0
Friday 28 Dec 2018 10:29

کشمیر صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں

کشمیر صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

جموں و کشمیر کی طرح گلگت و بلتستان بھی ہمارا ملی سرمایہ ہیں، پاکستان کے دیگر صوبوں کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیا ہوگی کہ گلگت و بلتستان کو آئینی حقوق دیئے جائیں، وہاں کا تعلیمی معیار بلند کیا جائے، صحت اور رفاہ کی سہولتیں عام کی جائیں اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق وہاں کے باشندوں کو بھی مساوی حقوق دیئے جائیں نیز وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔ یوں تو پورے پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال دگرگوں ہے  لیکن گلگت بلتستان میں یہ صورتحال اس وقت اور بھی بدتر ہو جاتی ہے، جب وہاں پریس پر بھی پابندی لگائی جاتی ہے اور بائیس تئیس سالہ جوانوں کو بھی واچ لسٹ میں ڈالا جاتا ہے۔ لوگ اغوا ہونے لگتے ہیں اور صحافی لاپتہ ہو جاتے ہیں، وکیلوں کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور ایسے میں اگر  کوئی آئینی حقوق کی بات کرتا ہے تو اس پر بغاوت کا مقدمہ قائم کر دیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ صحافیوں کے نام بھی فورتھ شیڈول میں ڈالے جاتے ہیں۔[1]

ظاہر ہے اس صورتحال پر کوئی کشمیری، سندھی، بلوچی یا پختون خوش نہیں ہے۔ ہم سب ان باتوں سے نالاں ہیں اور اس حد تک انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے وجود اور کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ دوسری طرف گلگت و بلتستان کے مسئلے کا کشمیر سے جڑا ہونا ایک تاریخی حقیقت ہے، جس سے کسی طور بھی آنکھیں نہیں چرائی جا سکتیں۔ مسئلہ کشمیر کا بہانہ کر کر گلگت و بلتستان کے عوام کو ان کے آئینی حقوق نہ دینا محض ایک ڈھونگ ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے لوگوں کو تمام تر حقوق دیئے جا سکتے ہیں تو پھر گلگت و بلتستان کے لوگوں کا کیا قصور ہے! یہ صرف مفاد پرست سیاستدانوں، حکمرانوں اور مقتدر اداروں کی چالیں ہیں، جنہیں سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان بھی لڑاو اور حکومت کرو کے منصوبے پر عمل کیا جا رہا ہے، ورنہ خود مختار اور مقتدر اداروں کو گلگت بلتستان کی ترقی سے کون روک سکتا ہے۔ ظلم و ناانصافی کشمیر میں ہو یا گلگت و بلتستان میں یا فلسطین میں، ہمیں اسے منظر عام پر لانا چاہیئے اور اس کی ہر ممکنہ طریقے سے مذمت کرنی چاہیئے۔

کشمیری پاکستان بننے سے پہلے ہی ہندووں کے مظالم کا شکار چلے آرہے ہیں، جس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ 13 جولائی 1931ء میں کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں نے عبدالقدیر نامی کشمیری رہنماء کو باغی قرار دیکر گرفتار کرنے پر سرینگر سنٹرل جیل کے سامنے احتجاج کیا۔ ظہر کی نماز کے وقت جب مظاہرین میں سے ایک نوجوان نے نماز کے لئے اذان دی تو ایک ڈوگرہ سپاہی نے گولی چلا دی، جس سے اس موذن کی موت واقع ہوئی، اسی اذان کو اسی مقام سے ایک دوسرے نوجوان نے شروع کیا، لیکن اسے بھی گولی ماردی گئی۔ تاریخ کے مطابق اس طرح بائیس نوجوان ہلاک ہوئے تب یہ اذان تکمیل کو پہنچی۔ چنانچہ اس قتل عام کی یاد میں ہر سال کشمیر میں 13 جولائی کو یوم شہدائے کشمیر منایا جاتاہے۔[2]

کشمیریوں کی نظریاتی، تاریخی اور فکری بنیادیں اس طرح سے استوار ہیں کہ وہ کسی طور بھی ہندوستان کی غلامی پر رضامند نہیں ہیں، بلکہ یوں سمجھیئے کہ کشمیریوں کے خون میں ہی ہندوستان کی نفرت اور پاکستان کی محبت رچی بسی ہوئی ہے۔ اس محبت کے جرم میں اب تک لاتعداد کشمیری مارے گئے ہیں بلکہ بدترین تشدد کے ساتھ مارے گئے ہیں۔ تاریخ کشمیر اس بات پر شاہد ہے کہ لوگوں کو درختوں کے ساتھ لٹکا کر ان کی کھالیں تک اتاری گئی ہیں اور آج بھی مقبوضہ کشمیر میں اسرائیلی طرز پر نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ہندوستانی فورسز کے پیلٹ گن حملوں میں اتنے زیادہ کشمیری بچے، بوڑھے اور جوان بینائی سے محروم ہوچکے ہیں کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی چیخ اٹھی ہے۔ البتہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ واویلا بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔

کشمیر میں کشمیریوں کو ٹارچر کرنے کے لئے اسرائیلی فورسز باقاعدہ جموں کشمیر کے دورے کرتی ہیں اور بھارتی فوجیوں کو کشمیریوں پر ظلم و ستم کرنے کے نت نئے حربے سکھاتی ہیں۔ جیسا کہ ماضی قریب میں ایک اسرائیلی دفاعی وفد نے جموں کشمیر میں فوج کے نارتھرن کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ دفاعی ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اسرائیلی فوجی وفد کی قیادت میجر جنرل یاووک بارک کر رہے تھے۔ نارتھرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ انچیف لیفٹنٹ جنرل دیوراج انبوکے ساتھ ملاقات میں اسرائیلی وفد نے کشمیر کے حوالے سے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس صورتحال پر کوئی بھی اصول پرست، عاقل اور انسانیت کا ہمدرد انسان خاموش نہیں رہ سکتا۔ انسانی ہمدردی ہم سب کی مشترکہ میراث ہے۔ ہمیں انسانی ہمدردی کے ناطے کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیئے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرکے انہیں یہ یقین دلانا چاہیئے کہ عزت، آزادی اور شہادت کے اس راستے میں کشمیری تنہا نہیں ہیں۔ یاد رکھئے کہ جس طرح فلسطین صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ انسانی حقوق اور مسلمانوں کی نسل کشی کا مسئلہ ہے، اسی طرح کشمیر کا مسئلہ بھی صرف کشمیریوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی اقدار اور امت مسلمہ کی بقا کا مسئلہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
[2] Freedom struggle in Kashmir
خبر کا کوڈ : 769060
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب