0
Tuesday 18 Dec 2018 22:40

امام حسن عسکری (ع) اور فکری شبہات کا ازالہ

امام حسن عسکری (ع) اور فکری شبہات کا ازالہ
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

جس معاشرے میں شبہات کا ازالہ نہ ہو وہ معاشرہ غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو کر دشمن کے ہاتھوں آسانی سے شکست کھا جاتا ہے، لیکن بسا اوقات شبھہ اور سوال کے درمیان فرق کے نہ ہونے کی بنا پر لوگ شبھہ کو سوال اور سوال کو شبھہ میں خلط ملط کر دیتے ہیں جبکہ دونوں میں فرق ہے، سوال سمجھنے کے لئے کیا جاتا ہے جبکہ شبھہ کسی مسئلہ کو مشکوک بنانے کے لئے پیدا کیا جاتا ہے، البتہ یہ ممکن ہے کہ کبھی سوال کو شبھہ کے انداز میں پیش کیا جائے اور کبھی شبھہ کو سوال کے اندازسے رکھا جائے، یہ تو دونوں کے پیچھے کارفرمانیت اور مقصد سے واضح ہوگا کہ جو بات کہی جا رہی ہے وہ سوال ہے یا شبھہ، گرچہ علمائے لغت نے سوال اور شبھہ دونوں کے ہی معنی واضح طور پر بیان کر دیئے ہیں۔ شبھہ کے لفظ سے واضح ہے کہ اسکے اندر ابہام پایا جاتا ہے، ایسی چیز ہے جو مشکوک ہے، نامعلوم و غیر واضح ہے اور اس کے غیر واضح و مشکوک ہونے میں ہی اسکا دوام و قیام ہے  اسی لئے شبھہ پیدا کرنے والوں کو اصحاب الشبہات یا ذو الشبہات کہا گیا ہے۔ (1) شبہہ کے ذریعہ مسائل مشتبہ ہو جاتے ہیں، (2) اور انسان کو پتہ نہیں چلتا کہ کیا سچ ہے کیا غلط ہے۔ سوال کا جواب نہیں دیا جائے تو ایک انسان کا دین و ایمان متزلزل نہیں ہوتا، بس اتنا ہے کہ اسکے اتقان میں اضافہ نہیں ہوتا جہالت دور نہیں ہوتی، لیکن شبھہ کا ازالہ نہ ہو تو انسان کا ایمان بھی چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے اگر شبھہ کا ازالہ نہ ہو تو خطرناک ہوتا ہے اور جیسا کہ شبھہ کے لفظ سے واضح ہے۔ اسکو شبھہ کہا ہی اسی لئے جاتا ہے کہ حقیقت  سے نزدیک ہوتا ہے۔(3) 

شبھہ میں پھنس کر جہاں متزلزل افراد حقیقت کا سودا کر لیتے ہیں، وہیں دوستان خدا شبہات کا جواب تلاش کر کے حقیقت کی راہوں کو اور بھی روشن بنا دیتے ہیں۔ جس سماج اور معاشرے میں شبہات ہوں اور جواب نہ ہوں تو ایسی جگہ پر بہت محتاط ہو کر رہنے کی ضرورت ہے اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ شبھے سے بچو کہ یہ فتنہ  کا سبب ہے۔ (4) امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں جہاں آپکا دور امامت بہت مختصر تھا، وہیں بےشمار ایسے شبہات تھے جنکا آپ نے بحسن خوبی اس طرح ازالہ کیا، صاحبان فکر و فہم حیرت زدہ ہیں کہ آپ نے کس طرح ان حالات میں  مختلف شبہات کے جواب کے لئے وقت نکالا جبکہ آپ پر مسلسل حکومت کی جانب سے نظر رکھی جا رہی تھی۔(5) اور آپ کی نقل و حرکت کی نگرانی ہو رہی تھی۔(6) اس حکومت وقت کی جانب سے اس بات کی سخت  نگرانی تھی کہ کون آپ کے پاس آ رہا ہے کون جا رہا ہے، لیکن  آپ نے سخت گھٹن کے دور میں  بھی جسطرح شیعوں کی رہنمائی کی ہے اور اس دور کے درپیش شبھات کا ازالہ کیا، اس کی نظیر نہیں ملتی۔  ۲۸ سال کی مختصر زندگی وہ بھی قید و بند کی زندگی، مسلسل حکومت وقت کی نگرانی اسکے باوجود آپ نے مختلف محاذوں پر امت کی رہنمائی کی چاہے لوگوں کے اقتصادی مسائل کا حل کرنا ہو (7)، یا شاگردوں کی تربیت ہو، یا مستقبل کے سخت دور کے لئے شیعوں کو آمادہ کرنا ہو۔ جس میں انکا امام  تو ہوگا لیکن لوگوں کے سامنے نہ ہو کر پردہ غیبت میں ہوگا، اس دوران کیسے کیسے شبہات ہو سکتے ہیں، طرح طرح کے فرقے، طرح طرح کے لوگ، ہر ایک کا اپنا ساز اپنا راگ ان سب کے سامنے اسلام کا صحیح تصور پیش کرنا معمولی کام نہیں ہے۔

وکالت کا مضبوط سسٹم ہو یا پھر اپنے چاہنے والوں کی اخلاقی و فکری تربیت ہو، امام علیہ السلام کا ایک متحرک کردار نظر آتا ہے، فکری و اخلاقی تربیت ہو، یا شیعوں کے سیاسی و اقتصادی مسائل، یا دوران غیبت کے سلسلہ سے شیعوں کی آمادگی، امام علیہ السلام نے اسلامی تصور کائنات کے اصول و مبانی کو بیان کرنے پر خاص توجہ دی ہے اور دیگر انبیاء الٰہی و آئمہ طاہرین علیہم السلام کی طرح  آپ بھی اس محاذ پر ڈٹے نظر آتے ہیں، جہاں اسلامی تصور سے ہٹ کر کوئی شبھہ سامنے آ رہا ہے لیکن آپ کی روش یہ تھی کہ سب سے پہلے اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ شبھہ کا علمی جواب دیا جائے اور خاموشی کے ساتھ مسئلہ کو حل کر دیا جائے اور جب مسئلہ حل نہیں ہوتا تو اپنے موقف کو واضح طور پر بیان کرتے تھے۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں غالی بھی ہیں، واقفی بھی، ثنویت کے قائل لوگ بھی ہیں اور تفویض کا عقیدہ رکھنے والے بھی، امام علیہ السلام نے ان سب کے سامنے توحیدی بنیادوں کو واضح کیا ہے اور ان لوگوں سے مقابلہ کے ساتھ ساتھ فکری انحراف جہاں بھی پیدا ہو اسکے مقابلہ کیلئے ڈٹ گئے، چنانچہ اسحاق کندی کا واقعہ معروف ہے جسے ابن شہر آشوب نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ عراق میں ایک فلسفی رہتا تھا، جسے گمان ہوا کہ قرآن کی بعض آیتیں بعض دیگر آیتوں سے متناقض ہیں، ان میں ٹکراؤ پایا جاتا ہے۔

ایک دن اسحاق کندی کا ایک شاگرد امام کی خدمت میں پہنچتا ہے تو امام علیہ السلام فرماتے ہیں، کیا تم میں کوئی نہیں ہے جو اسکا جواب دے؟ وہ کہتا ہے ہم سب شاگرد ہیں کیسے جواب دیں وہ ہمارا استاد ہے۔ امام علیہ السلام پوچھتے ہیں کیا میں تمہیں جو باتیں بتاونگا، تم اپنے استاد تک منتقل کر سکتے ہو؟ اس نے کہا بالکل۔ تو امام علیہ السلام نے فرمایا، جاؤ اسکے پاس پہلے اپنے تعلقات کو بہتر بناؤ، اسکی مدد کرو اسکی علمی گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کرو، اسکے کام میں ہاتھ بٹاو، جب دھیرے دھیرے اسکا اعتماد حاصل کر لو  وہ تم سے مانوس ہو جائے تو اس سے سوال کرو کہ تم جو تناقضات قرآنی پر کام کر رہے اسکے بارے  میں میرے ذہن میں یہ بات اٹھ رہی ہے کہ  قرآن کا نازل کرنے والا آئے اور تم سے کہے کہ خدا نے جو بات کہہی ہے اور جو تم اس سے سمجھے ہو وہ اسکی مراد نہیں تھی کیا عقلی طور پر یہ احتمال نہیں پایا جاتا کہ تم نے جو سمجھا ہے وہ غلط ہے، تو وہ کہے گا بالکل احتمال پایا جاتا ہے، انسان جب کسی بات کو سنتا ہے تو زیادہ متوجہ ہوتا ہے کہ کس نے کس لہجے میں، کس انداز میں کیا بات کی ہے۔ جب وہ یہ کہے گا تو اس سے کہنا کہ شاید قرآن جو لیکر آیا ہے اور جو قرآن کو بیان کر رہا ہے، اسکا مفہوم کچھ اور ہو اور تم غلط سمجھ رہے ہو، شاید اس نے قرآنی الفاظ کو کسی اور معنی میں بیان کیا ہو تم کسی اور میں بیان کر رہے ہو۔ یہ شاگرد امام علیہ السلام کے پاس سے اٹھ کر اسحاق کندی کے پاس پہنچتا ہے، استاد سے اپنے روابط و تعلقات بڑھاتا ہے، جب استاد اس پر یقین کرنے لگتا ہے تو اب استاد کے سامنے بات رکھتا ہے، جیسے ہی استاد نے سنا، کہتا ہے ایک بار پھر سے کہو، ایک بار پھر سے اپنے سوال کی تکرار کرو۔ یہ پھر سوال کو دہراتا ہے۔

اب اسحاق کندی فکر میں غرق ہو جاتا ہے پھر سر کو اٹھاتا ہے اور کہتا ہے بات بالکل صحیح ہے ایسا ممکن ہے، لیکن کہتا ہے خدا کی قسم یہ  بتا کہ یہ بات کس کی ہے؟ کس نے تجھے یہ بات بتائی ہے، شاگرد کہتا ہے کچھ نہیں استاد آپ کے درس میں آتا ہوں بیٹھتا ہوں، بس یوں ہی میرے ذہن میں یہ سوال خود ہی پیدا ہو گیا؟ اسحاق کندی کہتا ہے ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا، محال ہے کہ یہ بات یوں ہی تیرے ذہن میں آ جائے  مجھے سچ سچ بتاؤ یہ بات کس کی ہے؟ شاگر کہتا ہے جب اس منزل پر استاد ماننے کے لئے تیار نہیں ہوا، تو میں نے کہا یہ ابو محمد حسن ابن علی العسکری علیہ السلام کی بات ہے انہوں نے مجھے تعلیم دی، اس مقام پر اسحاق کندی کہتا ہے بالکل سچ کہا اس طرح کی باتیں اسی گھرانے سے بیان ہو سکتی ہیں۔ یہ کہہ کر آگ منگاتا ہے اور اپنی پوری تحقیق کا ماحصل آگ کے حوالے کر دیتا ہے۔ (8) ایک اور موقع پر  کامل بن ابراہیم نامی ایک شخص ہے، جو مفوضہ کی جانب سے کچھ سوالات لیکر آپ کی خدمت میں آتا ہے اور تفویض کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ کیا خدا نے امور کو آپ کے حوالے کر دیا ہے۔ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کا بچپنا ہے، آپ ساتھ ہیں، جب کامل بن ابراہیم سوال کرتا ہے تو امام علیہ السلام تو خاموش رہتے ہیں لیکن امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف اسکا جواب یوں فرماتے ہیں، مفوضہ جھوٹ بولتے ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے قلوب مشیت الٰہی کا ظرف ہیں، جو وہ چاہتا ہے ہم وہی چاہتے ہیں، جیسے ہی یہ جواب امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی طرف سے آتا ہے آپ فورا کہتے ہیں، کامل ابن ابراہیم جاؤ تمہارا جواب مل گیا اب کیوں بیٹھے ہو۔ (9)

جہاں آپ نے فکری انحراف کا مقابلہ کیا، وہیں عمیق سیاسی بصیرت کے ساتھ لوگوں کو بتایا کہ کسی بھی تحریک سے اگر وابستہ ہوں تو پہلے اسکے مقصد اور ہدف کو دیکھ لیں اور اگر کوئی حق و انصاف کے لئے لڑ رہا ہو تو اگر اسکی حمایت کسی بھی وجہ سے نہ کر رہے ہوں تو اسکی مخالفت میں زبان کھولنے کی ضرورت نہیں ہے، تاریخ میں ملتا ہے"یحیی بن عمر طالبی"(10) نامی ایک شخصیت ہے، جو خلیفہ عباسی کے مقابل ۲۴۹ میں کوفے میں قیام کرتی ہے۔(11) انکا نعرہ عدالت اجتماعی ہے، لوگوں میں عدل و انصاف کو قائم کرنے کے لئے قیام کرتے ہیں، لوگوں کے حقوق کے لئے لڑتے ہیں اور مستعین کے ساتھ انکا معرکہ ہوتا ہے۔ مستعین کے ہاتھوں قتل کر دیئے جاتے، مستعین کے حکم سے معتز انکی لاش کو بغداد کے دروازے پر عبرت کے لئے لٹکا دیتا ہے، لوگوں میں منادی کرا دی جاتی ہے کہ انکے خلاف اظہار خیال کریں اب جو گزرتا ہے انکو کچھ نہ کچھ کہتا ہے۔ تاریخ کہتی ہے بڑی بڑی اسلامی شخصتیں انکی مذمت کرتی نظر آتی ہیں، لیکن ایک شخصیت ہے جو بالکل خاموش ہے وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی شخصیت ہے، جنکی زبان مبارک سے ایک بھی جملہ نہ شخصیت کے بارے میں نکلتا ہے نہ قیام کے سلسلہ سے۔ (12) جہاں ایک طرف آپکا طرز عمل یہ ہے وہیں دوسری طرف "علی ابن عبد الرحیم" جو زید شہید کی نسل سے ہونے کا دعوٰی کرتے ہوئے قیام کرتے ہیں اور لوگوں کے حقوق کی بازیابی کے لئے حکومت کے خلاف اٹھتے ہیں اور زنج کے مقام پر قتل کر دیئے جاتے ہیں۔ امام علیہ السلام انکے بارے میں واضح طور پر کہتے ہیں، "صاحب الزّنج لیس منّا اهل البیت" صاحب زنج کا تعلق ہم اہلبیت سے نہیں ہے۔ (13) چونکہ نظریات و افکار کے اعتبار سے اہلبیت اطہار علیھم السلام سے دور ہیں اور بظاہر خوارج کی فکر سے متاثر ہیں۔ (14) تو امام علیہ السلام واضح طور پر انکے خلاف اپنے موقف کا اظہار کرتے ہیں کہ کوئی شک میں نہ رہے۔ امام علیہ السلام نے اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ اگر کوئی حق کے لئے لڑ رہا ہے اور تمہارا اسکے ساتھ کھڑا ہونا کسی بھی مصلحت شرعی کی بنا پر درست نہیں ہے، اور تم اس کے ساتھ نہیں ہو، تو نہ سہی لیکن اگر کوئی ایسا موقع آیا کہ ظالمین اسکے خلاف زبان کھلوانا چاہیں تو خاموش رہنا۔

سیرت امام ہے اسے اختیار کرو لیکن لوگوں کے حقوق کے لئے لڑنے والے کے خلاف زبان مت کھولو، اس لئے کہ اسنے حق کا ساتھ دیا ہے اور جو حق کا ساتھ دیگا وہ چاہے جیسا بھی ہو خدا اسے عزیز بنائے گا، اور جو باطل کا ساتھ دے اسکی حمایت کی ضرورت نہیں اس لئے کہ جس نے حق کا راستہ چھوڑ دیا وہ کبھی خدا کے سامنے عزیز نہیں ہو سکتا، چنانچہ ایک حدیث میں آپ فرماتے ہیں، "مَا تَركَ الحَقّ عَزیزٌ إلا ذلَّ، و لا أَخَذ بِه ذَلِیل إلا عزَّ" (15)۔ حق کو کسی صاحب عزت نے ترک نہیں کیا مگر یہ وہ ذلیل ہوا، اور حق کی حمایت میں لوگوں کے نظروں میں بےحیثیت انسان کھڑا نہیں ہوا حق کو لینے کے لئے کوئی بے وقعت انسان نہیں اٹھا مگر وہ حق کی بنا پر عزیز بن گیا۔ امام کی یہ حدیث ہم سب کے لئے مشعل راہ  ہے کہ اپنے سماج اور معاشرہ میں حق کی بازیابی کے سلسلہ سے اٹھنے والی تحریک اگر واقعی حق کے لئے ہو تو ہمیں اسکی حمایت کرنا چاہیئے یہ ہمارے اماموں کا شیوہ ہے۔ شبہات کے ازالے کے سلسلہ سے امام کا طریقہ کار یقینا آج کے شبہات کو برطرف کرنے میں معاون و مدد گار ثابت ہوگا۔ جب آج ہر طرف سے دشمنوں نے یلغار کر رکھی ہے، ایسے میں کچھ شبہات وہ ہیں جنہیں وہ سوال کی صورت دوستوں کے ذریعہ سماج و معاشرہ میں پھیلا رہا ہے، تو ضروری ہے کہ ہر شبھہ کے ازالہ سے پہلے یہ پرکھ لیا جائے کہ یہ کہاں سے آیا ہے اور اسکا مقصد کیا ہے۔ پھر امام حسن عسکری علیہ السلام کی سیرت کی روشنی میں اگر اسکا جواب دیا جائے تو یقینا اسحاق کندی کی طرح خود شبھہ پیش کرنے والا سوچنے پر مجبور ہو جائے گا کہ ہم جن لوگوں کو ٹارگٹ کر رہے ہیں وہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے شیعہ ہیں، جنہیں شبہات کا جواب دینے سے غرض ہے نام و نمود سے مطلب نہیں ہے۔ حق کی بات پہچانا ہی انکا کام ہے اور جب شبہات کا جواب اس انداز سے ہوگا تو یقینا ا سکا اثر میں ہمیں معاشرہ میں دیکھنے کو ملے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 حواشی:
1۔ مهیار، رضا، فرهنگ ابجدى عربى- فارسى‏، ص 516، بی‌جا، بی‌تا.
2۔ ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان ‏العرب، ج 13، ص 503، بیروت، دار صادر، 1414ق.
3 ۔ سید رضی، نهج البلاغة، محقق، صبحی صالح، ص 81، قم، هجرت، چاپ اول، 1414ق.
4۔ محمدی ری شهری، محمد، منتخب میزان الحکمة، ص 291، قم، دارا لحدیث، 1383ش. «وَ احْذَرُوا الشُّبْهَة فَإِنَّهَا وُضِعَتْ لِلْفِتْنة».
5۔ ر. ک: علل الشرایع، صدوق، قم، مکتبة الطباطبائی، ج 1، ص 176 و 230.
6۔ بحارالانوار، مکتبة الاسلامیة، ج 50، ص 251؛ دلائل الامامة، جریر طبری، قم، منشورات الرضی، چاپ سوم، 1363 ه . ش، ص 226.
7۔ اربلی، کشف الغمہ فی معرفہ الائمہ، ج۲، ص ۴۱۳.
8۔ تاریخ یعقوبی، ج 2، ص 472؛ تاریخ طبری، ج 7، ص 195؛ الامام الصّادق و المذاهب الاربعه، ج 4، ص 456
9۔ مناقب آل ابی طالب(ع)، ج 4، ص 424؛
10۔ حیی بن عمر بن یحیی بن حسین بن زید بن علی بن الحسین بن علی بن ابیطالب"، جنکی کنییت "ابوالحسن" بیان ہوئی ہے
ابن اثیر، الکامل، ترجمه عباس خلیلی، به تصحیح مهیار خلیلی، تهران، شرکت سهامی چاپ و انتشارات کتب ایران، بی تا، ج 11، ص 292.
11۔ بن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ترجمه آیتی، تهران، موسسه مطالعات وتحقیقات فرهنگی، 1364، چاپ اول، ج 2، ص 441.
12۔ منتهی الآمال، ج 2، ص 66 ـ 64، انتشارات علمی و ایران، تهران
13۔ حیاة الامام العسکری(ع)، ص 283 ـ 277
14۔ راهیم حسن، حسن. تاریخ سیاسی اسلام ج. ۱۰. ترجمهٔ ابوالقاسم پاینده. تهران: اساطیر، ۱۳۸۲. ۶۵.
15 ۔ تحف العقول، ص ،520
خبر کا کوڈ : 767455
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے