0
Friday 28 Dec 2018 23:19

شام کے کرد اور امریکہ کی بے وفائی

شام کے کرد اور امریکہ کی بے وفائی
تحریر: ڈاکٹر سید نعمت اللہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد شام سے امریکی فوجیوں کو وطن واپس بلا لیں گے۔ ان کے اس اعلان سے کچھ دن پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا تھا کہ وہ کرد اکثریتی شہر روژاوا میں فوجی آپریشن کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی تھنک ٹینک نیو امریکن فاونڈیشن میں بین الاقوامی سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے محقق جانن ڈی جیوانی نے امریکی صدر کے اس اعلان کو شام کے کردوں سے غداری قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر متوقع اور بہت حد تک عجیب و غریب فیصلہ شام کے کرد باشندوں اور گروہوں سے بے وفائی کا واضح مصداق ہے۔ کرد جماعتیں امریکہ کو ایک بااعتماد اتحادی تصور کرتی آئی ہیں اور ترکی کی فوجی یلغار کے مقابلے اپنا محافظ سمجھتی ہیں۔ ترکی نے کچھ عرصے سے شام کے شمال میں واقع کرد اکثریتی علاقوں میں فرات شیلڈ نامی ملٹری آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد کرد علیحدگی پسند عناصر کی نابودی بیان کیا گیا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے شام سے فوجی انخلاء کے اعلان کے بعد ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی اعلان کیا ہے کہ انہوں نے دریائے فرات کے مشرقی حصے میں ہونے والا فوجی آپریشن عارضی طور پر ملتوی کر دیا ہے۔
 
سیاسی اور فوجی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ شام سے امریکی فوجیوں کی وطن واپسی کے بعد کیا ترکی آسانی سے کرد اکثریتی علاقوں پر اپنا فوجی کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ابھی سے ترکی کو درپیش مشکلات کا آغاز ہو چکا ہے۔ فرانس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پسماندگی کے باعث پیدا ہونے والے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شام کے کرد اکثریتی علاقوں میں امریکہ کی جگہ لینے کا خواہاں ہے۔ لہذا فرانسیسی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ان کے فوجی نہ صرف شام میں موجود رہیں گے بلکہ کرد باشندوں اور گروہوں کی حمایت بھی جاری رکھیں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے خصوصی مشیر الیزہ محل میں کرد سیاسی رہنماوں کے ایک وفد سے بھی ملاقات کر چکے ہیں۔ اس وفد کی سربراہی الہام احمد کر رہے تھے۔ دوسری طرف شام آرمی بھی روس کے فوجی دستوں کے ہمراہ دریائے فرات کے مشرقی حصے میں داخل ہو گئی ہے اور منبج شہر کے مغرب میں واقع علاقے العریمہ میں پڑاو ڈال چکی ہے۔
 
درحقیقت شام کے کردوں کے پاس امریکہ کی بے وفائی کے بعد ترکی کے مقابلے میں ہر طاقت کا سہارا لینے کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ چاہے یہ طاقت فرانسیسی فوجیوں کی صورت میں ہو جو البتہ زیادہ قابل اعتماد نہیں ہیں یا شام آرمی اور روسی فوجیوں کو دریائے فرات کے مشرقی حصے میں لانے کی صورت میں ہو۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ کرد اس حمایت اور مدد کے بدلے انہیں کیا دینے پر راضی ہوئے ہیں لیکن اب تک انہوں نے کامیابی سے عمل کیا ہے۔ ترکی کے صدر کے ترجمان ابراہیم کالن نے کرد علاقوں میں شام آرمی کی موجودگی پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر شام آرمی نے ادلب میں موجود ترک فورسز کو نشانہ بنایا تو وہ شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ اسی طرح ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو نے شام کے کرد گروہوں کی حمایت پر فرانس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ کرد فورسز کی حمایت کسی کیلئے فائدہ مند ثابت نہیں ہو گی۔
 
بہرحال، ترکی جو یہ سوچ رہا تھا کہ شام سے امریکہ کا فوجی انخلاء اور کردوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کی بے وفائی ان کیلئے دریائے فرات کے مشرقی حصے میں فوجی کاروائی کا راستہ ہموار کر دے گی وہ غلط ثابت ہوا ہے۔ خاص طور پر کرد اکثریتی شہر منبج میں شام آرمی کے ہمراہ روسی فوجی دستوں کی موجودگی ترکی کیلئے ایک واضح پیغام ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس اقدام کے ذریعے ترکی کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ دریائے فرات کے مشرقی حصے میں ترکی کی فوجی کاروائی کی حمایت نہیں کرتے بلکہ کردوں اور شام حکومت کے درمیان کوئی مناسب ڈیل طے پا جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شاید انہی رکاوٹوں کے باعث ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے لفظی جنگ شروع کرنے کو مناسب سمجھا ہے تاکہ رائے عامہ کی توجہ مشرقی فرات کی بجائے اس مسئلے کی جانب مبذول کر سکیں۔ یہ وہ تجزیہ ہے جو اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے پیش کیا ہے اور حقیقت کے قریب بھی دکھائی دیتا ہے۔ ترکی نے شام کی سرحد کے قریب بہت زیادہ فوجی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کرد علاقوں کے مرکز قامشلی اور روژاوا نامی پورے کرد علاقوں تک اس کا پہنچنا ممکن نہیں ہو گا۔
 
خبر کا کوڈ : 769088
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے