0
Wednesday 26 Dec 2018 15:09

شام سے امریکہ کا فوجی انخلاء، داعش پر فتح یا ایران سے شکست؟

شام سے امریکہ کا فوجی انخلاء، داعش پر فتح یا ایران سے شکست؟
تحریر: سجاد مرادی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک اور غیر متوقع طور پر شام سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا حکم جاری کیا ہے۔ شام میں موجود امریکی فوجیوں کی کل تعداد 2000 کے قریب ہے جن میں سے زیادہ تر شام کے شمال مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقوں میں موجود ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں موجود فوجیوں کو "پوری دنیا کے ہیروز" قرار دیتے ہوئے اپنے ٹویٹر پیغام میں اعلان کیا کہ ہم داعش پر فتح حاصل کر چکے ہیں لہذا ہمارے فوجی اب وطن واپس لوٹ آئیں گے۔ انہوں نے اسی طرح اپنے اس فیصلے پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم مشرق وسطی کی پولیس نہیں ہیں۔ ہم کس لئے شام میں اپنے دشمنوں کے فائدے کیلئے جنگ کریں اور وہاں رہ کر ان کیلئے اور ایران کیلئے داعش کو نابود کریں؟ اب اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دینے اور اپنے جوانوں کو وطن واپس لوٹانے کا وقت آن پہنچا ہے۔
 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ سینیٹ کے بعض اراکین کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ خاص طور پر امریکی سینیٹر برونی سینڈرز نے اس بارے میں کہا کہ دیگر ممالک سے ہمارا فوجی انخلاء اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت انجام پانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایسا اقدام نہیں جو امریکہ کے دمدمی مزاج صدر ڈونلڈ ٹرامپ انجام دینے کے قابل ہوں۔ یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شام سے امریکی فوجیوں کے اچانک انخلاء کی اصلی وجوہات کیا ہیں؟ پہلی نظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دعوی کہ شام میں موجود امریکی فوجیوں کا مقصد داعش کے خلاف جنگ کرنا ہے حقیقت کے قریب نہیں بلکہ ایران اور کردوں کے خلاف ترکی کے فوجی اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک نفسیاتی ہتھکنڈہ ہے۔ گذشتہ سال کے وسط میں شام میں داعش کی کمر ٹوٹ چکی تھی اور اس کے قبضے سے تقریباً تمام علاقے آزاد کروا لئے گئے تھے۔ اس وقت سے لے کر آج تک امریکی حکام یہ شور مچاتے آئے ہیں کہ شام میں بڑی تعداد میں ایران کے فوجی موجود ہیں جن کا اس ملک سے نکلنا بہت اہم ہے۔
 
دوسری طرف امریکہ کے ایوان نمائندگان کی اسلحہ کی روک تھام کی کمیٹی کے رکن سیٹ مولٹن نے شام میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے بارے میں کہا تھا: "ہم نے شام میں اپنے فوجی اس لئے بھیجے ہیں تاکہ ایران سے مقابلہ کر سکیں اور شام سے ان کا انخلاء داعش کی شکست یا دیگر اقدامات پر منحصر نہیں بلکہ شام سے ایرانی فوجیوں کے انخلاء پر منحصر ہے۔" مزید برآں، موجودہ حالات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے اپنے فوجی واپس بلانے کے فیصلے کی بنیادی وجہ انہیں اندرونی سطح پر درپیش دباو کی شدت کم کرنا ہے۔ ٹرمپ گذشتہ چند ہفتوں سے شدید دباو کا شکار ہیں جس کی وجہ سپریم کورٹ میں ایک بار پھر ان کے احتساب پر غور ہونا ہے۔ اسی طرح ان کے سابق وکیل پر بھی فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ 2016ء میں امریکہ کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت پر مبنی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مداخلت اس سے کہیں زیادہ وسیع حد تک انجام پائی ہے جس کا تصور کیا جا رہا تھا۔ ایسے حالات میں شام اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کی وطن واپسی کافی حد تک ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف رائے عامہ میں موجود منفی تاثرات اور اس کے نتیجے میں انہیں درپیش دباو کو کم کر سکتا ہے۔ امریکی رائے عامہ عراق میں 4000 امریکی فوجیوں کے قتل کے بارے میں اچھا تاثر نہیں رکھتے لہذا یہ فیصلہ انہیں کافی حد تک خوش کر سکتا ہے۔
 
شام سے امریکہ کا ممکنہ فوجی انخلاء ایک اور پہلو سے بھی اہم ہے۔ بعض تجزیہ کاران کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے امریکی فوجیوں کی وطن واپس پر مبنی فیصلے کا ایک مقصد ترکی اور اسرائیل کو فوجی اقدامات انجام دینے میں زیادہ آزادی اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کرد اکثریتی علاقوں میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کردوں کے خلاف جاری ترکی کے فوجی آپریشن میں ایک اہم رکاوٹ تصور کی جاتی تھی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اب امریکہ کی نظر میں شام کے کرد باشندوں اور گروہوں کی اہمیت ویسی نہیں رہی جو داعش کے طاقت کے زمانے میں تھی۔ اس وقت امریکہ نے کردوں کی فوجی اور جیوپولیٹیکل طاقت سے بہت اچھی طرح فائدہ اٹھایا اور اب انہیں ترک فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جا رہا ہے۔ شام سے امریکہ کا فوجی انخلاء ایک طرف تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف اسلامی مزاحمتی بلاک اور روس کی حقیقی کامیابی کو ثابت کرتا ہے جبکہ دوسری طرف اس سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ مستقبل قریب میں شام کے خلاف ترکی اور اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
خبر کا کوڈ : 768745
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے