔ صوبائی محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے باعث درجہ حرارت میں کمی ڈینگی کے مچھر کی افزائش کیلئے سازگار ہے۔ صوبائی محکمہ صحت اور ناگہانی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے نے ڈینگی لاروے کے خاتمے کے علاوہ لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں، لیکن اس کے باوجود ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ڈینگی رسپانس یونٹ سے موصولہ معلومات کے مطابق خیبر پختونخوا اور حال ہی میں صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقہ جات میں ڈینگی سے اب تک 430 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ صرف ضلع خیبر میں ڈینگی کے 200 سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں، جس میں ایک متاثرہ خاتون زندگی کی بازی ہار چکی ہے۔

مزید اطلاعات ہیں کہ ڈینگی وائرس کے حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا پشاور کا علاقہ حاجی بانڈہ ہے، جو صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی و عدم توجہ سے کسی بھی وقت خطرناک صورتحال سے دو چار ہوسکتا ہے۔ حاجی بانڈہ میں صرف ایک روزہ اسکریننگ سے 25 افراد میں ڈینگی وائرس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈی آر یو ڈیٹا میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ علاقوں کے علاوہ اپر دیر اور ہزارہ ڈویژن پر فضاء شہر ایبٹ آباد میں ڈینگی کیسز رپورٹ ہونے کے انکشافات ہوچکے ہیں۔ ان علاقوں کے متاثرہ مریض اپنے علاقوں اور پشاور کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ انچارج ڈینگی رسپانس یونٹ کے مطابق ہمارا کام صرف ڈینگی کیسز کو رپورٹ کرنا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ کوآرڈینیشن ہے اور دیکھنا ہے کہ معاملات کس انداز سے چل رہے ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور ڈی ایچ او کے قول و فعل کے تضادات دیکھ کر ڈینگی وباء کو قابو میں لانے کے اقدامات پُراثر نظر نہیں آتے، اے ڈی سی پشاور کے مطابق 1650 اہلکار ڈینگی پر قابو پانے کیلئے انتہائی متحرک ہیں اور اپنی ڈیوٹیاں بخوبی سرانجام دے رہے ہیں، جو مختلف علاقوں کے دورے کرتے ہیں اور سپرے کے علاوہ پانی کے تالابوں کو ختم کرنے اور لاروا تلف کرنے کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

تاہم ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے مطابق 12 سے زائد اہلکار ڈینگی کنٹرول کرنے کی ذمہ داریاں نبھانن رہے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں باہمی تعاون کے حوالے سے کتنا تضاد پایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ صرف خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں اگست کے مہینے میں ڈینگی کے 8 مریضوں کو داخل کروایا گیا تھا، جس میں سے 6 متاثرین ڈینگی کا تعلق پشاور نوے کلے کسٹم چوک اور حاجی بانڈہ سے تھا، جبکہ 2 متاثرین اپر دیر سے تھے۔ ماہ ستمبر کے آخری ایام میں مریضوں کی تعداد کئی گنا بڑھی ہے۔ اب تک ڈیٹا کے مطابق کے ڈی ایچ آئسولیشن وارڈ میں 38 مریضوں کو لایا گیا تھا، جس میں 3 تاحال زیر علاج ہیں۔ محکہ صحت بالخصوص صوبائی وزیر صحت کی اس غیر معمولی نوعیت کے معاملے پر خاموشی، عدم دلچسپی کو متاثرہ علاقے کے لوگوں نے سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے 12 یا 1600 اہلکار اب تک ان کو نظر نہیں آئے، جس کی وجہ سے مجبوراََ ہلال احمر کو درخواست کرکے ٹیسٹ کروائے، لیکن ہلال احمر والوں سے بھی محکمہ صحت کے اہلکاروں و افسران نے غیر مہذبانہ سلوک کیا اور انہیں وہاں دوبارہ جانے سے روک دیا ہے اور ٹیسٹ کروانے پر بھی ان سے جواب طلبی کی ہے۔

موجودہ صورتحال میں تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف جان لیوا وباء میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف صوبائی وزیر صحت کی محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کی غیر سنجیدگی اور عدم دلچسپی کسی المیہ سے کم نہیں۔ ڈینگی وباء کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اداروں کے باہمی کوآرڈینیشن کے دعوے محض ڈھونگ نظر آتے ہیں۔ صوبائی حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور وباء کو قابو میں لانے کیلئے موثر اقدامات اُٹھائے، مریض ہسپتالوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ اکثر متاثرہ علاقوں میں مریضوں کی رہنمائی کیلئے کوئی سلسہ نہیں، ہسپتالوں میں مریض بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت صحت اصلاحات سمیت عوام سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے ڈینگی اور اس جیسے سنگین مسائل کے حل کیلئے فی الفور اقدامات اٹھائے۔ متاثرہ اور مختلف علاقوں میں مچھر مار سپرے کرائے جائیں۔

حکومتی سطح پر عوام کو ڈینگی سے بچاؤ کے حوالے سے شعور و آگاہی کی مہمات چلائی جائیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے آگاہ کیا جائے۔ صوبائی حکومت کی ڈینگی کے حوالے سے عدم دلچسپی قابل افسوس ہے۔ ڈینگی کی وباء سے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے۔ صوبائی حکومت نے عوام کو وبائی امراض اور مسائل کے سونامی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ حکومت ڈینگی جیسے سنگین مسئلے کو سنجیدہ لے کر اقدامات اٹھائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچایا جاسکے، کیونکہ صوبائی حکومت نے ڈینگی وباء کو غیر سنجیدہ لیا، جس کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں بےحسی کی بھینٹ چڑھنے والی ہیں، جس کے باعث عوام صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی غیر موثر پالیسیوں اور کارکردگی سے مایوس ہے۔ اس کے تدارک کیلئے صوبائی حکومت کو فی الفور اقدامات اٹھانے ہونگے۔
خبر کا کوڈ : 755397
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب