0
Sunday 16 Dec 2018 14:11

علم دشمنوں کی ناکامی کا دن

علم دشمنوں کی ناکامی کا دن
تحریر: نادر بلوچ

انسانی تاریخ میں سولہ دسمبر 2014ء کا دن جب بھی آئے گا، آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہید بچوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جنہیں دہشتگردوں نے چن چن کر اور ایک ایک کرکے بےدردی سے شہید کیا، اس دن دہشتگردوں نے اس قوم سے لڑنے میں ناکامی پر ان کے معصوم بچوں پر ایسا گھناونا وار کیا، جو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا، سانحہ اے پی ایس کو چار سال مکمل ہوگئے، لیکن شہید بچوں کی یاد والدین پر آج بھی قیامت بن کر گزر رہی ہے، اس دن ظالموں نے معصوم طالب علموں سمیت 150 افراد کو بےدردی سے شہید کیا، آج بھی وہ مناظر آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتے، جب اس المناک سانحہ کی خبر جیسے ہی جنگل میں آگ کی طرح پھیلی تو مائیں پیدل اسکول کی جانب دوڑتی ہوئی نظر آئیں۔ اس درد کو صاحب اولاد سے بڑھ کو کون محسوس کرسکتا ہے، پھول جیسے نازک بچوں کو دہشتگردوں نے بےجگری سے مثل کر رکھ دیا۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب یہ سانحہ پیش آیا تو آفس میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی، میڈیا کے دوستوں کو کوریج کرنے اور اسے آن ائیر کرنے میں بہت مشکلات پیش آرہی تھیں، ظاہر ہے جب آنکھوں کے سامنے معصوم بچوں کی جلی کٹی اور ٹکروں میں بٹی لاشیں ہوں اور ایسے میں عوام میڈیا سے توقع کرے کہ انہیں حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے تو بہت مشکل ہوتا ہے، ایسے سانحات کی رپورٹنگ کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے، یہ اس دن معلوم ہوا۔ سانحہ کے چند روز بعد راقم بھی اسلام آباد سے پشاور آرمی پبلک اسکول پہنچا تو پہلے دن کی طرح فضا سوگوار تھی، اسکول کا مین ہال جس میں ظالموں نے معصوم بچوں کو شہید کیا تھا، اس ہال کی ایک ایک کرسی ظلم اور بربریت کی گواہی دے رہی تھی، ہر کرسی کے نیچے لہو بکھرا پڑا تھا، کئی روز گزرنے کے باوجود لہو اسی طرح ترو تازہ تھا، ان مناظر کو لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے، اسکول میں آنے والا ہر شخص روتے ہوئے ظالموں کو بددعائیں دیتا ہوا نظر آیا۔

حقیقت یہ ہے کہ پہلے دہشتگرد اسکولوں کو جلاتے اور نقصان پہچاتے آرہے تھے، مگر اس بار خارجیوں نے قوم کے معصوم اسکول کے بچوں پر وار کیا، دشمن کی یہی خواہش تھی کہ ان کے اس وار سے اب مملکت پاکستان کے اسکولز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ویران ہو جائیں گے، علم کی شمع ہمیشہ کے لئے بجھ جائے گی، والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا چھوڑ دیں گے، مگر اس کا اثر برعکس ہی ہوا، ملک بھر میں عوام سڑکوں پر نکل آئے، گلی گلی، کوچے کوچے معصوم بچوں کی یاد میں شمعیں روشن ہونا شروع ہوگئیں، آٹھ اکتوبر 2005ء کے زلزلے کے بعد قوم ایک بار پھر کھڑے ہوکر ایک اور بڑے چیلنج کو قبول کرنے کے لئے آمادہ و تیار نظر آئی۔ پوری قوم کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ دہشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔ بہت صبر کر لیا، اب فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

کئی ہفتوں تک ملک کی اہم شاہروں، چوراہوں پر ان مظلوم بچوں کی یاد میں ریلیاں برآمد ہوتی رہیں، شمعیں روشن ہوتی رہیں، بلآخر عسکری اور سیاسی قیادت ان دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے لئے ایک پیج پر آگئی۔ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں ایک بڑا اجلاس ہوا، جس میں عسکری و سول قیادت کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں بھی شریک ہوئیں، متفقہ طور پر نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی گئی، یوں قوم کے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز ہوا، جس میں اس قوم کو کامیابی نصیب ہوئی۔ دشمن کے ارادے ناکام ہوئے، شمالی اور جنوبی وزیرستان کو دہشتگردوں سے پاک کیا گیا، گلی کوچوں میں پھٹنے والے دہشتگردوں کا صفایا کیا گیا اور الحمد اللہ ملک کی پرامن فضائیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ امن کی خاطر قوم اور سکیورٹی فورسز نے بڑی قربانیاں دی ہیں، جس کے نتیجے میں آج قوم سکھ کا سانس لے رہی ہے۔ یوں قوم ایک اور امتحان میں سرخرور ہوئی۔

علم کی شمعیں نئے عزم کے ساتھ روشن ہونا شروع ہوئیں، اس وقت ہر طرف ان شہید بچوں کی یاد میں ترانے بج رہے ہیں۔ قوم ان شہید بچوں کو سلام پیش کر رہی ہے، جنہوں نے اپنے خون میں تر ہوکر ہمیں ان دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے کھچے دہشتگردوں کے خلاف بھی بےرحمانہ آپریشن کو جاری و ساری رکھا جائے، نیشنل ایکشن پلان کے معطل نکات پر عمل درآمد کیا جائے، کالعدم جماعتون کو سیاسی دھارے میں آنے سے روکا جائے، احسان اللہ احسان جیسے دہشتگردوں کو نشان عبرت بنا کر خارجیوں اور ان کے عالمی سرپرستوں کو پیغام دیا جائے کہ دہشتگردوں کے لئے اس ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ اگر احسان اللہ احسان کو معاف کر دیا گیا یا سزا نہ دی گئی تو یہ اس ملک کی بدقسمتی تصور ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 766984
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب