0
Sunday 14 Oct 2018 16:30

پاراچنار، اساتذہ کی ایجوکیشن افسر کیخلاف پریس کانفرنس

پاراچنار، اساتذہ کی ایجوکیشن افسر کیخلاف پریس کانفرنس
رپورٹ: ایس این حسینی

گذشتہ روز کرم ایجنسی پاراچنار کے اساتذہ نے کرم ویلی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے زیر نگرانی پاراچنار پریس کلب میں موجودہ ایجنسی ایجوکیشن آفیسر سید حسین آفریدی کے خلاف پریس کانفرنس کیا۔ جس میں انہوں نے علاقے سے ان کے فوری تبادلے کا مطالبہ کیا۔ پریس کانفرنس کے بعد انہوں نے صدر اساتذہ سید زاہد حسین اور کابینہ اراکین کی زیر قیادت متفقہ طور پر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ اساتذہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر موجودہ ایجنسی ایجوکیشن آفیسر سید حسین آفریدی کے خلاف نعرے درج تھے۔ اساتذہ نے پریس کلب سے ایجوکیشن آفس تک ریلی نکالی۔ اس دوران وہ موصوف کے خلاف قانونی کارروائی کے مطالبے مبنی نعرے لگا رہے تھے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اساتذہ سید زاہد حسین، جنرل سیکرٹری محمد حسین، سابق صدر سید گلفام حسین، سابق صدر امجد حسین اور مشتاق حسین نے کہا کہ ایجوکیشن آفیسر نے بیسٹ ٹیچر ایوارڈ ٹیچرز کی بجائے آفیسرز میں تقسیم کئے۔ انہوں نے کہا کہ موصوف سینیئر ٹیچرز کی پروموشن میں مسلسل روڑے اٹکار رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ AEO کو جلد از جلد تبدیل نہ کیا گیا تو تمام تعلیمی اداروں کو احتجاجاً بند کر دیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موصوف ہفتے میں تین دن ڈیوٹی جبکہ چار دن چھٹی پر رہتے ہیں۔ انہوں نے ایس ایس ٹی اساتذہ کو بلا تاخیر سنیارٹی اور پروموشن دینے، نیز سائنس اور آرٹس کی تمیز کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اساتذہ نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن میں مزید کوتاہی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پانے والے تمام اساتذہ کے حکم نامے اپریل 2018ء سے جاری کئے جائیں۔

خیال رہے کہ ایجنسی ایجوکیشن آفیسر پر کئی طرح کے دیگر الزامات بھی ہیں۔ اکثر اساتذہ شکایت کرتے ہیں کہ ہفتے میں چار دن نیز بعض اوقات کئی کئی ہفتوں تک غائب رہنے کی وجہ سے انہیں دفتری امور نمٹانے میں مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ AEO سید حسین آفریدی پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ میل سکولوں کی بجائے فیمیل سکولوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔ مہینوں میں لڑکوں کے سکولوں کا کبھی ایک بار دورہ کرنے کی فرصت تو انکے پاس نہیں، جبکہ فیمیل سکولز کا دورہ ہر دوسرے تیسرے روز کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ایس ایس ٹی کے پروموٹ ہونے والے ایک استاد کا کہنا تھا کہ پچھلے سال 2018 میں ہماری تقرریوں کے دوران بھی انہوں نے نہایت ناانصافی کا مظاہرہ کیا۔ وہ یوں کہ ایس ایس ٹی کی سنیارٹی فاٹا کی بیس پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے آرڈر میں دو اڑھائی ماہ تاخیر کرتے ہوئے اس ایجنسی کے اساتذہ کو دوسروں کے مقابلے میں جونئیر کرکے رکھ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہی نہیں، اپر کرم کے اساتذہ کے ساتھ اسی ایجنسی یعنی لوئر کرم کے اساتذہ کے مقابلے میں بھی امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ وہ یوں کہ لوئر کرم کے اساتذہ کے احکامات 11 اکتوبر جبکہ اپر کرم کے اساتذہ کے احکامات 18 اکتوبر 2017 کو جاری کئے۔ بعض اساتذہ نے موصوف کو اخلاقی لحاظ سے بھی نشانہ تنقید بنایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بشمول موجودہ AEO کے کسی بھی AEO نے آئندہ فیمیل سکولوں کا غیر ضروری دورہ کیا یا فیمیل اساتذہ کو تنگ کیا تو اسکے نتائج نہایت خطرناک ہونگے۔
خبر کا کوڈ : 755621
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب