0
Monday 10 Dec 2018 00:25

فوجی میدان میں شکست کے بعد اسرائیل کی سفارتی میدان میں ناکامی

فوجی میدان میں شکست کے بعد اسرائیل کی سفارتی میدان میں ناکامی
تحریر: محمد مرادی

جمعرات 6 دسمبر کی رات امریکہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلامی مزاحمتی تنظیم حماس کے خلاف ایک قرارداد پیش کی جس کے نتیجے میں امریکہ اور اسرائیل کو اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں ایک اور ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ جنرل اسمبلی میں اس قرارداد پر ووٹنگ کے دوران 87 ممالک نے اس کے حق میں، 57 ممالک نے اس کے خلاف جبکہ 33 ممالک نے بے طرفی کا ووٹ دیا۔ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں حماس کی جانب سے نومبر میں مقبوضہ فلسطین پر راکٹ فائر کئے جانے کے عمل کی مذمت کی گئی تھی جبکہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران اور اسلامی مزاحمتی بلاک پر سیاسی میدان میں دباو ڈالنے کی بہت کوشش کی ہے۔ امریکہ نے پہلے ایران کی جانب سے حالیہ میزائل کے تجربوں کو سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کی خلاف ورزی ثابت کرنے کی کوشش کی جس میں وہ ناکام رہا۔ ایران کے خلاف سلامتی کونسل میں امریکہ کی شکست ایک حد تک متوقع تھی لیکن اس سے زیادہ اہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی ایک تنظیم (حماس) کے خلاف حالیہ ناکامی ہے۔
 
اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ نکی ہیلی نے جنرل اسمبلی میں اپنی قرارداد پر ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے تمام ممالک کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ وہ اس کی حمایت کریں۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے پہلے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف 15 قراردادیں منظور کی جا چکی ہیں۔ جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں اہم نکتہ عرب ممالک کا ووٹ تھا۔ عرب ممالک نے امریکہ کی جانب سے حماس کے خلاف پیش کردہ قرارداد کے خلاف ووٹ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگرچہ وہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے اور اس سے سازباز کرنے کی پالیسی پر کاربند ہیں لیکن عرب حکمرانوں پر عوام کی رائے عامہ کا اس قدر شدید دباو ہے کہ وہ اعلانیہ طور پر اسلامی مزاحمتی گروہوں کے خلاف اسرائیل کی حمایت کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔ اس قرارداد کے مسترد ہو جانے سے عربی مغربی عبری اتحاد کی جانب سے صدی کی ڈیل نامی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کو بھی شدید دھچکہ پہنچا ہے۔
 
اسرائیل کو اندرونی اور بیرونی سطح پر بہت زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کرپشن کے کیس میں پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے موجودہ حکومت بہت کمزور ہو گئی ہے۔ اسی وجہ سے کچھ ہفتے پہلے اسرائیل نے غزہ کے اندر ایک کمانڈو ایکشن کا منصوبہ بنایا جس کا مقصد حماس کے اعلی سطحی کمانڈر کو اغوا کرنا تھا۔ لیکن یہ آپریشن مکمل طور پر ناکام ہو گیا اور حماس سے جھڑپ میں اسرائیلی کمانڈوز کا ایک اعلی سطحی کمانڈر بھی مارا گیا۔ اس کے بعد چند روز کیلئے اسرائیل اور حماس میں فوجی جھڑپ کا آغاز ہو گیا جس کے دوران حماس نے مقبوضہ فلسطین پر تقریباً 500 راکٹ فائر کئے اور اسرائیلی فوجیوں کی ایک بس کو بھی گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا۔ آخرکار اسرائیلی حکومت نے جنگ بندی کی درخواست دی اور عارضی جنگ بندی برقرار ہو گئی۔ اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے جنگ بندی کے خلاف احتجاج کے طور پر استعفی دے دیا اور بنجمن نیتن یاہو کی حکومت پہلے سے زیادہ کمزور اور متزلزل ہو گئی۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل آرمی نے مقبوضہ فلسطین کے شمال میں نادرن شیلڈ نامی آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد حزب اللہ لبنان کی سرنگوں کا سراغ لگا کر انہیں تباہ کرنا بیان کیا گیا ہے۔
 
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو امریکہ اور اسرائیل دنیا کے ممالک کو اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کے خلاف ساتھ ملانے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ امر واشنگٹن کیلئے ایک نابرابر مقابلے میں تلخ شکست کے مترادف ہے۔ سفارتی میدان میں امریکہ اور اسرائیل کی یہ ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ 70 برس گزر جانے کے بعد بھی فلسطینیوں کی جانب سے اپنے جائز حقوق کے حصول اور آزادی کی جدوجہد کو عالمی سطح پر قانونی جواز حاصل ہے۔ اسی طرح فلسطینیوں کے خلاف امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں پیش کردہ قرارداد کا مسترد ہو جانا درحقیقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئل فلسطین کے حل کیلئے پیش کردہ "صدی کی ڈیل" نامی منصوبے پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر 2017ء کے دن ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیرقانونی اقدام اٹھاتے ہوئے قدس شریف کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا اور اعلان کیا کہ وہ تل ابیب میں واقع امریکی سفارتخانہ قدس شریف منتقل کر دیں گے۔ لیکن آج ان کے اس غیرقانونی اقدام کے ایک سال بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینیوں کے خلاف ان کی قرارداد مسترد کر کے واضح کر دیا ہے کہ عالمی برادری نہ صرف امریکی صدر کے اس فیصلے کے حق میں نہیں بلکہ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کو ایک مجرم رژیم سمجھتی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 765797
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب