1
Monday 22 Oct 2018 23:54

امریکہ کو وارننگ

امریکہ کو وارننگ
تحریر: محمد کاظم انبارلوئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن پہلے اعلان کیا ہے کہ وہ روس کے ساتھ اس معاہدے کو بھی ختم کر رہے ہیں جس میں دونوں ممالک نے کم رینج اور متوسط رینج والے جوہری میزائلوں کے ذخائر ختم کرنے پر اتفاق رائے کر رکھا تھا۔ ان کا یہ اعلان ایران سے جوہری معاہدہ ختم کئے جانے اور یورپ، لاطینی امریکہ اور چین سے کئے گئے کچھ معاہدوں کے خاتمے کے بعد تازہ ترین عہد شکنی قرار دی جا رہی ہے۔ امریکہ نے مجموعی طور پر عالمی معاہدوں سے دستبرداری اور عہد شکنی کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ ان امریکی عہد شکنیوں کے بعد جو دنیا معرض وجود میں آئے گی اس کی خصوصیات کیا ہوں گی؟ اقتصادی اور سیاسی میدانوں میں تو امریکہ پابندیوں کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرے گا لیکن فوجی میدان میں صورتحال کیا ہو گی؟
 
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حال ہی میں روس کے شہر سوچی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ان سوالوں کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے ایک ایٹمی جنگ کی منظر کشی کی اور اس بارے میں روس کے موقف کو واضح کیا۔ ولادیمیر پیوٹن نے کہا: "روس ہر گز اپنے دشمنوں پر جوہری ہتھیاروں سے حملے میں پہل نہیں کرے گا۔ لیکن اگر کسی نے ایسا اقدام کیا تو روس چند سیکنڈ میں ہی دشمن کو نابود کر ڈالے گا۔ ہم انہیں توبہ کا موقع فراہم نہیں کریں گے اور خود شہید ہو کر بہشت میں چلے جائیں گے۔" انہوں نے مزید کہا: "ہم ابتدائی ایٹمی حملے کا نظریہ نہیں رکھتے اور ہمارا نظریہ ابتدائی جوہری حملے کا جواب دینے پر مبنی ہے۔" روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ممکنہ جوہری جنگ کے بارے میں نظریاتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم شہید کے طور پر بہشت میں جائیں گے اور ہمارے خلاف جارح قوتیں ہلاک ہو جائیں گی اور ان کے پاس توبہ کرنے کی فرصت بھی نہیں ہو گی۔"
 
امریکہ کی جانب سے روس کے ساتھ جوہری میزائلوں سے متعلق معاہدے کو ختم کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام دنیا بھر کی عوام کو ممکنہ جوہری جنگ انجام پانے کی وارننگ دینا چاہتے ہیں۔ یہ عمل بین الاقوامی تعلقات عامہ اور مشرق اور مغرب کے درمیان ٹکراو سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک اور پاگل پن کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی حکام افغانستان، عراق، شام یا دوسرے الفاظ میں مغربی ایشیا میں بری طرح شکست اور ناکامیوں کا شکار ہوئے ہیں جبکہ روس نے ثابت کیا ہے کہ وہ مغربی ایشیا میں اپنے سیکورٹی مفادات سے ذرہ برابر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ روسی حکام خطے میں دہشت گرد عناصر کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم نظر آتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی قومی سلامتی کیلئے شدید خطرہ تصور کرتے ہیں۔ اسی اسٹریٹجک فہم کی بنیاد پر اس وقت روس اسلامی مزاحمتی بلاک کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔
 
کیا امریکہ روس کی اس وارننگ پر توجہ دے گا یا نہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب اس وقت دینا ممکن نہیں۔ لیکن یہاں ایک بنیادی نکتہ موجود ہے اور وہ یہ کہ اگر عالمی معاہدوں سے دستبرداری پر مشتمل ڈونلڈ ٹرمپ کا پاگل پن اور دیوانگی جاری رہی تو اس بات کا قوی امکان بھی پایا جاتا ہے کہ روس اپنی اس حکمت عملی پر نظرثانی شروع کر دے کہ وہ ابتدائی جوہری حملہ انجام نہیں دے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسی پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ: "ہم امریکہ کی جانب سے عائد پابندیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔" ممکن ہے یہ اکتاہٹ انہیں یا ان کے جانشینوں کو اپنی جوہری حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دے۔ آج روس کی دفاعی ڈاکٹرائن اس نظریے پر استوار ہے کہ اگر دشمن کو نابود کرتے ہیں تو فاتح ہیں اور اگر خود ختم ہو جاتے ہیں تو شہید ہیں اور جنت میں جائیں گے۔ صرف یہ منطق ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو دیوانہ وار اقدامات سے روک سکتی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 757353
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے