0
Friday 7 Dec 2018 12:20

امریکہ کو اسکی اوقات میں رکھا جائے۔۔۔۔۔!

امریکہ کو اسکی اوقات میں رکھا جائے۔۔۔۔۔!
تحریر: تصور حسین شہزاد

 لیجیئے صاحب! ٹرمپ بابا کا خط کیا آیا ہم خوشی سے پُھولے نہیں سما رہے۔ ٹرمپ نے ہمارے خوددار وزیراعظم کو خط لکھا ہے، جس میں امریکہ نے ایک بار پھر ہماری خدمات مانگی ہیں۔ جی ہاں، امریکہ نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کیلئے بھی ہمارا ہی کندھا استعمال کیا اور ہمارے ہی کندھے پر بندوق رکھ کر چلائی گئی۔ اس سے جو آگ لگی، اب ایک بار پھر کہا جا رہا ہے کہ یہ جو آگ آپ (پاکستان) نے لگائی تھی، اب اُسے بجھائیں بھی آپ خود۔ امریکہ کی اس ’’ہدایت‘‘ پر بھی ہم خوش ہیں کہ چلیں حضور ہمیں یاد تو کیا۔ اب امریکہ کے صدر نے ہمارے وزیراعظم کو جو خط لکھا ہے، اس کا متن کیا ہے، انداز تخاطب کیا ہے، اس میں مطالبہ کیا ہے، اس کا تو علم نہیں کیونکہ وہ خط منظر عام پر نہیں آیا، مگر اتنا ہی بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے خط لکھا ہے اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان کیساتھ ہماری بات چیت کیلئے زمینہ سازی کی جائے۔ امریکہ ہمارا وہ مطلبی دوست ہے، جس کو ہماری ’’قدر‘‘ صرف اس وقت ہوتی ہے، جب اسے ہماری ’’خدمت‘‘ کی ضرورت ہو۔ اب جب امریکہ افغانستان میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ ڈیزی کٹرز کی بارش کے باوجود وہ افغانوں کو رام نہیں کرسکا۔ اندھا دھند بمباری بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی، حتیٰ ’’بمبوں کی ماں‘‘ کا تجربہ بھی یہیں کیا گیا مگر امریکہ کو کامیابی نہ مل سکی۔ اس ناکامی پر بھی الزام پاکستان کے سر دھر دیا گیا کہ پاکستان ہی اس دہشتگردی کا ذمہ دار ہے جبکہ زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ پاکستان نے امریکہ کی شہہ پر ہی ’’کرائے کے ورکر‘‘ کا کردار ادا کیا۔

بدنامی کا یہ ’’تاج‘‘ ضیاء الحق نے پاکستان کے سر ایسا سجوایا کہ آج تک پوری دنیا میں پاکستان کی شناخت ایک ’’رینٹل کنٹری‘‘ کی بن گئی ہے، حتیٰ دنیا تو ہماری فوج کو بھی ’’رینٹل آرمی‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب نے اپنے نام نہاد 41 رکنی اتحاد کیلئے پاکستانی آرمی چیف کا ہی انتخاب کیا اور ہماری فوج نے انہیں کہا کہ آپ ذرا انتظار کرلیں، ہم آرمی چیف کو فارغ(ریٹائرڈ) کریں گے تو آپ کیلئے ان کی خدمات دیدی جائیں گی۔ بس سعودیوں نے انتظار کیا اور جب راحیل شریف اپنی پوری شرافت کیساتھ سعودی عرب پہنچے تو حکم دیا گیا کہ ’’ہمارے سارے دشمنوں کو اُڑا دو۔‘‘ اب کھلنڈرا شہزادہ کیا جانے جنگی زموز کیا ہوتے ہیں، وہ تو راحیل شریف نے سمجھایا کہ جنگیں ایسے نہیں ہوتیں، دنیا تو دنیا ہے، سعودی عرب کی سرزمین نہیں کہ جہاں بادشاہ سلامت جس کی طرف انگلی اٹھائیں گے، بغیر پوچھے بتائے اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ اب سننے میں آیا ہے کہ بادشاہ سلامت راحیل شریف سے ناراض ہیں کہ وہ اُس انداز میں حکم کی تعمیل نہیں کر رہے، جس انداز میں عملدرآمد کیلئے اِن کی خدمات لی گئی ہیں۔

جہاں راحیل شریف پریشان ہیں، وہاں بادشاہ سلامت بھی مایوس ہیں۔ سعودی عرب میں اب حکومت کی اپنی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے اور ایک بار پھر انہیں پاکستان کی یاد ستانے لگی، یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے پہلے دورے کے موقع پر ’’صاف جواب‘‘ دے دیا گیا کہ ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ مگر بعد میں ہمارے ایک ’’موثر ادارے‘‘ نے سعودی حکمرانوں کو اُن کے آستینوں میں پلنے والے سانپوں کی ایک جھلک دکھائی تو بادشاہ سلامت کو ہوش آگیا اور انہوں نے عمران خان کو دوبارہ بلایا اور جھولی بھر دی۔ عزت و احترام کیساتھ رخصت کیا۔ اب ریاض فوج کے کنٹرول میں ہے، وہ اس لئے کہ شاہ سلمان کا اقتدار کہیں چھن نہ جائے، کیونکہ ہمارے ’’موثر ادارے‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بغاوت کے منصوبے گھر میں ہی تیار ہو رہے ہیں۔ بہرحال سعودی عرب میں ایک بڑی تبدیلی دروازے پر کھڑی ہے، کسی بھی وقت موقع ملا، اندر داخل ہو جائے گی اور ’’سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، جب لاد چلے گا بنجارہ۔‘‘

بات ہو رہی تھی امریکہ کے خط کی اور ہم سعودی عرب جا پہنچے، تو صاحب! یہ امریکہ مطلبی دوست ہے، ہماری چاپلوسی کرکے ہمیں استعمال کر لیتا ہے اور پھر استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتا ہے۔ افغانستان میں ہزیمت سے امریکہ کو بہت گالیاں سننا پڑ رہی ہیں، معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے اور انکل سام کی یہ خواہش ہے کہ معاملہ کسی طور نمٹ ہی جائے اور وہ عزت سے افغانستان سے رخصت ہو جائیں، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس شخصت کو افغانستان و پاکستان کے دورے پر بھیجا ہے، جس نے یہ آگ لگوائی تھی، اس کا نام زلمے خلیل زاد ہے، جو ہے تو افغانی مگر سوچتا امریکہ کیلئے ہے، اسی لئے امریکہ میں اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ امریکہ میں چند ’’انسان دشمنوں‘‘ کا ایک گروپ ہے، اس گروپ کی تعداد 18 سے 20 افراد ہے۔ یہی وہ افراد ہیں جنہوں دنیا کا امن داؤ پر لگا رکھا ہے۔

انہوں نے ہی عراق میں صدام کا تختہ الٹنے کا مشورہ دیا، یہی وہ افراد تھے جنہوں نے افغانستان پر چڑھائی کی تجویز دی اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے امریکی صدر کو بتایا کہ پاکستان ہمارا بہترین ’’نوکر‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔ (پاکستان کی عزت کیلئے انہوں نے سرونٹ کا لفظ مٹا کر پارٹنر لکھ دیا تھا) پاکستان کو تھوڑی سی ہلہ شیری دے کر کسی بھی کام کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس گروپ میں ڈک چینی، رمز فیلڈ، وولفر وڈ، کرسٹان ٹام، کاٹان، رچرڈ پرل، لیوسی، تسکوٹر، لبی، ایلیٹ کوہن، جیب بش، کوہان اور زلمے خلیل زاد بھی شامل ہیں۔ مورخ جب بھی امریکہ کی غیر جانبدارانہ تاریخ لکھے گا تو ان افراد کے نام سرفہرست ہوں گے، جنہوں نے امریکہ کو تباہی کی آگ میں دھکیلا۔ بظاہر ان لوگوں نے نعرہ لگایا کہ وہ جمہوریت کیلئے ’’کام‘‘ کر رہے ہیں، مگر جمہوریت کے نام پر دنیا بھر میں ایسا خون خرابہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ کو تل پٹ کر دیا گیا۔ عراق میں صدام کو ہٹانے کے نام پر عراق کو تباہ کر دیا۔ افغانستان میں روس کو بنیاد پر بنا کر کابل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ ان کے بعد امریکی ہدف شام تھا، مگر شام کو ایران نے بچا لیا اور شیطانی سازش کو پہلی بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اب امریکہ نادم ہے کہ دنیا بھی بدل چکی ہے، اب وہ امریکہ کے رعب و دبدبہ کو اس انداز میں نہیں لیتی، جیسے اسے لینا چاہیئے، اب امریکہ کی ٹھاٹھ باٹھ ختم ہوتی جا رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ زلمے خلیل زاد کو خصوصی ٹاسک دیکر روانہ کیا گیا ہے۔ اب پاکستان کو محتاط انداز میں چلنے کی ضرورت ہے، اب وہ وقت نہیں کہ ایک آمر (ضیاءالحق) پاکستان پر قابض ہے اور وہ اپنی من مرضی کر لے گا، بلکہ ایک جمہوری حکومت اور نیا پاکستان ہے، نئے پاکستان میں پالیسیاں بھی نئی ہونی چاہیں، بھلے وزیر خارجہ پرانا ہے، مگر سوچ تو نئی ہے اور نئی سوچ کا تقاضا ہے کہ امریکہ کو اس کے اس مقام پر ہی رکھا جائے، جس کا وہ حقدار ہے۔
خبر کا کوڈ : 765336
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب