0
Wednesday 5 Dec 2018 01:52

اے اہل قلم ذوق قلم خوب ہے لیکن۔۔۔

اے اہل قلم ذوق قلم خوب ہے لیکن۔۔۔
تحریر: محمد حسن جمالی
 
قلمی طاقت بہت بڑی طاقت ہوتی ہے، کسی بھی ملک اور قوم کی ترقی اور تنزلی میں اہل قلم کا کردار سب سے نمایاں ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں تعلیم یافتہ طبقوں کے پسندیدہ شعبوں میں سرفہرست صحافت کا نام شامل ہےـ یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ صحافت کا شعبہ وہ واحد شعبہ ہے، جس میں فعال رہنا تمام پڑھے لکھے افراد کی دلی خواہش ہوتی ہے، کیونکہ ہر صاحب شعور انسان معاشرتی اور اجتماعی مسائل کو دور کرنے میں اپنا حصہ ڈالنے کی آرزو رکھتا ہے، وہ لوگوں کو سیاسی، مذہبی اور سماجی مسائل کے حوالے سے حقائق سے باخبر رکھنا چاہتا ہےـ ظاہر سی بات ہے کہ اس آرزو اور چاہت کی تکمیل دو صورتوں میں انسان کے لئے ممکن ہو جاتی ہے، جو اظہار بیان اور کتابت سے عبارت ہیں۔
 
ماضی میں وسائل کی محدودیت کے باعث لوگوں تک مافی الضمیر پہنچانے کا بڑا وسیلہ بیان تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز میں تبدیلی رونما ہوئی ہے، علم اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا ہے، دور حاضر میں نت نئے وسائل کی فراہمی نے نسل جدید کے لئے لکھنے اور پڑھنے کو آسان بنا دیا ہےـ آج کی نسل جدید وسائل استعمال کرتی ہوئی منٹوں میں اپنا پیغام دوسروں تک پہنچا سکتی ہےـ فیس بک کی دنیا پر ہی غور کیجئے کہ جسے اب تو ایسے افراد بھی استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، جو ان پڑھ ہیں، جنہیں شاید اپنا نام بھی لکھنا نہیں آتا، مگر معاشرے میں اس کا استعمال اس قدر عام ہوا ہے کہ فیس کا استعمال کرنا فیشن میں تبدیل ہوچکا ہے، جس کے سبب نابالغ بچے بھی فیس بک کی دنیا میں اپنا قیمتی وقت ضایع کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، لیکن باشعور پڑھا لکھا طبقہ اس وسیلے سے بھرپور استفادہ کرتا ہے، وہ مختصر وقت میں اس کے توسط سے ہزاروں لوگوں کے افکار پر مثبت اثر چھوڑ دیتے ہیں، وہ اس کے ذریعے لوگوں کو حقائق سے باخبر کرکے باارزش کام کرتے ہیں۔
 
اگر غور کیا جائے تو فیس بک پر نسل جدید کی اکثریت اپنا پیغام تحریری شکل میں دوسروں تک منتقل کرتی ہےـ بلاشبہ اس وسیلے نے لکھاریوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہےـ اس کے علاوہ قومی اور ملی اخبارات میں لکھنے والوں کی تعداد بھی بڑھتی ہی جا رہی ہے، لیکن محدود افراد کو چھوڑ کر ہمارے پاکستان کے لکھاریوں کا بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ زیادہ تر خشک موضوعات پر قلم اٹھاتے ہیںـ وہ لکھنے کے لئے ترجیحی بنیاد پر موضوع انتخاب کرنے پر توجہ نہیں دیتے، جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں جان نہیں ہوتی، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ نہ ہر لکھنے والا قیمتی ہوتا ہے اور نہ ہر تحریر بلکہ وہ قلمکار باآرزش ہوا کرتا ہے، جو ترجیحی بنیاد پر عنوان انتخاب کرکے لکھتا ہے اور اپنی تحریر میں قوموں کو فقط مسائل کی نشاندہی کرانے کے بجائے ان کا راہ حل بھی بتا دیتا ہے، وہ صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ اصلاحی راستوں کی طرف بھی لوگوں کی ہدایت کرتا رہتا ہےـ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے اوصاف کے حامل افراد پاکستان کے اول درجے کے کالم نگاروں سے لیکر ادنیٰ درجے کے لکھاریوں تک میں خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین، مسئلہ یمن، مسئلہ کشمیر، مسئلہ حقوق خطہ بے آئین گلگت بلتستان وہ مسائل ہیں، جن پر ترجیحی بنیاد پر قلم اٹھانا ضروری ہے، لیکن ان اہم موضوعات پر مستقل مضمون لکھنا تو درکنار آج کے ہمارے لکھاری اپنے پسندیدہ موضوعات کے ضمن میں ان کی طرف اشارہ تک نہیں کرتے، جبکہ ان موضوعات پر لکھنا نہ فقط قلمکاروں کا منصبی و اخلاقی فریضہ ہے بلکہ اقتضاء مسلمانی بھی ہےـ یمن، کشمیر اور فلسطین میں مسلمان جل رہے ہیں، وہ مسلمانوں کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے باسی اکہتر سالوں سے بنیادی آئینی حقوق سے محروم ہیںـ غرض مذکورہ مقامات پر مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، ظلم کے خلاف احتجاج کرنا، بولنا اور لکھنا ضروری اور خاموش رہنا جرم ہےـ آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے قلمکار ظالم و غاصب حکمرانوں کی چاپلوسی اور مدح و تعریف میں زندگی بھر لکھتے رہتے ہیں، مگر مظلوموں کے دفاع میں ایک جملہ تک انہیں لکھنے کی توفیق نہیں ملتی۔

ملکی یا غیر ملکی اداکار یا گلوکار کی موت پر تو وہ کئی کئی صفحے لکھ کر وقت ضائع کرتے ہیں مگر یمن میں ہزاروں کی تعداد شیر خوار بچے آل سعود کے مظالم کی چکی میں پسنے پر انہیں رحم نہیں آتا، کیا یہ بے حسی کی انتہا نہیں؟ کیا یہ مردہ ضمیری کی علامت نہیں؟ کیا یہ تعصب اور بغض بے جا کی نشانی نہیں؟ کیا یہ قلم کی حرمت پامال کرنا نہیں؟ کیا یہ پتھر دلی کا کھلا اعلان نہیں؟ کیا یہ اسلام سے ناآشنائی کا اعتراف نہیں؟ کیا یہ بے بصیرتی اور جہل مرکب کا واضح اظہار نہیں؟؟ پس ضروری ہے کہ ہمارے قلمکار اہم اور مہم موضوعات کی تشخیص کرکے لکھنے میں اپنا وقت صرف کریں اور تمام تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر ظالم کے خلاف اور مظلوم کی حمایت میں لکھ کر دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہونے کی کوشش کریں۔

آخر میں خیبر صہون تحقیقی ویب سائٹ سے امام علی کی وصیتوں کا ایک اقتباس پیش کر رہا ہوں، جس سے اندازہ کریں کہ امام علی (ع) نے مظلوم کی حمایت کرنے کی کتنی تاکید کی ہے، یہ وہ وصیتیں ہیں، جو کسی عام انسان کی وصیتیں نہیں بلکہ معروف اہل سنت عالم ابو احمد حسن بن عبدﷲ بن سعید عسکری کے بقول: "اگر حکمت عملی میں سے کوئی ایسی چیز پائی جاتی ہے، جسے سنہری حروف سے لکھا جانا چاہئے تو وہ یہی رسالہ ہے، جس میں امام علی علیہ السلام نے علم کے تمام ابواب، سیر و سلوک کی راہوں، نجات اور ہلاکت کی تمام باتوں، ہدایت کے راستوں، مکارم اخلاق، سعادت کے اسباب، مہلکات سے نجات کے طریقوں اور اعلیٰ ترین درجے کے انسانی کمال تک پہنچنے کی راہوں کو بہترین الفاظ میں بیان کیا ہے۔"

امام علی کے مخاطب بظاہر آپ کے فرزند ہیں مگر حقیقت میں آپ نے اپنی حکیمانہ گفتگو میں حقیقت کے متلاشی تمام انسانوں کو مخاطب کیا ہے، اس وصیت کا اہم حصہ انسان کی خود سازی پر توجہ ہے، خود سازی کے ساتھ ساتھ اس وصیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کس طرح امام علی علیہ السلام دوسروں کے بارے میں سوچتے تھے اور کس طرح انہیں انسانیت کی فکر رہتی تھی۔ انہوں نے رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے زندگی کے تجربات کو ان کے ساتھ بانٹنے کی کوشش کی ہے، لہذا ہم پر بھی لازم ہے کہ اگر ہم محبت علیؑ کا دم بھرتے ہیں تو علی کی طرح پہلو میں ایک ایسا دل بھی رکھیں، جو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے تمام ہم نوعوں کے لئے دھڑکے، جس کا ہم و غم اپنی ذات نہ ہو بلکہ پوری انسانیت ہو۔

اسی لئے امام علی علیہ السلام نے نہ ظالم کے لئے کچھ بیان کیا کہ ظالم کیسا ہو تو اسکی مخالفت کرنا ہے، نہ مظلوم کے لئے بیان کیا کہ مظلوم کون ہو تو حمایت کرنا ہے بلکہ مطلق طور پر بیان کیا ظالم چاہے تمہارے قبیلہ کا ہی کیوں نہ ہو، تمہارے دین کا ماننے والا ہی کیوں نہ ہو، تمہارا کوئی اپنا ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر وہ ظلم کرے تو علی کا مطالبہ ہے کہ ہرگز خاموش نہ بیٹھنا، اس کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جانا، اب مظلوم چاہے کوئی غیر ہو، جس سے تمہارا تعلق نہ ہو، لیکن چونکہ وہ مظلوم ہے، اسکی حمایت کرنا تمہارا فرض ہے۔ آج ہمیں اپنی ذات کے حصار سے نکل کر عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت کے بارے میں سوچنا ہوگا، یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارا جس دین سے تعلق ہے، وہ ہمیں کس راستہ پر لے کر جانا چاہتا ہے اور ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ہمیں اپنی آنکھیں کھولنا ہوں گی، اجتماعی شعور اپنے اندر بیدار کرنا ہوگا؟ سیاسی تجزیہ کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

عالمِ اسلام ایک عرصے سے جس ابتلاء و آزمائش سے دوچار ہے، درد مند، حلقے اس پر سراپا اضطراب ہیں، لیکن صورت حال کی یچیدگی اور مسائل کی سنگینی کچھ اس نوعیت کی ہے کہ کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا۔ یہ مسائل دو قسم کے ہیں۔ ایک عالمِ اسلام کے اندرونی اور باہمی مسائل و تعلقات۔ دوسرے جارح استعماری طاقتوں کے پیدا کردہ مسائل و مشکلات۔ اول الذکر میں ہر مسلمان ملک میں اندرون ملک اسلامی اور غیر اسلامی طاقتوں کی کشمکش اور ان کے درمیان محاذ آرائی اور کئی اسلامی ممالک کا آپس میں باہمی تصادم ہے، کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف تو غاصب اسرائیل مظلوم فسلطینیوں کا خون بہا رہا ہے تو دوسری طرف اسلام کا نام لینے والے سعودی عرب جیسے ممالک اپنے ہی بھائیوں کو یمن میں خاک و خوں میں غلطاں کر رہے ہیں۔ قیمتی قلمکار وہ ہیں جو حقائق پر دل کھول کر لکھتے ہیں اور ان کے پیش نظر قلمی قوت سے انسانیت کی خدمت ہوتی ہے، جو ان اہداف کو پس پشت ڈال کر الفاظ بازی کرتے ہوئے سیاہی، کاغذ اور عمر ضائع کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ندامت کے سوا کچھ نہیں۔۔۔۔
اے اہل قلم ذوق قلم خوب ہے لیکن 
جس قلم سے مظلوم کی مدد نہ ہو وہ قلم کیا۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 764970
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب