1
Tuesday 16 Oct 2018 23:03

کیا محمد بن سلمان کا سیاسی اختتام آن پہنچا ہے؟

کیا محمد بن سلمان کا سیاسی اختتام آن پہنچا ہے؟
تحریر: سید رحیم نعمتی

سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کو دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ وہ منگل 2 اکتوبر کے دن ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے اور پھر وہاں سے لاپتہ ہو گئے۔ ابتدا میں یہ مسئلہ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تھا لیکن اب اس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ امریکہ، مغربی ممالک، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے ایسی آوازیں سنی جا رہی ہیں جو یقیناً سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کیلئے پریشان کن ہیں۔ 59 سالہ جمال خاشقجی دو اکتوبر کو اپنی سابق زوجہ آلاء محمود نصب کی طلاق کے کاغذات حاصل کرنے کیلئے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن اس کے بعد ان کا کوئی اتا پتا نہیں۔ سعودی حکام نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ قونصل خانے سے باہر نکل گئے تھے لیکن یہ موقف نہ صرف ترکی میں کسی کو قانع کر سکا بلکہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے براہ راست اس ایشو میں مداخلت کی اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے بہت جلد یہ مسئلہ ایک عالمی ایشو میں تبدیل ہو گیا۔
 
ترکی کے ذرائع ابلاغ کے علاوہ ڈیلی صباح، مڈل ایسٹ آئی، واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز، اسٹریٹ ٹائمز، اشپیگل، گارجین اور اسکائی نیوز نے بھی اس مسئلے کو بھرپور کوریج دی۔ جیسے جیسے ترکی کے سکیورٹی اور باخبر ذرائع سے جمال خاشقجی کی گمشدگی اور ممکنہ قتل کے بارے میں معلومات منظرعام پر آ رہی تھیں ایسے ایسے ان ذرائع ابلاغ میں بھی شائع ہونے والی رپورٹس پر خونی مافیا کہانیوں والا رنگ چھانے لگ گیا۔ سعودی حساس اداروں کے پندرہ افراد پر مشتمل ٹیم کا اسی دن استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے پہنچنے اور جمال خاشقجی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے قونصل خانے کی عمارت سے باہر لے جانے پر مبنی یہ مافیا کہانی اس قدر موثر تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر ان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر خارجہ سمیت اعلی امریکی حکام اور سینئر ریپبلکن سینیٹرز نے اپنی مصلحت آمیز خاموشی کو توڑ کر کم از کم بالواسطہ طور پر آل سعود رژیم کو اس مسئلے کے بھیانک نتائج سے خبردار کیا۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی حکام نے جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے کھینچ لانے کی مکمل منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ این بی سی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق جمال خاشقجی طلاق کی دستاویزات کے حصول کیلئے پہلے واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفارتخانے گئے جہاں انہیں کہا گیا کہ وہ استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے جائیں۔ سعودی حکام اس طرح انہیں استنبول کے سعودی قونصل خانے بلانا چاہتے تھے تاکہ انہیں اغوا اور قتل کی واردات امریکی سرزمین پر انجام نہ پائے۔ شاید امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں موجودہ تناو اس بات کا باعث بنا کہ سعودی حکام یہ سوچنے لگیں کہ امریکی حکام استنبول میں جمال خاشقجی کے قتل پر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کریں گے۔ جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے ابتدائی دنوں میں ایسا محسوس بھی ہو رہا تھا کہ امریکی حکام اس مسئلے میں خاص دلچسپی نہیں لے رہے۔ لیکن اس گھناونے جرم کے مختلف پہلو واضح ہو جانے کے بعد امریکی حکام نے سعودی حکومت خاص طور پر ولیعہد محمد بن سلمان پر زور دیا کہ وہ اس بارے میں وضاحت پیش کریں۔ ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے سعودی حکام کو بھاری تاوان ادا کرنے پر مجبور ہو جانے کی دھمکی دی جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی سے وابستہ امریکی سینیٹر کرس مارفی نے سعودی عرب سے سفارتی تعلقات منقطع کر لینے کا مطالبہ کر دیا۔
 
انہیں دھمکیوں کے نتیجے میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اپنے موقف سے پیچھے ہٹے اور ترکی کی تحقیقاتی ٹیم کو سعودی قونصل خانے اور قونصلر کی رہائش گاہ میں داخل ہو کر تفتیش کرنے اور شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت دینے پر تیار ہو گئے۔ ایسی رپورٹس بھی موصول ہوئی ہیں کہ ان چند دنوں میں محمد بن سلمان نے اپنا خصوصی ایلچی بھی ترکی بھیجا ہے۔ محمد بن سلمان کی یہ پسماندگی ان کی اس پریشانی اور اضطراب کو ظاہر کرتی ہے جس کا تذکرہ حکومت مخالف معروف سعودی ٹویٹر صارف "مجتہد" نے اپنے پیغام میں کیا تھا۔ مجتہد نے محمد بن سلمان کی اس پریشانی اور اضطراب کی دو بڑی وجوہات ذکر کی تھیں؛ ایک استنبول کے سعودی قونصل خانے میں انجام پانے والے اس گھناونے جرم سے متعلق ترکی کے پاس مکمل معلومات کا ہونا جن میں پندرہ افراد پر مشتمل سعودی کمانڈوز کی ٹیم میں شامل افراد کی تصاویر بھی شامل ہیں، اور دوسرا ان معلومات کی امریکی حکام کو منتقلی ہے جس کے نتیجہ میں امریکی حکام نے غیر متوقع ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مجتہد نے لکھا ہے کہ محمد بن سلمان کی پوزیشن اس قدر گھمبیر ہو چکی ہے کہ ان کا "سیاسی اختتام" بھی ممکن ہے اور حتی یہ مسئلہ ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں بھی اٹھایا جا سکتا ہے جس کا نتیجہ حتمی طور پر محمد بن سلمان کا جرم ثابت ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔
 
شاید مجتہد کی یہ پیش گوئی کچھ غیر حقیقت پسندانہ نظر آئے لیکن محمد بن سلمان کی پریشانی اور اضطراب سے متعلق ان کی بات حقیقت پر مبنی ہے۔ درحقیقت اس وقت محمد بن سلمان کی پریشانی صرف امریکی حکام کے ردعمل تک ہی محدود نہیں بلکہ ان کی اصل پریشانی یہ ہے کہ ترک حکام ان سے کیسے ڈیل کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے ولیعہدی کا قلمدان سنبھالتے ہی ترکی اور صدر رجب طیب اردگان سے تعلقات کو پس پشت ڈال دیا اور بعد میں جب قطر سے ٹکر لی تو براہ راست صدر رجب طیب اردگان کے مقابلے میں آ گئے۔ مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کی اخوان المسلمین سے قربت اور ترکی کی حکمران جماعت انصاف و ترقی کے اعلی سطحی رہنماوں جیسے صدر رجب طیب اردگان کے مشیر یاسین اکتائے سے ان کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انہیں وجوہات کی بنا پر ان کا قتل محمد بن سلمان اور صدر رجب طیب اردگان میں ٹکراو کا باعث بن گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ ترک حکام اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ گذشتہ سال نومبر میں بھی سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے لبنان کے وزیراعظم سعد حریری کو سعودی عرب دورے کے دوران قید کر کے انتہائی خطرناک اقدام انجام دیا تھا۔ اس وقت فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے بروقت اقدام کیا اور سعدی حریری کو بچا لیا۔ لیکن اب جمال خاشقجی کا واقعہ اس قدر غیر انسانی اور گھناونا ہے کہ حتی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی محمد بن سلمان کو بچانے پر تیار نظر نہیں آتے۔ لہذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محمد بن سلمان کی سیاسی زندگی کا فیصلہ مکمل طور پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے ہاتھ میں ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 756270
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب