0
Thursday 18 Oct 2018 11:16

پاک فوج کو طالبان سے بنا کر رکھنے کا مشورہ!

پاک فوج کو طالبان سے بنا کر رکھنے کا مشورہ!
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ کامیابیوں کے باوجود عراق اور شام میں داعش میں شمولیت کے راستے مسدود نہیں ہوئے۔ درحقیقت امریکہ نے اب داعش کے نام پر عراق و شام سے نہ جانے کے لئے بہانے تراشنا شروع کر دیئے ہیں۔ ڈنفور نے بھی کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف ہماری کوششیں بہت کم کامیاب ہوئیں، اس صورت حال کو بہتر کرنے کے لئے سیاسی، فوجی اور انٹیلی جنس چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ نائن الیون کے بہانے سے افغانستان پر امریکی حملے کے بعد سے دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، جو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بحران سے باہر نہیں نکل سکا۔ افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز بڑی تعداد میں موجود ہیں، جنھیں افغان فوج کو تربیت دینے کے بہانے وہاں رکھا ہوا ہے، مگر افغانستان کے طالبان امریکیوں کے اپنے وطن سے مکمل انخلاء کے بغیر چین سے بیٹھنے پر تیار نہیں اور ان کی طرف سے غیر ملکی فوج کے ساتھ افغانستان کے سرکاری اہلکاروں پر حملے مسلسل جاری رہتے ہیں۔

دوسری طرف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں قیام امن کے لئے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے قطر میں طالبان رہنماؤں کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ٹرمپ گذشتہ سترہ برسوں سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکی سفارتکار پر واضح کیا گیا کہ غیر ملکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی امن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکی حکام نے 4 ماہ کے دوران دوسری بار طالبان نمایندوں سے براہ راست ملاقات کی ہے۔ امریکیوں کی اکثریت جاری 17 سالہ جنگ سے متاثرہ افغانستان کے معاملات میں امریکہ کے ملوث ہونے پر بے حد مایوس ہے۔ زلمے خلیل زاد امریکہ کی افغان اور پاکستان پالیسی میں اہم کردار کے حامل سمجھے جاتے ہیں اور یوں افغانستان میں زمینی حقائق سے مغائر اور متصادم پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ کی راہوں میں بکھرے کانٹوں میں ان کا بھی بڑا حصہ ہے۔

امریکہ کی افغانستان میں براہ راست فوجی موجودگی سے خطے کے اہم ممالک روس، چین، پاکستان اور ایران کو خدشات پیدا ہوئے، ان کی بنیاد یہ تھی کہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے باعث قریبی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ یہ خوف قطعی بے سبب نہیں تھا، پاکستان افغانستان میں امریکی موجودگی کی قیمت برسوں سے چکا رہا ہے۔ امریکی افغانستان سے اپنے مکمل فوجی انخلا کے معاملے پر خوف کا شکار رہے، ان کا خیال تھا کہ انخلا کی صورت میں نہ صرف یہ کہ علاقائی ممالک کابل پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اس کے بعد کابل حکومت طالبان کی یلغار کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو کر گر جائے گی اور طالبان دوبارہ افغانستان کا کنٹرول سنبھال کر ملک کو امریکہ مخالف سرگرمیوں کا گڑھ بنالیں گے۔

امریکہ نے اپنے انخلا کی صورت میں بھارت کو افغانستان کا پولیس مین بنانے کی پالیسی اپنا کر پاکستان کو مستقلاً اپنے گھیراؤ کے خوف کا شکار کئے رکھا۔ اس طرح بہت سوں کے خدشات اور خوف کے باعث پورا خطہ عدم استحکام کی راہوں پر گامزن رہا۔ لیکن اب امریکہ میں یہ سوچ اب بڑی حد تک غالب آچکی ہے کہ وہ موجودہ جنگ جویانہ پالیسی کو جاری رکھ کر اگلے سترہ برس بھی جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس سوچ کا عکاس دی ویک، میگزین میں امریکی خاتون صحافی بونی کرسٹن کا ایک چونکا دینے والا مضمون ہے۔ جس کا عنوان ہی امریکہ کبھی افغانستان میں نہیں جیت سکے گا، ہے۔ بونی کرسٹن نے کہا ہے کہ ممکن ہے امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد طالبان غالب آجائیں، کابل حکومت گر جائے اور افغانستان پھر امریکہ مخالف قوتوں کا اڈہ بن جائے، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ ہمیشہ کے لئے افغانستان میں براجمان رہے۔ بونی کرسٹن نے اپنے مضمون کا اختتام اس جملے سے کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ افغانستان میں جنگ کو ختم کر دیا جائے۔

اگر امریکہ نے افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا عندیہ دیا ہے تو اسے ایک تاریخی لمحہ اور خبر کہا جا سکتا ہے۔ یہ خطے میں استحکام کی جانب پہلا اور اہم ترین قدم ثابت ہوسکتا ہے مگر کسی وسیع تر مفاہمت کے بغیر یہ انخلا سوویت انخلا کی طرح افغانوں کے لئے رحمت کی جگہ زحمت بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی لئے پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی خواہش ہے امریکہ مکمل افغان امن تک وہاں رہے، دنیا میں قیام امن کی خاطر سب سے بڑی قربانی پاک فوج نے دی، امن مشن میں فرائض کی انجام دہی میں 250 جوان شہید ہوئے، 2007ء کے بعد مختلف آپریشنز سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا، اب پاکستان میں کہیں بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں، دہشت گردی کے خلاف 80 ہزار پاکستانیوں نے جانوں کی قربانی دی۔ پاکستان کی طرف سے یہ عندیہ دیا گیا  ہے کہ امریکیوں کی افغانستان سے بغیر کسی پراسس کے واپسی پاکستان سمیت خطے کو عدم استحکام کا شکار کرسکتی ہے۔

لندن کی یونیورسٹی میں آئی ایس پی آر کے ترجمان کے خطاب کے متعلق پاکستان میں طالبان کی حامی قوتوں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے بغیر خطے اور دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا، پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے، یہ درست ہے، لیکن جب 70 فیصد علاقہ طالبان کے پاس ہے، تو اصل حکومت ان کی ہوئی نہ کہ امریکہ یا کابل میں بیٹھی ہوئی کٹھ پتلی حکومت کی، جسے خوف ہے کہ امریکی فوج نکل گئی تو کابل حکومت تین دن بھی نہیں چل سکتی، ایسے میں کیا یہ قرین مصلحت نہیں کہ افغانستان کے 70 فیصد علاقے پر حکمرانی کرنے والے عناصر کا ساتھ دیا جائے یا ناجائز قابضین اور افغان مسلمانوں کے قاتلوں کا؟ پاکستان کے بغیر خطے اور دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا، یہ بھی درست ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نہ صرف اس خطے میں، پاک فوج کے ترجمان یہ کیوں نہیں کہتے کہ پوری دنیا میں بدامنی اور دہشت گردی کا اصل ذمے دار امریکہ ہے۔

طالبان کی حامی قوتوں کا خیال ہے کہ امریکہ افغانستان کو چھوڑ کر جانے والا نہیں۔ اس کا مقصد محض قبضہ نہیں، بلکہ پورے خطے پر نظر رکھنے کے لئے اسے ایک ٹھکانے کی ضرورت ہے اور جب تک اس کا ایک ایک فوجی ٹھکانے نہیں لگے گا، وہ یہاں سے نہیں جائے گا۔ جو ممالک ایک کھرب 30 ارب ڈالر خرچ کرچکے ہیں، ایسے کیسے چلے جائیں، ابھی تو کئی منصوبے پائپ لائن میں ہیں، بھارت بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان کے بیانات میں امریکی فوج کو موجودگی کی خواہش کا اظہار افغان طالبان کے پیش کردہ موقف یا پاکستان میں موجود جہادی مائنڈ سیٹ سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لئِے پاک فوج کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ امریکی قابض فوج کی حمایت افغان طالبان کو پسند نہیں آئے گی، کیونکہ ان کے خیال میں دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو احتیاط کیساتھ درست فیصلے کرنیکی ضرورت ہے۔

بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں پاک فوج نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں کامیابیاں بھی سب سے زیادہ حاصل کی ہیں۔ پاک فوج کے ترجمان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 3.1 ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں پاکستان نے ایک فیصد خرچ کیا، ظاہر سی بات ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے رقوم خرچ کیں اور وہ اب بھی افغانستان میں بھاری رقوم خرچ کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود افغانستان کا 70 فیصد حصہ طالبان اور دیگر جنگجو گروپوں کے زیرقبضہ ہے اور افغانستان کی حکومت کی رٹ چند شہروں تک محدود ہے۔ اصولی طور پر امریکہ اور مغربی ممالک کو پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیئے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ القاعدہ یا داعش کا افغانستان سے خاتمہ ہو جائے تو اس کے لئے انہیں پاکستان کی مدد کرنی چاہیئے، کیونکہ پاکستان کی فوج کے پاس ہی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ دہشت گرد قوتوں کو شکست دے سکتی ہے۔

حالیہ منظر نامے میں جب پاکستان مخالف پروپیگنڈہ زوروں پر ہے اور عالمی طاقت امریکہ کی طرف سے بھی ہمیں دبائو کا سامنا ہے، پاکستان کی جانب سے کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا جانا یقیناً عالمی برادری میں ہمارے مثبت امیج کو اجاگر کرنے میں مدد دے گا۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم اپنی سفارت کاری کو فعال کرکے عالمی امن کیلئے وطن عزیز کی قربانیوں اور مختلف امور پر اسلام آباد کے موقف سے دنیا کو آگاہ کرتے رہیں۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکی سفارتکار پر واضح کیا گیا کہ غیر ملکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی امن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ واضح رہے امریکی حکام نے 4 ماہ کے دوران دوسری بار طالبان نمایندوں سے براہ راست ملاقات کی ہے۔ امریکیوں کی اکثریت جاری 17 سالہ جنگ سے متاثرہ افغانستان کے معاملات میں امریکہ کے ملوث ہونے پر بے حد مایوس ہے۔ بہرحال زلمے خلیلزاد کی طالبان لیڈرشپ سے ملاقات ایک بریک تھرو ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو بھی اس پیش رفت پر نظر رکھنی چاہیئے، کیونکہ افغانستان میں تبدیلی کے اشارے مل رہے ہیں۔ پاکستان کو آئندہ حکمت عملی تیار رکھنا ہوگی، تاکہ پرامن اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب پورا ہوسکے۔
خبر کا کوڈ : 756496
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے