0
Tuesday 29 Jan 2019 14:30

افغانستان کے بدلتے حالات اور تبدیل ہوتے طالبان

افغانستان کے بدلتے حالات اور تبدیل ہوتے طالبان
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

مجھے کل کے دن کی طرح یاد ہے کہ ٹی وی پر بار بار  ورلڈ ٹریڈ ٹاور کو گرتے دکھایا جا رہا تھا اور تجزیہ نگار کسی بڑی جنگ کی پیش گوئی کر رہے تھے۔ تھوڑے ہی دنوں میں اس واقعہ کی ذمہ داری القاعدہ پر ڈال دی گئی اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو پکڑنے کی کوشش کی جانے لگی۔ پاکستان اور کئی دوست ممالک نے طالبان کو سمجھایا کہ اسامہ کو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے، تاکہ خطے میں امریکی مداخلت سے بچا جا سکے، نہیں تو امریکہ اس بہانے خطے میں داخل ہو جائے  گا۔ طالبان نے کسی کی نہ سنی اور امریکی حملہ ہوگیا۔ پورے حالات کا جائزہ لیا جائے تو یوں لگتا ہے کہ امریکہ خطے میں مداخلت کے تیار بیٹھا تھا۔ اس حملے نے  پورے خطے کو متاثر کیا، پاکستان کے قبائلی علاقے براہ راست طالبان کے قبضے میں چلے گئے، سوات جیسا بندوبستی علاقہ بھی طالبان کا مرکز بن گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں پر رینجرز کو تعینات کرنا پڑا۔

افغانستان میں پچھلے 17 سال سے جاری اس لڑائی میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔ پورا ملک تباہی کے دہانے پر ہے، انفراسٹکچر برباد ہوچکا ہے، لاکھوں لوگ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2009ء کے بعد سے ہر سال چھ سے نو ہزار کے درمیان عام شہری مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ  ہزاروں لوگ ایسے ہیں جو زخمی ہوئے اور عمر بھر کے لئے کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہوگئے۔ افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ 2014ء میں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی سکیورٹی فورسز کے 45000 ارکان سے زائد مارے جا چکے ہیں۔ یہ یقیناً ایک بڑی تعداد ہے، مگر اس کے باوجود کہ افغان سکیورٹی فورسز کو بہت نقصان ہوا ہے، کل آبادی کا دو تہائی حصہ حکومت کے زیر کنٹرول یا زیر اثر ہے اور باقی پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ اس وقت افغان فورسز کے ساتھ ساتھ  بڑی تعداد میں نیٹو فورسز تعینات ہیں۔ اس میں چودہ ہزار امریکی اور باقی اڑتیس نیٹو ملکوں کے آٹھ ہزار سپاہی ہیں۔ افغانستان میں بموں کی ماں نامی بموں کے استعمال، بے تحاشہ ڈرون بمباری اور جدید ترین اسلحہ کے استعمال کے باوجود کامیاب نہ ہوسکے، یہ ان ممالک کی فوجی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں مذاکرات ہوئے، جن میں امریکہ کی نمائندگی  افغان نژاد خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کر رہے تھے۔ اب یہ طے پایا ہے کہ امریکی افواج افغانستان سے واپس چلی جائیں گی اور طالبان بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ (جس سے مراد فقط امریکہ کیلئے خطرہ ہے) گروہوں کو افغانستان میں جگہ نہیں دی جائے گی۔ جب میں یہ شرط  پڑھ رہا تھا، مجھے عجیب لگ رہا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ قابض قوتیں  بڑی تعداد میں داعش کو افغانستان منتقل کر رہی ہیں اور ان کے ذریعے خطے کو لمبے عرصے تک عدم استحکام سے دچار رکھنا چاہتی ہیں اور اس کے بعد داعش کی کارروائیاں بڑھ گئیں تھیں، جنہوں نے پاکستانی اداروں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔

چند ماہ پہلے کی ہی بات ہوگی، افغانستان میں کچھ  شیعہ مسافروں کو شناخت کرکے بڑی بے دردی سے شہید کیا گیا۔ اس دردناک واقعہ کے خلاف افغانستان اور بیرون افغانستان کافی احتجاج کیا گیا۔ اس دوران طالبان کو قریب سے مانیٹر کرنے والے ایک دوست سے ملاقات ہوئی، اس نے کہا کہ افغان طالبان افغانستان میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کا تحفظ کر رہے ہیں اور ان واقعات میں داعش ملوث ہے۔ مجھے یہ سن کر بہت حیرت ہوئی اور لگا جیسے کوئی نہ ہونے والی بات ہو رہی ہے۔ جب غور کیا تو پتہ  چلا کہ استعماری قوتوں کی یہ خواہش ہے کہ افغانستان کو مزید عدم استحکام سے دچار کریں اور وہاں اپنے فرمانبردار مسلط کر دیں۔ شام اور عراق میں تجربے کے بعد داعش کا تجربہ افغانستان میں کئے جانے کا امکان تھا، جس سے شیعہ کمیونٹی کو تو خطرہ تھا ہی، کیونکہ اس انسانیت دشمن گروہ نے شام اور عراق نے جو مظالم ڈھائے، وہ ان کے سامنے تھے۔

اس گروہ سے طالبان کو بھی خطرہ تھا، اس مشترکہ دشمن کے خلاف دونوں گروہ ایک ہوگئے اور اس کی تصدیق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو نے کر دی کہ ہم جہاد کا راستہ اس وقت تک ترک نہیں کریں گے، جب تک امریکی ہماری سرزمین پر موجود ہیں، شیعہ افغانی قوم کا اہم حصہ ہیں اور ہم انہیں بھائی تسلیم کرتے ہیں، ایران کو ہم افغان قوم کا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور ہم ایرانی قوم اور حکومت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہماری طرف سے انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی اور یہ پالیسی صرف ایران کیلئے نہیں بلکہ ہمارے دیگر پڑوسی ممالک کیلئے بھی ہے، ہمارے پاس ایک قیادت اور لائحہ عمل ہے، جس کے ذریعے ہم بہت سے پڑوسی اور دوست ممالک سے رابطے میں ہیں، بالکل ہم اسی طرح ہم ایران کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور اس کے ساتھ ہم اپنے تعلقات کو بہتر کر رہے ہیں، جو کہ ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، کیونکہ اس سے پہلے بھی افغان صدر اور پھر طالبان کی طرف سے عید کے موقع پر کی گئی جنگ بندیاں تھوڑے ہی عرصے بعد ٹوٹ گئیں اور پھر سے طبل جنگ بج گیا، جس کی آگ میں افغان جل رہے ہیں۔ طالبان نے مذہبی عقیدت اور جذبات میں بہہ کر  اسامہ بن لادن کی حمایت کا جو فیصلہ کیا تھا، وہ ان کے لئے اور خطے کے دیگر ممالک کے تباہ کن ثابت ہوا۔ امریکی براہ راست خطے میں پہنچ گئے اور دنیا بھر سے دہشتگرد بھی یہاں کے امن کو غارت کرنے آگئے۔ اب موقع ہے کہ اس طرح کا معاہدہ کیا جائے، جس سے خطے سے امریکی اثر و رسوخ ختم ہو جائے، جس کے نتیجے میں خطے میں امن آئے اور لوگ امن کی زندگی جی سکیں۔
خبر کا کوڈ : 775002
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب