1
Saturday 27 Oct 2018 22:12

موجودہ عالمی نظام اور غیر انسانی پالیسیاں

موجودہ عالمی نظام اور غیر انسانی پالیسیاں
تحریر: ہادی محمدی

موجودہ عالمی نظام یا ورلڈ آرڈر دوسری عالمی جنگ کے بعد معرض وجود میں آیا۔ اس نظام کی تشکیل کی بڑی وجہ دوسری عالمی جنگ میں انجام پانے والی ہولناک تباہی اور وسیع قتل عام تھا۔ عالمی برادری نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی اور قتل و غارت سے خوفزدہ ہو کر دوبارہ ایسی لعنت سے بچنے کیلئے اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ تشکیل دیا بین الاقوامی قوانین وضع کئے۔ اقوام متحدہ اور نئے عالمی نظام کی تشکیل کا بنیادی مقصد دنیا میں پائیدار امن کا قیام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی روک تھام کرنا تھا۔ اگرچہ گذشتہ 70 سالہ تاریخ ایسے غیر انسانی اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھری پڑی ہے جن کا ارتکاب موجودہ عالمی نظام پر حکمفرما طاقتوں نے کیا ہے لیکن بعض ایسے خاص واقعات ہیں جو عالمی طاقتوں کا حقیقی چہرہ واضح کرنے کیلئے کسی وضاحت کے محتاج نہیں اور ان طاقتوں کیلئے چیلنج ثابت ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے عالمی طاقتوں کے چہرے سے انسانی حقوق اور جمہوریت جیسے خوبصورت نقاب اتار پھینکے ہیں اور اب ان کی پروپیگنڈا مشینری بھی ان کا اصلی چہرہ چھپانے میں ناکام ہو چکی ہے۔
 
انہیں واقعات میں سے ایک سعودی اصلاح پسند صحافی جمال خاشقجی کا وحشیانہ قتل ہے۔ امریکہ اور اس کے صدر نے تمام انسانی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس قتل کے ذمہ داران یعنی آل سعود رژیم کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کبھی سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے میں امریکی مفادات کا ذکر کرتے ہیں تو کبھی ایران کا مقابلہ کرنے میں سعودی عرب کی اہمیت کو سامنے لاتے ہیں اور اس طرح ایک وحشیانہ جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ دیگر مغربی ممالک بھی سعودی صحافی جمال خاشقجی کا سعودی قونصلیٹ میں سفاکانہ قتل پر سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے پر پابندی کی بات کرتے ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو شش و پنج کا شکار ہو جاتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے سعودی حکومت کو فراہم کئے جانے والے ہتھیار یمن میں بیگناہ شہریوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ یمن میں انجام پانے والے سعودی جرائم جمال خاشقجی کے قتل سے کہیں زیادہ سفاکانہ اور بے رحمانہ ہیں۔ گذشتہ چار سالوں میں ہزاروں بچے شہید ہو چکے ہیں جبکہ کروڑوں بیگناہ شہری قحطی اور وبائی امراض کی زد میں ہیں۔
 
خطے سے متعلق تمام امریکی پالیسیوں کے پیچھے اسرائیل کا کردار چھپا ہوا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا نشانہ بھی ایرانی عوام ہیں۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم نے نہ صرف جمال خاشقجی بلکہ سعودی حکومت کے مخالف سینکڑوں شیعہ جوانوں کو تلوار اور الیکٹرک آرے کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ گذشتہ چند ماہ کے دوران مظلوم فلسطینی قوم کے 200 افراد شہید جبکہ ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔ شہداء میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیلی فوجیوں نے سیدھی گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ بحرین میں عام شہری بنیادی انسانی حقوق تک سے محروم کئے جا چکے ہیں۔ بحرین کی ڈکٹیٹر حکومت اپنے ہی شہریوں کی شہریت ضبط کر کے انہیں ملک بدر کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ دنیا والوں کی آنکھوں کے سامنے انجام پا رہا ہے لیکن کہیں سے کوئی آواز اٹھتی سنائی نہیں دیتی۔ اس افسوسناک صورتحال کی بنیادی وجہ موجودہ عالمی نظام کی غیر انسانی پالیسیاں ہیں جن کا بنیادی مقصد عالمی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ ہے چاہے اس کیلئے دنیا کے انسانوں کا خون ہی کیوں نہ چوسنا پڑے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ عالمی طاقتیں اپنی غیر انسانی پالیسیوں کا اجراء انسانی حقوق، جمہوریت اور آزادی جیسے خوبصورت نعروں کی آڑ میں کر رہی ہیں۔
 
دنیا پر حکمفرما ظالمانہ عالمی نظام سے چھٹکارا پانے کا واحد راہ حل اقوام عالم کی بیداری میں مضمر ہے۔ صرف قوموں کی بیداری ہی امریکہ اور مغربی طاقتوں کے پنجوں سے دنیا کو نجات دلا سکتی ہے اور ان طاقتوں کی قتل و غارت اور لوٹ مار کا روک تھام کر سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ عالمی نظام ظالمانہ ہے اور اس ظالمانہ نظام کے خلاف برسر پیکار ممالک عالمی طاقتوں کی انتقامی کاروائی کا نشانہ بن رہے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 758125
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب