0
Saturday 15 Dec 2018 19:24

ڈی سی کرم کے بعض عاقبت نااندیش اقدامات

ڈی سی کرم کے بعض عاقبت نااندیش اقدامات
تحریر: روح اللہ طوری

محترم زبیر احمد خان کرم ایجنسی کے ضلع کرم میں تبدیلی کے بعد دوسرے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ اس سے پہلے کرم ایجنسی کے آخری پولیٹیکل ایجنٹ محمد بصیر خان وزیر نے ڈپٹی کمشنر بن کر کرم کا پہلا ڈی سی بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ ان کے یہاں سے تبادلے کے بعد کچھ عرصے کے لئے سابق ایڈیشنل پی اے نصراللہ نے قائم مقام ڈی سی کی حیثیت چارج سنبھال کر کچھ عرصہ کیلئے فرائض انجام دیئے، جبکہ ان کے بعد محترم زبیر احمد خان کو مستقل ڈی سی کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ بقول مشران و عمائدین محترم ڈی سی ایک خوش اخلاق اور نہایت سنجیدہ شخصیت کے مالک ہیں۔ محترم ڈی سی صاحب کی شخصیت کچھ بھی ہو، کئی مواقع پر ان کی حرکتوں سے پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ جناب عالی ایک نہایت سادہ لوح انسان ہیں اور وہ ہر سنی سنائی بات کو بنیاد بناکر کارروائی کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے موصوف بوڑکی تشریف لے گئے اور کچھ اساتذہ کو ایک معمولی سی اور روایتی غلطی کا مرتکب پاکر انڈر رپورٹ کیا۔ وہ یوں کہ ایک ماسٹر صاحب موبائل کے ذریعے کسی کے ساتھ مصروف گفتگو تھے، اس پر انہوں نے محکمہ ایجوکیشن کے مقامی افسر ڈی ای او کو حکم دیا کہ ان اساتذہ کو نوکریوں سے مستقل طور پر برخاست کیا جائے۔ ڈی ای او جناب سید حسین آفریدی نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں، بلکہ یہ سیکرٹری ایجوکیشن کا اختیار ہے۔

اسکے کچھ ہی عرصہ بعد پاک افغان بارڈر (خرلاچی) میں مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات کے حق میں این ایل سی (کسٹم ہاوس) کے باہر روڈ پر دھرنا دیا تو اس دوران این ایل سی سے نکلنے والے ایک ڈرائیور نے دھرنے کا خیال رکھے بغیر اپنی گاڑی کو ہجوم پر چڑھا دیا۔ جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ جس کے بعد عوام نے مشتعل ہوکر مذکورہ ڈرائیور کو زد و کوب کیا۔ دھرنا شام تک جاری رہا، تاہم مقامی عمائدین کی سعی بسیار کے بعد دھرنا ختم کیا گیا۔ دھرنے کے اگلے روز محترم ڈی سی زبیر احمد خان صاحب نے بغیر کسی تفتیش اور تحقیق کے ایجوکیشن افسر سے خرلاچی کے تین سرکاری اساتذہ کو احتجاج میں شرکت کرنے کی پاداش میں معطل کرنے کی سفارش کی۔ ایجوکیشن افسر نے بھی بے بسی اور کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی تحقیق کے اپنے ماتحت تینوں اساتذہ کو نوکریوں سے معطل کر دیا۔

متعلقہ ادارے، علاقے اور متعلقہ سکولوں کے ساتھ رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ معطل شدہ اساتذہ میں سے ایک دو دن کی چھٹی لیکر پشاور گیا تھا، جبکہ دیگر دو بھی احتجاج کی بجائے اپنے اپنے سکولوں میں ڈیوٹی پر موجود تھے۔ اس دوران اہلیان علاقہ نے جب ایجوکیشن آفس سے رابطہ کیا تو انہوں نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ انہوں نے تعطل کا حکمنامہ ڈی سی کے حکم پر جاری کیا تھا۔ اس کے بعد ڈی سی صاحب سے جب رابطہ ہوا تو انہوں نے کسی سورس کی غلط انفارمیشن کو بنیاد بنا کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیا۔ اس حوالے سے یہ بات کہنے کی قابل ہے کہ اگر علاقہ کا ایک اہم، اعلیٰ اور ذمہ دار افسر بغیر کسی تحقیق کے اپنے عوام کو ان کے ناکردہ امور کی سزا دینے کا مجاز ہے تو پولیس اور نچلے طبقے کے دیگر ادنٰی اہلکاروں کی جانب سے بے گناہ افراد کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات پر افسوس کرنا بالکل بے معنی ہوگا۔

ڈی سی صاحب کو چاہیئے کہ کسی بھی اقدام سے پہلے معاملے کی پوری آزادی کے ساتھ تحقیق کریں، متعقلہ ادارے یا محکمے سے تحقیق کرلیں۔ جرم ثابت ہونے کے بعد کہیں جاکر اقدام کیا جائے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہر فرد بشمول سرکاری ملازم کے، معاشرے کا حصہ ہے۔ کسی بھی علاقے میں مختلف قسم کے سماجی مسائل پیش آسکتے ہیں، غم اور خوشی کے معاملات پیش آسکتے ہیں۔ قبائلی تنازعات پیش آسکتے ہیں۔ قبائلی روایات کے مطابق جس میں فی گھرانہ ایک فرد کی شمولیت لازمی ہوتی ہے، جبکہ غیر حاضری کی صورت میں اسے سماجی بائیکاٹ کا سامنا پڑ سکتا ہے، یا کم از کم نفع و نقصان سے خارج ہونے کی سزا ہوسکتی ہے اور سرکاری ملازم کو سماجی معاملات سے دور رکھنا، اسے اپنے جائز حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہوگا۔ ہاں سرکاری ڈیوٹی کے دوران یعنی صبح کے وقت ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کی صورت میں بھی صرف متعلقہ محکمے کا استحقاق بنتا ہے کہ اس کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔
خبر کا کوڈ : 766839
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب