0
Friday 21 Dec 2018 00:27
ایران، ترکی اور روس کی باہمی مفاہمت سے شام کی آئین ساز کمیٹی کی تشکیل

شام میں سیاسی عمل کا آغاز

شام میں سیاسی عمل کا آغاز
تحریر: علی احمدی

ایران، روس اور ترکی نے شام کی آئین ساز کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں اتفاق رائے کر کے اس ملک کے سیاسی عمل کے آغاز کی بنیاد رکھ دی ہے۔ آستانہ مذاکرات پر عملدرآمد کیلئے ضامن کے طور پر تین ممالک روس، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے شام کیلئے نمائندی دی مستورا نے کل جنیوا میں اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ آئندہ برس جنوری میں شام کی آئین ساز کمیٹی تشکیل دے دی جائے۔ یہ شام مسئلے کے حل میں ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے جس سے مغربی ممالک کے ہاتھ میں بہانہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ آستانہ مذاکرات کو مزید تقویت حاصل ہو گی۔ منگل 18 دسمبر کو منعقد ہونے والی اس اہم میٹنگ کے اختتام پر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ترک اور روسی ہم منصب سرگے لاوروف اور مولود چاوش اوگلو کے ہمراہ جنیوا میں ایک پانچ نکاتی بیانیہ پڑھ کر سنایا۔
 
شام کے امور کیلئے اقوام متحدہ کے نمائندے اسٹیفن ڈی مستورا نے ایران، روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تین جانبہ اجلاس میں شام میں آئین ساز کمیٹی کی تشکیل پر مفاہمت حاصل ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ منگل کے دن منعقد ہونے والے اجلاس میں آئین ساز کمیٹی کی تشکیل کیلئے کچھ اضافی قدم بھی اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ واپس جانے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ان نکات پر بات چیت کریں گے جن پر اتفاق رائے حاصل ہوا ہے اور سلامتی کونسل جا کر شام کی آئین ساز کمیٹی کی تشکیل کے بارے میں رپورٹ بھی پیش کریں گے۔ یاد رہے ایران، روس اور ترکی نے مل کر شام کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنے کیلئے تقریباً دو سال پہلے آستانہ مذاکرات کی بنیاد رکھی تھی۔ شام میں نئے قانون کی تدوین کیلئے آئین ساز کمیٹی کی تشکیل سیاسی راہ حل میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔ آستانہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک کی جانب سے جنیوا میں بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم اس کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔
 
ایران، روس اور ترکی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے پہلے تینوں ممالک کے اعلی سطحی سفارتکار پیر 17 دسمبر کو اکٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے وزرائے خارجہ کے اختتامی بیانیے کو حتمی شکل دی تھی۔ شام کے نئے قانون کی تدوین کیلئے تشکیل پانے والی یہ آئین ساز کمیٹی 150 اراکین پر مشتمل ہو گی۔ ان میں سے 50 رکن حکومت مخالف جماعتوں کے ہوں گے، 50 رکن شام حکومت کی نمائندگی کریں گے جبکہ باقی 50 افراد کا تعین اقوام متحدہ کرے گی۔ یہ اتفاق رائے شام میں مکمل اور پائیدار امن کے قیام میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی حکام نے دھمکی دی تھی کہ اگر آستانہ مذاکرات شام کی آئین ساز کمیٹی تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہوئے تو مذاکرات کا یہ سلسلہ ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن اب جب شام کی آئین ساز کمیٹی کی تشکیل سے متعلق اتفاق رائے حاصل ہو چکا ہے تو مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کے پاس شام میں مداخلت کرنے کا کوئی بہانہ باقی نہیں بچا۔
 
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ہفتہ 15 دسمبر کے دن قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک بین الاقوامی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے شام کے بارے میں کہا تھا: "ہم نے تقریباً پانچ سال پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ شام کے مسئلے کا حل اسی وقت ممکن ہے جب اس ملک میں نئے آئین کی تدوین کا عمل شروع ہو گا۔ میرا عقیدہ ہے کہ یہ شام بحران کے خاتمے کا واحد راہ حل ہے۔ ہماری نظر میں سب سے پہلے جھڑپیں ختم ہونی چاہئیں اور ایک وسیع عبوری حکومت تشکیل پانی چاہئے اور آئینی اصلاحات انجام پانی چاہئیں۔" اسی طرح ترکی کے وزیر خارجہ چاوش اوگلو نے بھی پیر 17 دسمبر کے دن ترکی کی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: "ہم نے شام میں سیاسی راہ حل کا حتمی راستہ کھول دیا ہے۔" روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے بھی جمعہ 14 دسمبر کے دن ترکی کے وزیر خارجہ سے اپنی ملاقات کے دوران اعلان کیا تھا کہ شام کی آئین ساز کمیٹی کے اراکین کے نام فائنل ہو گئے ہیں اور آئندہ برس جنوری کے شروع میں اس کمیٹی کی پہلی میٹنگ منعقد ہو گی۔
خبر کا کوڈ : 767818
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب