0
Monday 22 Oct 2018 22:07

مذاہب عالم اور سماجی ذمہ داری، 2 روزہ عالمی کانفرنس کا احوال

مذاہب عالم اور سماجی ذمہ داری، 2 روزہ عالمی کانفرنس کا احوال
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب اور منہاج القرآن یونیورسٹی کے اشتراک سے مذاہب عالم اور سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے دو روزہ عالمی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ کانفرنس کے پہلے روز ایف سی یونیورسٹی لاہور کے وائس ریکٹر پروفیسر جوزف سن، تھائی لینڈ کے دانشور ڈاکٹر امتیاز یوسف، نائیجیریا کے ڈاکٹر سفیانو، انڈیا کے گوہر قدر وانی، نائیجیریا کے ڈاکٹر ابراہیم، نائیجیریا کے ڈاکٹر عمانیل اینما، ڈاکٹر ریان بریشر، آسٹریلیا کے ڈاکٹر بوم سنیم، ڈاکٹر ام سلمیٰ، ڈاکٹر شمائلہ مجید، رضا نعیم، ڈاکٹر رمضان شاہد، انوار علی، ڈاکٹر محمد ایاز خان، عظمیٰ ناز، حسن علی، محمد حسن عباد، حسنین علی، حدیبیہ ثاقب، صابر ناز نے ریسرچ پپپر پیش کئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض میڈم ثمرین نے ادا کئے۔ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام سکول آف ریلیجنز اینڈ فلاسفی نے کیا، ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر ہرمن روبوک نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور بین المذاہب مکالمہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس میں خرم نواز گنڈاپور، بریگیڈیئر ریٹائرڈ اقبال احمد خاں، خرم شہزاد، کرنل (ر) مبشر اقبال، کرنل (ر) محمد احمد، رابعہ علی میڈم روبینہ سعید جی ایم ملک، نوراللہ صدیقی نے شرکت کی۔

منہاج یونیورسٹی لاہور کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر حسین محی الدین نے کانفرنس میں شرکت پر وفاقی وزیر مذہبی امور، آسٹریلیا، نائیجیریا، سری لنکا اور انڈیا سے آئے ہوئے اسکالرز، دانشوروں اور مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور کو بین الاقوامی بھائی چارے کے فروغ کے لئے میزبانی کے فرائض انجام دینے کا دوسری بار اعزاز حاصل ہو رہا ہے، منہاج یونیورسٹی بین الاقوامی مکالمہ کے حوالے سے عالمی دانشوروں کے مابین ایک پل کا کردار ادا کر رہی ہے۔ منہاج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم غوری نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس بین الاقوامی کانفرنس کا بنیادی مقصد مختلف ادیان کے مابین ہم آہنگی اور برداشت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے تعلیمی، تحقیقی تجربات اور سیاسی سماجی تبدیلیوں سے روشناس کروانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں عصری تقاضوں کے مطابق علمی خدمات انجام دینے پر اس سال منہاج یونیورسٹی لاہور کو گلوبل گڈگورننس کے ایوارڈ سے نوازا گیا، انہوں نے کانفرنس میں شرکت پر بین الاقوامی سکالرز کو مبارکباد دی۔

پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور منہاج یونیورسٹی لاہور کے مشترکہ تعاون سے سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے مذاہب عالم کا کردار کے موضوع پر انعقاد پذیر دو روزہ عالمی کانفرنس میں مہمان خصوصی وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نورالحق قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان بین المذاہب رواداری کے فروغ کیلئے منعقدہ اس کانفرنس کے ایجنڈا سے مکمل طور پر اتفاق کرتی ہے، حکومت مذہبی رواداری، ہم آہنگی اور برداشت کے اصولوں پر گامزن ہے، عصر حاضر کے اہم ترین موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرکے منہاج یونیورسٹی لاہور نے اپنی قومی، ملی و بین الاقوامی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کیا ہے، ہمیں اپنے بچوں کو انتہاء پسندی سے پاک امن اور بھائی چارے کی تعلیم دینی ہے، فروغ امن کی بے مثال کوششوں پر ہم ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، تحریک منہاج القرآن اور ان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے کردار کو سراہتے ہیں، اسلام کا معنی امن اور سلامتی ہے، پاکستان قیامت تک کے لئے قائم رہنے کے لئے بنا ہے، ملک لوٹنے والے عبرتناک انجام سے دو چار ہونگے اور ماڈل ٹاؤن کے قتل عام کے کردار بھی کیفر کردار تک پہنچیں گے۔

آسٹریلیا سے آئے ہوئے اسکالرز ڈاکٹر چارلس اینڈریو نے اپنا ریسرچ پیپر پیش کرتے ہوئے کہا کہ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ انسان 70 ہزار طریقوں سے سوچتا ہے، سوچنے کی سمت مثبت ہوگی، تو اس کے بیرونی اثرات بھی مثبت ہونگے اور اگر سوچ کا دھارا منفی ہوگا تو اس کے اثرات بھی منفی ہونگے، بیرونی تبدیلی کے لئے سب سے پہلے اپنے اندر کو تبدیل کرنا ہوگا، دنیا امن کے فروغ کے لئے اتنا پیسہ اور بجٹ خرچ نہیں کر رہی ہے، جتنا پیسہ اسلحہ کی خریداری پر صرف ہو رہا ہے، احساس برتری، احساس کمتری، تعصب اور لالچ تمام برائیوں کی جڑ ہیں، مذہب اور روحانیت کا انسان کے باطن سے بڑا گہرا تعلق ہے، جب انسان اپنی شناخت کر لیتا ہے تو وہ ہر قسم کے منفی احساسات سے بالاتر ہو جاتا ہے، جس انسان کے دل و دماغ میں انتشار ہوگا، اس کے اثرات سوسائٹی پر بھی انتشار کی صورت میں ظاہر ہونگے، دوسروں کو بدلنے کے عمل کا آغاز خود کو بدلنے سے ہوتا ہے، کوئی انسان اپنی ذات کے حصار سے باہر نکلے گا تو دوسرے کا احساس کرسکے گا، صوفیائے کرام کی محنت ذات کی تبدیلی سے متعلق تھی، انہوں نے خود کو پہچانا تو ان کے اندر امن آگیا اور یہی امن انہوں نے باہر بانٹا، انسان جب تک اپنے اندر کو پاک اور صاف نہیں کرے گا، امن جگہ نہیں بنا پائے گا۔

منہاج یونیورسٹی لاہور اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب کے تعاون سے منعقدہ دو روزہ عالمی کانفرنس کے اختتامی سیشن میں ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر حسین محی الدین نے ڈیکلیریشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی فلاح ہی امن کی راہ ہے۔ شرکائے کانفرنس اور بین الاقوامی سکالرز نے اسے سماجی ذمہ داریوں میں مذاہب عالم کے کردار کی دو روزہ کانفرنس کا سلوگن اور لب لباب قرار دیا اور اسکی متفقہ طور پر منظور دی۔ دو روزہ عالمی کانفرنس میں ریسرچ پیپر پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی سکالرز نے کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب نفرت کی تعلیم نہیں دیتا، دنیا کے امن اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے مذاہب عالم کے دانشوروں اور نمائندوں کے درمیان وسیع تر مکالمہ ناگزیر ہے، مہمانوں نے اہم موضوع پر کانفرنس منعقد کرنے پر منہاج یونیورسٹی لاہور کی انتظامیہ کو مبارکباد دی۔ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے سری لنکا کولمبو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شانتی کمار، ڈاکٹر چارلس اینڈریو، ریورنٹ بوم سونیم، ڈاکٹر جوزف سن، ڈاکٹر ہرمن نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین، ڈاکٹر محمد شاہد سرویا، میاں عمران مسعود، بیرسٹر عامر رضا اراکین صوبائی اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی، سعدیہ سہیل رانا، مسرت جمشید چیمہ نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ڈاکٹر حسین محی الدین نے ڈیکلریشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست مدینہ انسانی حقوق کے احترام اور بین المذاہب بھائی چارہ کے مظاہرہ کی عملی تصویر تھی۔ مدینہ کی ریاست کا قیام مواخات کی بنیاد پر عمل میں آیا۔

انہوں نے کہا کہ پیغمبرانؑ خدا نے انسانیت کی فلاح اور انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کی۔ پیغمبر اسلام نے 12 سال اہل مکہ کا ظلم سہا مگر امن محبت اور برداشت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا، پیغمبر اسلام نے صبر اور برداشت سے اسلام کا بول بالا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے نام لیواؤں نے انسانی حقوق کے تحفظ کو آخری سانس تک یقینی بنایا، آج کی ترقی یافتہ دنیا میں انسانی حقوق اور انسانیت کا احترام سب سے زیادہ خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر دور میں روحانیت کے اساتذہ نے مشکلات و مصائب کا سامنا کیا، آج بھی ہم وہی مصائب اپنے گرد و پیش میں محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوفیائے کرام نے برابری کی بات کی اور طبقاتی تفریق کو قبول نہیں کیا۔ ڈاکٹر حسین محی الدین نے شرکائے کانفرنس اور بین الاقوامی اسکالرز کو کانفرنس میں شرکت اور دانش سے بھرپور ریسرچ پیپر پیش کرنے پر انہیں مبارکباد دی۔ پروفیسر ڈاکٹر شانتی کمار (کولمبو یونیورسٹی) نے اختتامی سیشن میں ریسرچ پیپر پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اسلام کے انسانیت سے محبت پر مبنی پیغام کو عظیم صوفی جلال الدین رومی کی تحریروں سے سمجھا، اسلام کی تعلیمات میں آفاقیت ہے، انسان جتنی بھی ترقی کر لے، مگر انسانیت کی پناہ مذہب میں ہے۔ مذہب اخلاقیات اور حلال حرام کی تمیز سکھاتا ہے، کسی بھی مذہب کا سچا پیروکار امن اور انسانیت کیلئے خطرہ نہیں بن سکتا، دنیا کو پیسے کی غربت سے نہیں روحانی غربت سے خطرہ ہے۔ ڈاکٹر شانتی کمار نے سوال و جواب کے سیشن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی نیو ورلڈ آرڈر کسی فرد کو اسکے مذہبی عقائد اور مذہبی وابستگی سے جدا نہیں کرسکتا، آخر میں سارے ورلڈ آرڈر مذہب کی پناہ میں آئینگے۔
خبر کا کوڈ : 757131
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب