1
Sunday 21 Oct 2018 23:06

ٹرمپ اور بن سلمان مشترکہ انجام کے انتظار میں

ٹرمپ اور بن سلمان مشترکہ انجام کے انتظار میں
تحریر: سیاوش فلاح پور

جمال خاشقجی قتل کا پیچیدہ کیس سعودی حکومت کے اعتراف اور بعض اعلی سطحی سکیورٹی عہدیداروں کی برطرفی کے بعد نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ کیا اب بھی سعودی ولیعہد کی برطرفی کا امکان موجود ہے یا عالمی برادری ان کا اس قتل سے لاعلم ہونے پر مبنی سعودی موقف قبول کر لے گی؟ یہ کیس امریکہ میں قریب الوقوع مڈٹرم الیکشن کے پیش نظر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن پر کیا اثرات ڈالے گا؟ کیا واقعی سعودی فرمانروا ملک سلمان خاشقجی کی موت سے لاعلم تھے؟ یہ ایسے اہم سوالات ہیں جن کا تحریر حاضر میں جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جمعہ کے روز رویٹرز نیوز ایجنسی نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں یہ کہا گیا کہ ملک سلمان بن عبدالعزیز جمال خاشقجی کی موت سے لاعلم تھے اور اب اطلاع ملنے کے بعد وہ ولیعہد محمد بن سلمان کے اختیارات محدود کرنے کے درپے ہیں۔ یہ دعوی کس حد تک صحیح ہے؟
 
اس بارے میں لبنان کے معروف صحافی اور تجزیہ کار علی مراد کا کہنا ہے کہ رویٹرز کی یہ رپورٹ بہت حد تک گمراہ کن ہے کیونکہ اس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ سعودی فرمانروا ملک سلمان ملکی امور پر مکمل احاطہ رکھتے ہیں اور تمام فیصلے ان کی مرضی سے انجام پاتے ہیں اور ان کی بیماری حکومتی ذمہ داریاں ادا کرنے پر اثرانداز نہیں ہو رہی۔ میری نظر میں ملک سلمان ایک عرصے سے اہم ملکی امور اور فیصلوں سے بے دخل کئے جا چکے ہیں اور سعودی عرب کا حقیقی فرمانروا ان کا بیٹا اور ولیعہد محمد بن سلمان ہے۔ لہذا رویٹرز کی جانب سے سامنے آنے والے تمام دعوے جیسے ملک سلمان ولیعہد کے اختیارات کم کرنے کے درپے ہیں وغیرہ حقیقت پر مشتمل نہیں۔ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے حال ہی میں اپنے والد کی طرف سے بہت سے احکامات جاری کئے ہیں جن میں مسئلہ فلسطین کے بارے میں صدی کی ڈیل اور آرامکو آئل کمپنی کے حصص بیچنے پر مبنی احکامات بھی شامل ہیں۔ وہ ہر مشکل اور حساس موقع پر اپنے باپ کے اختیارات استعمال کرتے آئے ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اب تک اپنے والد کو برطرف کر کے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کی۔
 
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی حکومت کا موقف سامنے آنے کے بعد جو واقعات اس ملک میں رونما ہوئے اور چند اہم سکیورٹی عہدیداروں جیسے سعودی دربار کے مشیر سعود القحطانی اور انٹیلی جنس کے نائب سربراہ جنرل احمد عسیری وغیرہ کو برطرف کر دیا گیا اس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس منظرنامے کا مقصد محمد بن سلمان کو جمال خاشقجی کے قتل سے مبرا کرنا ہے۔ اب صورتحال زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی برطرفی کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کچھ دن پہلے سعودی حکومت کے خلاف قدرے سخت موقف اختیار کیا تھا اور جمال خاشقجی کا قتل ثابت ہو جانے کی صورت میں سعودی عرب کو پابندیوں کی دھمکی دی تھی۔ اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ ان پر امریکی عوام کی رائے عامہ کا دباو تھا اور وہ کھل کر سعودی حکام کو اس کیس سے لاتعلق قرار نہیں دے سکتے تھے۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ترکی کا ردعمل کیا ہو گا۔ کیا ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سعودی موقف کو قبول کر لیں گے؟ میری نظر میں ترکی، سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اس مسئلے پر سازباز کا امکان موجود ہے اور محمد بن سلمان کو اس کیس سے لاتعلق کرنے کیلئے سعودی عرب ان دونوں ممالک کو بھاری تاوان بھی ادا کر چکے ہیں۔
 
اس نکتے پر توجہ ضروری ہے کہ اگر جمال خاشقجی کا قتل ایسے وقت انجام نہ پاتا جب امریکہ میں مڈٹرم الیکشن قریب ہیں تو اسے ہر گز میڈیا پر اتنی کوریج نہ ملتی۔ میری نظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مخالفین نے اپنے انتخاباتی مفادات کی خاطر جمال خاشقجی کے قتل کو بہت اچھالا ہے اور وہ اس میدان میں کامیاب بھی رہے ہیں۔ جمال خاشقجی قتل کیس کا امریکہ کے مڈٹرم الیکشن پر اثرانداز ہونے کا بہت زیادہ امکان پایا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیانات سے ثابت کر دیا ہے کہ ان کا انجام سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے انجام سے جڑا ہوا ہے۔ امریکی صدر نے امریکہ کی اقتصادی صورتحال بہتر بنانے خاص طور پر اس ملک میں بیروزگاری کے مسئلے پر قابو پانے میں محمد بن سلمان کی مالی مدد استعمال کی ہے اور اگر انہیں اپنے عہدے سے برطرف کر دیا جاتا ہے تو شاید ٹرمپ کو ان جیسا کوئی اور ولیعہد میسر نہ آئے۔ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے جو خدمت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کی ہے وہ سعودی عرب کی تاریخ میں کسی اور حکمران نے واشنگٹن کیلئے نہیں کی۔
 
خبر کا کوڈ : 757145
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے