0
Sunday 13 Jan 2019 16:35

کیا امریکہ واقعی اچھائی کی طاقت ہے؟

کیا امریکہ واقعی اچھائی کی طاقت ہے؟
تحریر: سید اسد عباس
 
گذشتہ دنوں امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے درج بالا عنوان کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں اچھائی کی طاقت ہے۔ انھوں نے اپنی اس تقریر میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے وژن کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے خطے میں اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے پرانی دشمنیوں کو فراموش کرنا ہوگا۔ پومپیو کے مشرق وسطیٰ کے دورے کا مقصد شام سے امریکی فوج کے انخلاء پر اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لینا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس سلسلے میں سفارت کاری کو بروئے کار لائے گا اور تمام ایرانی فوجیوں کو شام سے نکال باہر کرے گا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی یقین دلایا کہ شام کے مصائب زدہ عوام کے لیے مستقل امن نیز استحکام کے لیے بھی کوششیں تیز تر کی جائیں گی۔ لگے ہاتھوں مائیک پومپیو نے اوباما انتظامیہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے غلط پالیسیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے ایران کے خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، داعش کے تسلط، عرب بہار کو بھی اوباما انتظامیہ کی ہی ناکامی قرار دیا اور ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کو اس کا ایک اہم سبب قرار دیا۔ مائیک پومپیو نے اپنی اس تقریر میں یمن اور فلسطین کے قضیے کا بالکل بھی تذکرہ نہ کیا۔ پرانی دشمنیوں کو بھلانے سے ان کی مراد یقیناً عرب اسرائیل اختلافات ہوں گے، جن کو انھوں نے فراموش کرکے عرب اتحادیوں کو ایران سے نبرد آزما ہونے کی دعوت دی۔
 
مائیک پومپیو کی یہ تقریر بہت سے اہم پہلو لیے ہوئے ہے۔ اس تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے الجزیرہ کے ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یہ تقریر امریکی رعونت کی علامت ہے، جس میں وہ مشرق وسطیٰ کے جنگ زدہ عوام کو ایک بار پھر احکامات جاری کر رہے ہیں۔ اس تقریر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ شام میں شروع کی جانے والی جنگ کو عملی طور پر گروہ مقاومت سے ہارنے کے بعد دوبارہ سفارتکاری اور اقتصادی پابندیوں کے ذریعے جنگ کا پانسہ پلٹنا چاہتا ہے۔ تاریخ اس امر کی گواہی دے گی کہ شام اور عراق میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہونے والی شکست کوئی چھوٹی شکست نہیں ہے۔ برسوں کی اقتصادی، سفارتی پابندیوں، سیاسی چالبازیوں، پراپیگنڈہ جس کے لیے یقیناً اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہوگی، کے باوجود امریکہ اور اس کے ناہنجار اتحادی ایران کو اپنے آزادانہ موقف سے ایک قدم پیچھے نہیں کرسکے۔ وہ ناسور جس کی حفاظت کے لیے یہ سب چالیں چلی جا رہی تھیں، آج براہ راست ایران اور حزب اللہ نیز فلسطینی جوانوں کے میزائلوں کے ہدف پر ہے۔ یہ بہت بڑی ناکامی ہے۔ کجا یہ کہ پانچ عرب ریاستوں کو براہ راست جنگ میں اسرائیل نے مغربی طاقتوں کے تعاون سے تن تنہا شکست دی اور کہاں یہ جنگ جس میں اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور ان کے عرب اتحادی سب مل کر بھی گروہ مقاومت کو شکست دینے میں ناکام رہے۔
 
تاریخ اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے افراد اس حقیقت کا انکار نہیں کرسکتے کہ انقلاب اسلامی ایران کے وقت سے امریکہ نے ایران اور اس انقلاب کے خلاف ایک سرد جنگ کا آغاز کر رکھا ہے، جس میں اسے اپنے اتحادیوں کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ یہی ایران تھا، جو انقلاب سے قبل امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی تھا، عرب بادشاہتوں کو بھی ایران اور اس کے عوام سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ یعنی جب تک ایرانی قوم امریکہ کی کاسہ لیسی اور غلامی کا طوق گلے میں سجائے ہوئے تھی تو امریکہ کو اس سے نہ کوئی خطرہ تھا اور نہ ہی کوئی تکلیف۔ جیسے ہی ایرانی قوم نے امام خمینی ؒ کی قیادت میں کاسہ لیسی اور غلامی کے طوق کو اتار پھینکا، وہ مشرق وسطیٰ کے لیے ایک خطرہ بن گیا۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں، اس انقلاب کے خلاف فرقہ وارانہ پروپیگنڈہ، عرب دنیا میں اس انقلاب کو رافضی انقلاب کے عنوان سے متعارف کروانا، ایران عراق جنگ اور صدام حسین کو اس جنگ کے لیے تھپکی دینا، عرب ممالک کے لیے انقلاب اسلامی کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا، مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ جذبات کو بڑھاوا دے کر مسلکی تقسیم کو گہرا کرنا، تاکہ مختلف مسالک کے مابین روابط اور ہم آہنگی کا امکان کم سے کم رہے اور شام و عراق میں داعش اور شدت پسند گروہوں کی مدد کے ذریعے ان ممالک کو کمزور کرنا بنیادی طور پر اس آزاد فکر کو روکنے کے مختلف حربے ہیں، جو ایران میں منظر عام پر آئی اور آہستہ آہستہ عالم اسلام کے مختلف گروہوں میں سرایت کر رہی ہے۔
 
فرنگی کی دشمن اہل اسلام کی یہی آزاد فکر ہے، جسے علامہ اقبال نے روح محمدی قرار دیا ہے۔ دنیا پر اپنے وسائل سے حکومت کرنے والے کو ایرانی، عرب، ایشیائی، افریقی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ یہ محمدی روح جس بھی قوم میں ہوگی، فرنگی اس کا دشمن ہوگا اور مفاد پرست مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر اس محمدی روح کے خلاف اقدامات کرتا رہے گا۔ مائیک پومپیو اور امریکہ انتظامیہ شام میں اس محمدی روح سے منہ کی کھانے کے بعد ایک مرتبہ پھر اپنے گماشتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ 1979ء سے شروع کردہ اس جنگ میں بری طرح سے ناکام ہوچکے ہیں۔ یہ فکر اب ایران اور اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ لبنان، بحرین، نائجیریا، یمن، قطیف، افغانستان اور فلسطین تک پھیل چکی ہے اور اس فکر نے اپنے اوپر مسلط کردہ اس جنگ کو لڑنے کے لیے انہی سیاسی، سفارتی اور تزویراتی وسائل کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو اس کے خلاف استعمال کیے جا رہے تھے۔ میدان جنگ تو اللہ کے شیروں کے لیے پہلے ہی میدان فتح تھا، اب تو سفارتی میدانوں میں بھی روح محمدی معرکے مار رہی ہے۔ پانچ جمع ایک نیز ایران کے مابین ہونے والا نیوکلیائی معاہدہ اور اس کے حوالے سے مختلف ممالک کی امریکی انکار پر مذمت سفارتی میدان کی ایک عظیم فتح ہے۔ اسی طرح شام، عراق، افغانستان میں دنیا کے دوسرے قطب کا ایران سے قریب ہونا اور اس کے موقف کو اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ عملاً اس کے ساتھ کھڑے ہونا سفارتی دنیا کا ایک بدلا ہوا منظر نامہ ہے، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں ہو رہا ہے۔
 
مائیک پومپیو کا امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں اچھائی کی طاقت کہنا نہایت مضحکہ خیز ہے، امریکہ مشرق وسطیٰ تو ایک جانب دنیا کے کسی خطے میں اچھائی کی طاقت نہیں ہے۔ کیا ہیروشیما اور ناگاساکی کے لوگ اسے اچھائی کی طاقت کہہ سکتے ہیں؟ کیا ویتنام والوں کو باور کروایا جاسکتا ہے کہ امریکہ اچھائی کی طاقت ہے؟ کیا افغانوں کو کوئی غلط فہمی ہوگی کہ امریکہ اچھائی کی طاقت ہے؟ کیا وینزویلا اور جنوبی امریکہ کے ممالک کو باور کروایا جاسکتا ہے کہ امریکہ اچھائی کی طاقت ہے؟ دنیا کا کونسا ایسا خطہ ہے، جو امریکہ کی جانب سے دیئے گئے زخموں کی وجہ سے لہو لہان نہیں ہے۔ جہاں خون بہتا نہیں ہے، وہاں امریکی دوستی میں لگے ہوئے زخم معاشروں میں اندرونی زخموں اور ناسوروں کی صورت میں ظاہر ہیں۔ کیا پاکستانی عوام کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ نے ہمارے ساتھ کوئی اچھائی کی ہے؟ کیا خود مصری کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ نے ان سے کوئی اچھائی کی ہے، جن کے گذشتہ چالیس برسوں میں منتخب ہونے والے واحد عوامی نمائندے یعنی ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا مارشل لاء کے ذریعے خاتمہ کیا گیا اور ایک جرنیل سیسی کو ایک مرتبہ پھر مصری عوام پر مسلط کر دیا گیا۔ مائیک پومپیو یا امریکی تاریخ سے آگاہ کوئی بھی انسان اتنا سادہ نہیں ہے کہ امریکہ کو واقعی اچھائی کی طاقت سمجھتا ہو۔ یہی امریکہ کا اصل چہرہ ہے، جو مائیک پومپیو نے قاہرہ میں پیش کیا، یعنی جھوٹ کو سچ کہنا اور اسی کو اپنی سب سے بڑی خصوصیت قرار دینا۔ مگر اب دنیا اتنی سادہ نہیں رہی کہ امریکہ کو اس کے اس قبیح چہرے کے ساتھ قبول کرتی رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 771882
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب