1
Saturday 20 Oct 2018 01:19

جمال خاشقجی کے قتل میں عالمی شریک

جمال خاشقجی کے قتل میں عالمی شریک
تحریر: ہادی محمدی

جمال خاشقجی جو سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس سربراہ ترکی الفیصل کے دست راست تھے اور میڈیا پر جانی پہچانی شخصیت ہونے کے باعث صحافی کہلائے جاتے تھے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں انتہائی بے دردی سے قتل کر دیئے گئے۔ انہیں سعودی فرمانروا کا بلیک باکس کہا جاتا ہے اور ان کے پاس عالمی سطح پر آل سعود رژیم کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور اغوا سے لے کر قتل تک غیر انسانی اقدامات کی مکمل معلومات حاصل تھیں۔ ان کے قتل نے جہاں سعودی حکام کی عزت خاک میں ملا کر رکھ دی ہے وہاں امریکہ کی عزت بھی خطرے میں ڈال دی ہے۔ سعودی حکام اس بات سے خوفزدہ تھے کہ کہیں جمال خاشقجی ان کے وہ تمام راز فاش نہ کر دیں جو ان کے پاس ہیں۔ اسی طرح جمال خاشقجی کا حکومت مخالف موقف بھی سعودی حکام کو پسند نہیں آتا تھا۔ دوسری طرف امریکہ اب تک سعودی عرب کو بڑی مقدار میں اسلحہ فروخت کرتا آیا ہے جو یمن کے خلاف سعودی جارحیت میں انجام پانے والے بیگناہ یمنی شہریوں کے قتل عام اور عراق، شام اور شمالی افریقہ میں آل سعود رژیم کی جانب سے انجام پانے والی ریاستی دہشت گردی میں استعمال ہوتا آیا ہے۔ یہ امر امریکی حکومت کو سعودی حکام کے جرم میں شریک بنا دیتا ہے۔
 
جمال خاشقجی کے مسئلے کو اٹھانے کا حق نہ تو ترکی کو حاصل ہے اور نہ ہی امریکہ اور مغربی ممالک کو، کیونکہ ترکی کی حکومت نے کچھ ہی عرصہ پہلے حکومت مخالف سیاسی رہنما گولن سے تعلق کے بہانے سینکڑوں صحافیوں کو قید کر دیا تھا جبکہ امریکہ اور مغربی ممالک یمن اور دیگر ممالک میں سعودی حکام کی جانب سے انجام پانے والی ریاستی دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان سے ظاہر ہونے والی سفارتی گستاخی تو بہت ہی واضح ہے۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا کہ جمال خاشقجی کے قتل کے مسئلے کو سعودی عرب سے انجام پانے والے 110 ارب ڈالر مالیت کے اسلحہ فروخت والے معاہدے پر اثرانداز نہیں ہونا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ پمپئو کی جانب سے سعودی عرب اور ترکی کے حالیہ دوروں کا مقصد سعودی حکام کو جمال خاشقجی کے قتل سے بری کرنے کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ امریکہ جمال خاشقجی کے قتل پر سودا بازی کے ذریعے سعودی حکام کو مزید نچوڑنا چاہتا ہے۔
 
یورپی ممالک خاص طور پر برطانیہ اس وجہ سے ناراض دکھائی دیتے ہیں کہ سعودی عرب میں ان کا اثرورسوخ کم ہو گیا ہے اور آل سعود رژیم کو لوٹنے میں بھی انہیں زیادہ حصہ نہیں مل سکا۔ مغرب کی جانب سے لبرل ڈیموکریسی پر مبنی خوبصورت نعرے جمال خاشقجی کے قتل کے بعد کھوکھلے ہو چکے ہیں اور یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مغربی ممالک کی نظر میں نہ تو انسانیت کو کوئی اہمیت حاصل ہے اور نہ ہی آزادی اور جمہوریت کو، بلکہ یہ خوبصورت نعرے سعودی دولت لوٹنے کا ہتھکنڈہ ہیں۔ ترکی بھی اپنی اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کیلئے جمال خاشقجی کے مسئلے کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ جمال خاشقجی کا مسئلہ سعودی عرب، امریکہ اور ترکی کی مثلث ہینڈل کر رہی ہے اور اس مسئلے کا حتمی نتیجہ اسی فارمولے کے تحت ظاہر ہو گا جس پر یہ تینوں ممالک اتفاق کر لیں گے۔ لہذا ایسا سوچنا درست نہیں کہ جمال خاشقجی کا مسئلہ انسانی حقوق، معاشرتی اصولوں اور انسانی اقدار کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔
 
گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ترکی کی کرنسی "لیر" بہت حد تک مضبوط ہو گئی ہے جبکہ سعودی ریال کی قیمت کم ہو گئی ہے اور اس کا اسٹاک ایکسچینج بھی گر گیا ہے۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی عزت خطرے میں پڑی ہوئی ہے جو اب تک سعودی عرب کے اس وحشی نظام حکومت کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ اسرائیلی حکام جنہوں نے بہت دلچسپ موقف اختیار کیا ہوا ہے اس بحران میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان سے خفیہ تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور ان کی پوزیشن کمزور ہونے سے اسرائیل کی تمام آرزوں پر پانی پھر جانے کا خطرہ ہے۔ لہذا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی عوام فریبی کے ذریعے جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ محمد بن سلمان کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ترکی فیصل نے کہا ہے کہ وہ اس سے پہلے بھی دسیوں مخالف شہزادوں کے ساتھ جمال خاشقجی والا سلوک انجام دے چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھاری رشوت کے بعد ترکی، سعودی عرب اور امریکہ اس مسئلے کو دبا دیں گے لیکن یہ مسئلہ ان کے دبنے سے نہیں دبے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور آزادی پر مبنی ان کے تمام دعووں کی اصل حقیقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔
 
خبر کا کوڈ : 756753
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب