0
Friday 7 Dec 2018 00:30

سویڈن میں یمن امن مذاکرات

سویڈن میں یمن امن مذاکرات
تحریر: احمد کاظم زادہ

یمن کیلئے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹین گریفتھس نے یمن جنگ کے فریقین کے مابین امن مذاکرات کیلئے اس بار سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں نئی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ انصاراللہ یمن کا وفد منگل کے روز کویت کے ہوائی جہاز کے ذریعے اسٹاک ہوم پہنچا۔ اس دوران ان کی جانب سے 50 زخمی افراد کو علاج معالجے کیلئے عمان کے دارالحکومت مسقط منتقل کرنے پر مبنی مطالبہ پیش کیا گیا جسے منظور کر لیا گیا۔ دوسری طرف یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کے وفد نے آج بروز جمعرات کو اسٹاک ہوم پہنچنا تھا۔ انصاراللہ یمن نے فوجی میدان میں برتری کے باوجود ہمیشہ امن کے قیام کیلئے سیاسی بات چیت کیلئے پہل کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاک ہوم میں بھی انصاراللہ یمن کا وفد پہلے حاضر ہو چکا ہے۔ لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر مدمقابل کی جانب سے ایسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یمن کے سابق صدر منصور ہادی یمنی عوام کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ سعودی عرب کی سربراہی میں جارح اتحاد کی نمائندگی کرتے ہیں جبکہ سعودی اتحاد میں یمن میں قیام امن کی خاطر سیاسی راہ حل اپنانے کی طرف کوئی رجحان نظر نہیں آتا۔
 
البتہ اس بار عرب اتحاد میں شامل متحدہ عرب امارات نے سویڈن میں ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے لیکن پھر بھی سعودی عرب کی جانب سے ان مذاکرات کی حمایت کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اگرچہ سعودی عرب کے اندر سعودی سلطنتی خاندان کے بعض شہزادے جو موجودہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے مخالف سمجھے جاتے ہیں، نے یمن میں جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ یہ جنگ ابتدا سے ہی غلط جنگ تھی لیکن خود موجودہ سعودی حکومت جس نے یمن جنگ کا آغاز کیا ہے، میں یہ جنگ ختم کرنے کے کی خواہش کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ سعودی حکومت سیاسی بات چیت کو اپنے لئے مزید وقت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ لہذا اگرچہ اسٹاک ہوم میں امن مذاکرات شروع ہوا چاہتے ہیں لیکن سعودی عرب کی جانب سے یمنی عوام پر بمباری اور ان کے قتل عام کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی ولیعہد اسرائیل کے مفادات کو پہلی ترجیح دیتے ہیں اور چونکہ اسرائیل یمن جنگ کا اختتام نہیں چاہتا لہذا وہ بھی سیاسی مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے یمن کا مسئلہ حل کرنے میں زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے مشکوک قتل کے بعد سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی سب سے زیادہ حمایت اسرائیل کی جانب سے کی گئی ہے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل ہر گز نہیں چاہتا یمن کا بحران حل ہو جائے کیونکہ ایسی صورت میں خطے میں جاری دیگر بحران جیسے شام کا بحران اور فلسطین کا بحران بھی حل ہونے کی جانب چل پڑیں گے اور خطے میں امن و امان اور استحکام پیدا ہو جائے گا جس کا سب سے زیادہ نقصان اسرائیل کو برداشت کرنا پڑے گا۔ خطے میں جس قدر سیاسی استحکام اور امن و امان کی صورتحال بہتر ہو گی اسی قدر اسرائیل پر دباو بڑھتا جائے گا۔ امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں شامل دائیں بازو کے عناصر جو اسرائیل سے انتہائی قریب ہیں کی بھی بالکل یہی صورتحال ہے۔ لیکن امریکہ میں مختلف سیاسی حلقوں کے درمیان خلیج اور حالیہ مڈٹرم الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی سو فیصد حمایت ممکن نہیں رہی۔ اس کی ایک مثال منگل کے دن امریکی انٹیلی جنس ادارے سی آئی اے کے سربراہ کی جانب سے سینیٹ اراکین کو جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کے بارے میں بریفنگ دینا ہے۔ امریکی سینیٹرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی حکومت کی نامحدود حمایت پر شدید پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں سویڈن میں انجام پانے والے حالیہ مذاکرات سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔
 
خبر کا کوڈ : 765303
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب