1
Monday 29 Oct 2018 22:19

معاشرہ، ثقافت، سیاست اور اربعین

معاشرہ، ثقافت، سیاست اور اربعین
تحریر: رضا دہکی

اربعین محض ایک مذہبی روداد کا نام نہیں جیسا کہ عاشورا بھی محض مذہبی واقعہ نہ تھا۔ اربعین ایک لحاظ سے عاشورا کا تسلسل ہے؛ اسی عقیدے کا تسلسل جو آزادی اور ظلم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنے پر مبنی ہے۔ اس عقیدے کا تسلسل کہ آزادی کو دین داری پر فوقیت حاصل ہے۔ دوسری طرف اربعین بذات خود ایسے طور طریقے سے وفاداری کے اظہار کا نام ہے جو نہ صرف چالیس دن بلکہ چالیس برس بھی جاری و ساری رہے گا۔ لیکن عاشورا کی میراث صرف اسی حد تک محدود نہیں ہے۔ عاشورا اسلام میں سیاست کی تعریف میں اہم موڑ تھا اور ہے۔ دس محرم سن 61 ہجری کی ظہر کے بعد عاشورا اپنے تمام اجزا اور عناصر کے ہمراہ ایک ثقافتی محور کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ امام حسین علیہ السلام کی تحریک، ان کے اصحاب، ان کے عاشورا اور عشرہ محرم الحرام میں برپا ہونے والی عزاداری سے پیدا ہونے والی ثقافت کے اثرات نہ صرف شیعہ علاقوں میں منعقد ہونے والی مختلف روایتی عزاداری پر ظاہر ہوئے بلکہ ادبیات، فن اور حتی ان سے بڑھ کر سماجی طور طریقوں میں بھی ظاہر ہوئے ہیں۔
 
گذشتہ چودہ صدیوں کے دوران عاشورہ اور اربعین، یہ دو اہم رودادیں بہت پھل پھول گئی ہیں اور موجودہ حالات پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی تحریک میں محرم الحرام 1961ء میں انتہائی تیزی آئی۔ معروف انقلابی اسکالرز جیسے علی شریعتی اور شہید مرتضی مطہری کی زبان سے بیان ہونے والی محرم اور عاشورہ کی تعلیمات نے ایرانی عوام میں انقلابی سوچ پیدا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ حتی ایران میں سرگرم سوشلسٹ سوچ رکھنے والے گروہ بھی عدالت علی (ع) اور قیام حسین (ع) کے نعرے لگا کر مسلمان عوام کی توجہ حاصل کرنے اور انہیں اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی عاشورائی ثقافت کی بنیاد پر عراق کی تھونپی گئی آٹھ سالہ جنگ میں "مقدس دفاع" کی ثقافت معرض وجود میں آئی۔ کربلا میں حق اور باطل کے درمیان معرکہ آرائی کو بنیاد بنا کر اسلامی انقلاب کے دفاع کو مقدس ظاہر کیا گیا اور شہادت ایک مثبت قدر بن کر سامنے آئی۔
 
آج جبکہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کو چالیس برس گزر چکے ہیں، عاشورہ اور اربعین اس کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی ڈھانچے میں رچ بس چکا ہے۔ اگر کبھی کہا جاتا تھا کہ محرم اور صفر نے اسلام کو زندہ رکھا ہے تو آج یہ کہنا درست ہو گا کہ محرم اور صفر نے اسلام کے علاوہ اسلامی جمہوری نظام کو بھی زندہ رکھا ہے۔ آج عاشورہ اور اربعین پوری اسلامی دنیا پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔ عاشورہ اور اربعین کے موقع پر عالم اسلام میں اتحاد اور وحدت کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ پوری دنیا سے نہ صرف مسلمان بلکہ ہر دین سے تعلق رکھنے والے افراد امام حسین علیہ السلام کی محبت میں کربلا کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔ گویا عالمی سطح پر ایک نیا معاشرہ تشکیل پا رہا ہے۔ ایسا معاشرہ جس کی بنیاد امام حسین علیہ السلام کی محبت اور عشق پر استوار ہے۔ اس معاشرے میں انسانی اقدار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایثار اور فداکاری کا وہ جذبہ جس کا بے مثال نمونہ خود امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں پیش کیا آج کربلا کی محوریت میں تشکیل پانے والے اس معاشرے پر حکمفرما ہے۔
 
عاشورہ اور اربعین کے ذریعے معرض وجود میں آنے والا یہ معاشرہ ایک نئی ثقافت اور تہذیب و تمدن کی بنیاد بھی رکھ رہا ہے۔ یہ نئی ثقافت انسانی اور اسلامی بھائی چارے، محبت، ایثار، خدمت کے جذبے اور باہمی احترام پر استوار ہے۔ آج جہاں عالمی استعماری قوتیں دین مبین اسلام کے خلاف شیطانی سازشوں میں مصروف ہیں اور داعش جیسے وحشی گروہ تشکیل دے کر اور انہیں اسلامی لبادہ اوڑھا کر اسلام کے خوبصورت چہرے کو مسخ کر کے پیش کرنے کیلئے کوشاں ہیں وہاں دوسری طرف اربعین کا عظیم اجتماع اسلام کا حقیقی چہرہ آشکار کر رہا ہے۔ استعماری قوتیں دنیا میں دین مبین اسلام کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحانات سے شدید خوفزدہ ہے۔

امریکہ اور مغربی طاقتیں محسوس کر رہی ہیں کہ حتی مغربی ممالک میں عوام تیزی سے اسلام کی طرف کھنچے چلے آ رہے ہیں لہذا انہیں اپنی بقا خطرے میں پڑتی نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسلام کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈے کا منصوبہ تیار کیا جس کے تحت داعش جیسے غیر انسانی دہشت گرد گروہ تشکیل دیئے گئے اور انہیں اسلامی رنگ دے کر پیش کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی میڈیا عاشورہ اور اربعین کے موقع پر کربلا میں برپا ہونے والے عظیم اجتماعات کا مکمل بائیکاٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو چھپانے سے چھپتی نہیں۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت تو تبدیل نہیں ہو جاتی۔ انشاءاللہ بہت جلد اربعین کی بنیاد پر تشکیل پانے والی ثقافت اور تہذیب و تمدن طاغوتی طاقتوں کو اپنے سیلاب میں بہا لے جائے گی۔
 
خبر کا کوڈ : 758447
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب