0
Saturday 15 Dec 2018 09:04

پاکستان کے حق میں یوٹرن

پاکستان کے حق میں یوٹرن
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

پبلک اکائونٹس کمیٹی، قائمہ کمیٹیوں کا قیام اور ان کے عہدیداروں کا تقرر پارلیمانی نظام کا جزو ہے۔ معمول کے طریقہ کار کے مطابق یہ تقرریاں ہو جایا کرتی تھیں، مگر اس بار اس عمل میں تعطل پیدا ہوا، جس کی وجہ سے پارلیمان تقریباً تین ماہ تناؤ کی کیفیت کا شکار رہا۔ اس تعطل کا خاتمہ ایک خوش آئند ملاقات پر ہوا، جسے اس حوالے سے غیر متوقع بھی کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ماضی قریب تک پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن ارکان میں سے منتخب کرنے کا سختی سے انکار کرتی رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ کسی قانون یا ضابطے کی رو سے قائدِ حزب اختلاف کو ایک اہم پارلیمانی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنا لازمی نہیں، یہ محض ایک روایت تھی اور روایت توڑی جا سکتی ہے۔ تاہم بالآخر حکومت نے اس سلسلے میں لچک اور رواداری کا مظاہرہ کیا، جو سراہے جانے کے قابل ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں کے بغیر قانون سازی کا عمل ایک طرح سے تعطل کا شکار تھا، جبکہ ملک و قوم کا درد رکھنے والے معتبر حلقوں کی جانب سے بار بار یہ آواز اٹھائی جا رہی تھی کہ قائمہ کمیٹیاں بنیں گی تو ایوان چلے گا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ بنائے جانے سے گریز کی ایک وجہ یہ بیان کی جا رہی تھی کہ حال ہی میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی مسلم لیگ نون کی حکومت کے مالی معاملات بھی اسی کمیٹی کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ چنانچہ اگر شہباز شریف اس کے سربراہ ہوئے تو وہ اپنی جماعت کے معاملات پر نرم رویہ اختیار کریں گے۔ اصولی طور پر حکومت کا مؤقف درست تھا، بہرحال اب یہ معاملہ باہمی مشاورت سے طے کر لیا گیا ہے۔ جس سے یہ غمازی ہوتی ہے کہ مشاورت کا عمل حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعاون کے در وا کرسکتا ہے۔ قومی ایشوز پر یہ تعاون آئندہ بھی جاری رہنا چاہیئے۔

حکومت نے شہباز شریف کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا کر ایک انتہائی مثبت اقدام کیا ہے، جس کے ملکی سیاست پر بلا شبہ اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں انتہائی سطح کے بحران کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک نئی پارلیمانی روایت قائم ہوئی ہے، جس سے جمہوریت کو استحکام ملے گا۔ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل تاخیر کا شکار تھی، جبکہ قانون سازی اور رولز آف بزنس متاثر ہو رہے تھے۔ قائمہ کمیٹیاں بننے سے پارلیمانی امور میں ڈیڈ لاک از خود ختم ہو جائے گا۔ وزیراعظم جناب عمران خان نے اپوزیشن کی بات مان کر جمہوریت کی بہتری کے لئے جرأت مندانہ قدم اٹھایا۔ چنانچہ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین ورکنگ ریلیشن شپ مزید بہتر ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ فعال ہوگی اور ملکی و قومی مسائل کے حل کے لئے قانون سازی کا عمل پھر سے شروع ہو جائے گا۔

موجودہ پیش رفت سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں کمیٹیوں کی تشکیل کا جو عمل تقریباً چار ماہ سے تعطل کا شکار تھا، وہ تعطل اب ختم ہو جائے گا، کیونکہ اس سلسلے میں درپیش دشواریاں دور ہوگئی ہیں۔ اب یہ رکاوٹ ختم ہونیکے بعد فرض کیا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں بھی تحریکِ انصاف نئی سوچ کا مظاہرہ کرے گی اور یہاں بھی حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایک بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کی راہ ہموار ہو جائے گی، جس کا فائدہ بہرحال سیاست اور جمہوریت کو پہنچے گا۔ مرکز اور پنجاب میں تحریکِ انصاف کی جانب سے اپنے موقف میں جو دلیل پیش کی گئی تھی، اس میں یقینا وزن تھا، لیکن یہی دلیل تحریکِ انصاف نے خیبر پختونخوا میں اپنے سامنے نہیں رکھی اور وہاں اپنی ہی جماعت کے ایک رکن کو، جو ایوان کا اسپیکر بھی ہے، پبلک اکائونٹس کمیٹی کا سربراہ بنا دیا۔ چنانچہ پشاور میں پچھلے پانچ سال کے حسابات، جو تحریکِ انصاف کی حکومت کا دورانیہ تھا، یہی کمیٹی، اُسی اسپیکر کی سربراہی میں، دیکھے گی۔

اتفاق سے وہاں تحریکِ انصاف والوں کی طرف سے کسی ایسی خصوصی سب کمیٹی کی تجویز پیش نہیں کی گئی، جیسی وہ قومی سطح پر سامنے لائے اور حیرت انگیز طور پر اپوزیشن والوں نے بھی اس معاملے پر سوچ بچار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ مناسب ہوگا کہ اصولوں اور مساوات کے معاملات میں سیاست کے میدان میں بھی مستقل مزاجی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سربراہ کی اہمیت میں کچھ مبالغے کی آمیزش ہے۔ شاید یہ اہمیت میڈیا کی وجہ سے بڑھی، جو کمیٹی کی کارروائی بالخصوص سربراہ کے اقوال کو نمایاں کوریج دیتا ہے۔ اجلاس کی کارروائی میں نظم رکھنے کی حد تک تو سربراہ کا ایک کردار ضرور ہے، لیکن جہاں تک فیصلوں کا تعلق ہے، تو یہ کمیٹی میں اکثریتِ رائے سے ہی ہوتے ہیں۔ ایوان میں مختلف جماعتوں کے عددی تناسب کے مطابق اکثریت حکومتی جماعت اور اس کی حلیف جماعتوں کی ہی ہوگی۔

اس لئے اس معاملے میں شاید مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مسئلہ دراصل کچھ اور ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کمیٹی کے اراکین کمیٹی کے کام میں نہ تو وہ دلچسپی لیتے ہیں اور نہ ہی اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے سلسلے میں وہ عرق ریزی کرتے ہیں، جو کہ اس کمیٹی کے اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کے لئے بے حد ضروری ہے۔ ماضی کا تجربہ اور تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ کوئی بھی مکمل تیاری کے ساتھ نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی بھی سیاست کی نذر ہو جاتی ہے اور مالی بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں نظر انداز ہو جاتی ہیں، اس طرح ان پر کوئی ٹھوس فیصلہ ہو نہیں پاتا۔ ایسا کئی دہائیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے اور اگر موجودہ قیادت نے بھی اپنی روش نہ بدلی تو نئی اکائونٹس کمیٹیوں کا بھی ویسا ہی نتیجہ سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ اگر آڈٹ کا نظام مضبوط ہو اور آڈٹ محنت سے کیا گیا ہو تو نیب کا کام بہت کم ہو جائے۔

پاکستان جیسے ملک میں پارلیمانی نظام جمہوریت میں تحمل اور برداشت اول ترجیح ہوتی ہے، تاکہ پارلیمینٹ کا ماحول اس حد تک ضرور برقرار رہے کہ عوامی مفاد کے معاملے پر فیصلے ہو جائیں اور قانون سازی بھی ہو، لیکن اس نئی پارلیمنٹ میں ایسا بوجوہ نہ ہوا اور قانون سازی، انا، ضد اور محاذ آرائی کی وجہ سے نہ ہوسکی۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اراکینِ کمیٹی کی کارکردگی اور اس کے معیار کو ماپنے کا طریقِ کار وضع کرے، تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ منتخب نمائندے اپنے فرائض منصبی کس کامیابی سے ادا کر رہے ہیں۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ایجنڈے، پیش کردہ ایشوز پر بحث اور فیصلے ویب سائٹ پر بھی چڑھائے جانے چاہئیں۔ شہریوں کو پتہ ہونا چاہیئے کہ آڈٹ کرنے والوں کی جانب سے کیسی کیسی بدعنوانیوں کی نشان دہی کی جا رہی ہے اور ان پر ہمارے منتخب نمائندے بالآخر کیا فیصلے صادر فرما ہیں۔ اس سے بدعنوانی کے سدباب میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ جمہوریت میں جماعتیں اپنے اپنے منشور، پروگرام اور موقف پر قائم رہتی ہیں، تاہم پارلیمانی روایات اور قواعد کی پاسداری کرتی ہیں، ضروری ہے کہ تمام جماعتیں اور اراکین ان روایات اور اسمبلی قواعد کا پورا پورا لحاظ رکھیں اور ایوان کی کارروائی جاری رہنے دیں۔
خبر کا کوڈ : 766738
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے