0
Thursday 20 Dec 2018 13:00

پاکستان، تبدیلی کے انتظار میں

پاکستان، تبدیلی کے انتظار میں
تحریر: نسیم عباس

انسان فطری طور پر یکسانیت سے مانوس نہیں، پاکستان کے پسے ہوئے عوام 70 سال سے خوشگوار تبدیلی کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ ہر آنے والی حکومت اور بہتری اور ترقی و خوشحالی کے نعرے لگاتی ہے، لیکن جب اقتدار کا خاتمہ ہوتا ہے تو حکمرانوں کے بچے اربوں میں کھیل رہے ہوتے ہیں اور بے چارے عوام پہلے سے بدتر اور دشواریوں بھری زندگی پر مجبور رہتے ہیں۔ انتخابات کا موسم آتا ہے، فضا میں تبدیلی محسوس کرتے ہیں، کبھی چہرے بدلتے ہیں اور اکثر تو وہی وہی چہرے پارٹیاں بدل کر ایک بار پھر حکمرانوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ 2018ء کو تبدیلی سال کہا جا رہا ہے، نئی حکومت آئی اور عوام کیلئے کئی امیدوں کا پیغام لائی، اپنے 100 روزہ پلان کے مطابق عوام کی ترقی وخوشحالی کے اقدامات اٹھانے اور ملک کو کرپشن سے پاک کرکے ایک نئی سمت متعین کرنیکی نوید سنائی گئی۔ حلف اٹھانے کے بعد عمران خان نے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے اور مملکت پاکستان کو اسلامی اصولوں کے مطابق جدید فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، ایک ایسا پاکستان  جو قائداعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہو، ایک اایسی ریاست جس میں غریب اور امیر کےلیے ایک جیسا قانون ہو، جہاں انصاف کا ایسا ترازو، جو امیر و غریب کےلے برابر ہو،مطلب کہ جو پرانے پاکستان کے ہر سرکاری ادارے میں عام آدمی کی بے توقیری تھی، اسے اس کی جگہ عزت و احترام ملے گا۔

پی ٹی آئی کا نعرہ تھا اور ہے کہ نئے پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہوگا اور عدلیہ آزاد ہو گی اور میرٹ پر فیصلے کرے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پاکستان کو ریاست مدنیہ بنانے کا اعلان کیا، صحت، تعلیم، روزگار، سرکاری اداروں کی خودمختاری کی بات کی، اس کے علاوہ قرض اور مدد نہ لینے اور دوسرے ممالک سے اچھے تعلقات، امریکہ سے صرف برابری کی سطح پر تعلقات رکھنے کا عہد کیا گیا، ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بھی دینے کا وعدہ کیا، پرانے پاکستان کو نیے پاکستان میں تبدیل کرنے اور سادگی کو اپنا محور قرار دیا گیا، سادگی اس لیے تاکہ حکومت کے اخراجات کم ہو سکیں اور قومی خزانے پر بوجھ کم ہوسکے، اس سے یہ امید بھی تھی کہ شاید معاشی صورت حال بہتر ہو اور عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے۔ وفاقی اور صوباہی کابینہ کے وزراء کو حکم دیا گیا کہ 100 روزہ پلان کو مکمل کرنے کے لیے سخت محنت کریں، تاکہ نیے پاکستان کا خواب شرمندہ تعمیر ہو سکے، اس سلسلے میں وزیر اعظم نے ابتداء کی اور صوبایئ حکومتوں کو بھی کفایت شعاری اپنانے کا کہا گیا۔ لیکن فی الحال یہ نعرے صرف نعرے ہی ہیں، حتیٰ کہ وفاقی اور صوبائی وزراء کی کارکردگی کا جائزہ جس طرح لیا گیا، وہ پرانے پاکستان کی روایات کے عین مطابق ہے، البتہ عمران خان اپنے نعرے پہ قائم ہیں اور فواد چوہدری اب ان نعروں کی توجہیہ پہ مامور ہیں، وزیراعظم مصروف ہیں۔

اسی طرح سپریم کورٹ کے حکم پر سارے ملک میں انسداد تجاوزات آپریشن لاہور، کراچی، فیصل آبا اور دیگر شہروں میں جاری ہے، جو 100 رزوہ پلان کا حصہ تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے قبضہ گروپوں سے ایک لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی وار گزار کروائی ہے، صرف اسلام آباد میں 100 ارب سے زیادہ کی زمین قبضہ گروپوں سے واپس لی گی، لاہور کا منشاء بم جیسے سرغنہ عناصر قانون کی گرفت میں آئے ہیں، جو زمینوں پر قبضے کے علاوہ بہت سے لوگوں کے قتل میں بھی ملوث تھا، منشاء بم کی گرفتاری کو پی ٹی اہئ کی اہم کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ لیکن دوسری طرف انسداد تجاوازت آپریشن کی وجہ سے بہت سے خاندان بے روزگار بھی ہوے ہیں، یہ لوگ اب غربت کی لکیر سے نیچے آگیے ہیں، حکومت نے ان کو دوبارہ بحال کرنے کا وعدہ بھی کیاہے، لیکن جو وعدے پاکستان تحریک انصاف نے کیے تھے، وہ ان 100 روز میں پورا کرنے میں ناکام رہی ہے، عوام کی مشکالات میں اضافہ ہو گیا ہے، عوام کی اکثریت اب یہ  کہنے پر مجبور ہے کہ اس حکومت کو ووٹ دے کر غلطی کی۔ مہنگائی کا طوفان ہے، خورد و نوش کی اشیاء کی قمیتں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، بجلی گیس کے بل بڑھ گیے ہیں، اہل پی جی گیس بھی فی کلو کے اضافے کی وجہ سے عام آدمی کی دسترس سے باہر ہے۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ افغانستان میں طالبان مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی وجہ سے امریکہ اپنا دباؤ کم کر سکتا ہے، لیکن گیس اور بجلی کی قیمت بڑھای گی ہے اور درامدی ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے، روپے کی قدر کم ہونے اور ڈالرکی قیمت بڑھنے سے مہنگائی سے عوام بے بس ہو گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کا 22 سال اپوزشن کرنے کے باوجود کرنے اور امور مملکت چلانے کیلئے ہوم ورک صفر تھا۔ یہ درست ہے کہ معاشی دلدل میں پھنسا پاکستان ملا، لیکن 100 روزہ پلان میں اٹھائے گئے معاشی اقدامات نے عوام کو سخت مایوس گیا۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ایک روپے قرض لیے بغیر بیرونی قرضوں میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوا گیا ہے، قیمتوں کے بڑھتے ہوئے طوفان کی وجہ سے گردشی قرضہ بھی بڑھ گیا ہے، عمرانی حکومت کی حالت اتنی کمزور ہو گی ہے کہ اپنے بینکوں نے دو سو ارب کا گردشی قرضہ دینے کیلئے بھی سخت شرائط  رکھی ہیں، جن میں 43 پاور کپنیوں کی پراپرٹی گروی رکھنے کا کہہ دیا ہے، ایسی صورت میں ملایشاء، سعودی عرب، چین کی طفل تسلیاں کس کام آئیں گی۔ وزیراعظم  کے بیرونی دروں کے مثبت اثرات ابھی تک عوام کو نہیں ملے، صرف کاغذوں تک محدود ہیں، تحریک انصاف عوام میں اپنی معقبولیت کھو رہی ہے۔

اسٹاک ایکسچینج مندی کا شکار ہے، ہر روز تاجروں کے اربوں روپے ڈوب جاتے ہیں اور تاجر خسارے اور نقصان کی وجہ سے پریشانی کے عالم میں ہیں، انہیں سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ انویسٹ کریں یا نہ کریں، کیونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ابھی تک  واضح اور مستقل معاشی پالیسی نہیں اپنائی  اور غیر ملکی انویسٹر بھی سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ ملک معاشی بحران کا شکار ہے، نیا پاکستان بنانے کیلئے حکومت کی بنائی گئی ٹاسک فورسز کی کرگردگی صرف کاغذی کاروائیوں تک محدود ہے۔ عمران خان الیکشن سے پہلے یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر وزیراعظم ایماندار ہو گا، تو بیوروکریسی ایمانداری سے کام کرے گی اور 70 سال سے پیدا شدہ مسائل چند ہفتوں میں حل ہو جایہں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا، بلکے 100 دن میں مسایل کم ہونے کی بجاے بڑھے ہیں، عوام قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے سخت ذہنی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ٹاسک فورسز اور کمیٹیوں نے اپنے کام تو مکمل کرلیے ہیں، لیکن ان کی رپورٹس کی روشنی میں جن شعبوں میں اصلاحات ہونا ہیں، اس کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے، جس کیلئے حکومت کے پاس وہ اکثریت ہی نہیں کہ کویئ نیا قانون بناسکے، اگر کسی طرح حکومت قانون سازی کی پوزیشن میں آ جائے تو بیرون ملک میں پڑی پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس آ سکتی ہے۔

معاملہ برعکس معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے دباؤ اور آئی ایم ایف کی شرائط کیوجہ سے نیب قوانین میں تبدیلی، بلدیاتی نظام میں تبدیلی یا الیکشن ریفارمز ہو جاتی ہیں تو دوسرے ایشوز میں بھی حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ ہمارے پاس 200 ماہرین ہیں۔ جو پروفشنلز ہیں، ہر شعبے میں ان کی اعلی کارگردگی ماہرین کی صفت خاص ہے، یہ پروفشنلز دماغ ہیں، جو میعشت، گورننس، صحت، تعیلم، صنعت و تجارت و زراعت سمیت مختلف شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان دو سو ماہرین کا 100 روزہ پلان میں دور تک کوئی نشان نہیں ہے، البتہ مشرف اور زرداری کابینہ کے کافی وزراء عمرانی کابینہ کا حصہ ہیں، اگر آپ پاکستان تحریک انصاف کے کسی بھی لیڈر سے سوال کریں کہ آپ کی حکومت کو ناکامیوں کا سامنا ہے، تو وہ یہ بات ماننے کو تیار نہیں، بلکہ انصافین کہتے ہیں کہ یہ ملک و قوم کے مستقبل کیلئے بہتر ہو رہا ہے، حالانکہ عمرانی حکومت کی کابینہ میں باصلاحیت وزراء کا فقدان ہے۔ کرکٹ ٹیم کی کپتانی اور کامیابیوں پر سر دھننے والے وزراء اپنے کپتان کی نگرانی میں کام کرتے ہوئے زبانی حد تک بھی ہم آہنگ اور ہم آواز نہیں ہیں۔  اکثر ایک ایشو پہ وزراء کے بیانات میں تضاد معمول ہے۔ زبردست ٹیم ورک اور مینجمنٹ کے دعویداروں کو نہیں معلوم کہ بیوروکریسی کو کیسیے ہینڈل کیا جاتا ہے اور بیورو کریسی کے ساتھ  کس طرح ورگنگ ریلشن شپ رکھنی ہے۔

سب سے حساس نعرہ مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست کے قیام کا ہے۔ اس سے متعلق کسی بڑے یوٹرن یا دھوکے کا خدشہ ہے، جیسا مسلم لیگ (ن) کی حکومت سودی نظام کے حق میں عدالت عظمیٰ میں گئی تھی۔ اب پھر بڑی ہمت ہے، مدینے کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کی کہ وہ شراب کی فروخت پر پابندی لگانے کے حق میں نہین، کسی کو اللہ کا خوف نہیں۔ کسی مولوی سے تقریر کروالی، کہیں سیرت کانفرنس کرالی اور بن گئی مدینے کی ریاست۔ جو اقدامات ہورہے ہیں اور بہت تیزی سے ہورہے ہیں، ان کی روشنی میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان اور ان کو لانے والے مدینے کی ریاست بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں، لیکن مدینے کی جو ریاست حضورؐ کی بعثت اور ہجرت سے پہلے تھی، جہاں سود کا کاروبار عروج پر تھا، شراب نوشی عام تھی، مخلوط محافل عام تھیں، غریب اور امیر کے لیے الگ الگ قانون تھا، خدا کی نافرمانی عام تھی، دین اول تو تھا نہیں اور پھر بھی کوئی اگر خدا کی کتابوں اور رسولوں کی بات کرتا تو اس کا مذاق اڑایا جاتا تھا، جیسا آج اڑایا جاتا ہے، یہی نقشہ تھا اس ریاست کا۔ موجودہ حکمران سابق اشرافیہ کی طرح، مدینے میں حضورؐ کی آمد سے پہلے والی روایت کے محافظ ہیں۔ اب حضور پاکؐ کے دیے ہوئے دین اور قانون کو نافذ کرکے ساری ناپاکی دور کرنا ہوگی۔ جس طرح زرداری اور شریف فیملی دہائیوں سے حکمران رہے، اسی طرح پاکستان کا مستقبل اب عمران خان کا ہے، لیکن یہ سعادت کس کو نصیب ہوتی ہے، یہ اللہ ہی جانتا ہے اور وہی اس کا فیصلہ کرے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان میں تبدیلی کے منتظر عوام کو اسی مایوس کن صورتحال کا سامنا رہیگا، جو عرب عوام کو عرب بہار سے آنیوالی تبدیلی کی امید سے کرنا پڑا۔ حقیقی تبدیلی نظام مہدویت سے ہی ممکن ہے، جس کیلئے بیداری کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 767671
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے