0
Sunday 16 Dec 2018 00:41

بحیرہ احمر یونین کے ذریعے اسرائیل کو تحفظ کی فراہمی

بحیرہ احمر یونین کے ذریعے اسرائیل کو تحفظ کی فراہمی
تحریر: ہادی محمدی

یمن کے خلاف جاری جنگ، قتل عام اور تباہی میں کارفرما ایک اہم عنصر اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس جنگ کا مقصد اسرائیل کی قومی سلامتی کی ضمانت فراہم کرنا اور علاقے میں اس کی سرحدوں کو محفوظ بنانا ہے۔ لیکن اس وقت یمن کی جنگ بند گلی کا شکار ہو چکی ہے اور اس پر ہونے والے اخراجات کی مقدار توقع سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ اس وقت امریکہ کی حکمت عملی جنگ کا اختتام نہیں بلکہ اس نے اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے سعودی عرب کی مرکزیت میں بحیرہ احمر میں نئی اسٹریٹجی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلانیہ موقف اختیار کرتے ہوئے سعودی حکومت اور سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے دفاع کی اہم وجہ اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے میں ان کے موثر کردار کو قرار دیا ہے۔ اس طرح امریکی صدر نے ایوان نمائندگان کو بھی ایک دھچکے کے ذریعے خبردار کیا ہے۔
 
شاید یہی وجہ ہے کہ ایوان نمائندگان پر ایک کنفیوژن کی فضا طاری ہے۔ ایک طرف امریکی سینیٹ نے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عرب کو سزا دینے کیلئے اقدامات انجام دیے ہیں لیکن دوسری طرف ایوان نمائندگان نے مقابلے میں سینیٹ کے اقدامات کو روک دیا ہے۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل جو یمن کے خلاف جنگ اور قتل عام کے ذریعے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اب یمن میں تھکا دینے والی جنگ شروع کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اب اپنی زیادہ توجہ بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب پر مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور سعودی حکومت اچھی طرح جانتے ہیں کہ یمن میں شکست اور قبل از وقت جنگ کے خاتمے کے نتیجے میں بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں طاقت کا توازن ان کے نقصان میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس طرح ایران کی سکیورٹی سرحدیں آبنائے ہرمز سے بڑھ کر آبنائے باب المندب تک آ پہنچیں گی جو اسرائیلی رژیم کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہو گا۔
 
بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک پر مشتمل ایک یونین تشکیل دینے کا منصوبہ ایک اسرائیلی منصوبہ ہے جو حال ہی میں صہیونی حکام اور پالیسی میکرز کی زبان سے ایک ایمرجنسی اقدام کی صورت میں بیان ہوا ہے۔ اس منصوبے کے تناظر میں سعودی حکومت سرکاری اور اعلانیہ طور پر اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری سنبھال چکی ہے۔ سعودی حکومت نے انتہائی تحقیر آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کے چھ ساحلی ممالک کو رشوت دے کر ساتھ ملا لیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتھوپیا اس منصوبے میں شامل نہیں ہوا جبکہ اخوان المسلمین کے حامی تصور کئے جانے والے جنرل بشیر کی حکومت نے اپنے اقتدار کی حفاظت اس اسرائیلی منصوبے میں شامل ہونے سے باندھ رکھی ہے۔ یہ ذلت اور رسوائی اخوان المسلمین کے چہرے پر کلنک کا ٹیکہ ہے جو اتنی آسانی سے صاف نہیں ہو گا۔
 
اسرائیلی وزیراعظم کیلئے یہ بات کسی ڈراونے خواب سے کم نہیں کہ وہ ملک کے اندر اقتصادی، سیاسی، حکومت اتحادوں اور قانونی اور سکیورٹی الزامات جیسے بحرانوں کے علاوہ علاقائی سطح پر بھی شدید سکیورٹی خطرات کا شکار ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے اپنے اردگرد عرب حکمرانوں پر گذشتہ چند عشروں سے بہت زیادہ کام کے باوجود آج خطے میں ایک نیا سکیورٹی سیٹ اپ تشکیل پا چکا ہے۔ اسرائیل کے پاس ان خطروں کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں پائی جاتی۔ آج اسرائیل کو غزہ کی پٹی، لبنان، شام، یمن، عراق اور ایران کی جانب سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ امریکہ بھی مغربی ایشیا میں براہ راست فوجی مداخلت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ دوسری طرف معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے سفاکانہ قتل کے بعد سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا اقتدار بھی شدید متزلزل ہو چکا ہے۔ لہذا بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک پر مشتمل یہ نئی یونین بھی خلیج تعاون کونسل کی طرح موثر ثابت نہیں ہو گی۔
 
خبر کا کوڈ : 766908
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب