0
Friday 8 Feb 2019 11:43

انقلاب اسلامی اور قرآنی سرگرمیاں

انقلاب اسلامی اور قرآنی سرگرمیاں
تحریر: ڈاکٹر مولانا سید علی عباس نقوی

آج انقلاب اسلامی ایران اپنے شاب کے چالیس سال کی جانب بڑھ رہا ہے اور انہی دنوں اس بےنظیر انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ یہ انقلاب درحقیقت ایک ایسا انقلاب ہے، جس نے بیسویں صدی کے آخر میں دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں اور مستضعفین کے دلوں میں امید کی کرن پیدا کر دی۔ آج اس امید بخش شجرہ طیبہ کی عمر کے چار عشرے  گزر چکے ہیں۔ اس عظیم اسلامی انقلاب نے ایران میں اور عالمی سطح  پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس خدائی معجزے کے تمام ثمرات اور مبارک اثرات کا احاطہ کرنا تقریباً ناممکن نظر آتا ہے۔ اس مقالہ میں ہم انقلاب اسلامی کے ثقافتی اثرات میں سے ایک نمایاں پہلو یعنی ’’انقلاب اسلامی کے قرآن کریم کی ترویج و تبلیغ کے اثرات‘‘ پر مختصراً روشنی ڈالیں گے، تاکہ انہیں پہلووں کو اپناتے ہوئے ہم بھی ان اثرات و نتائج کو اپنے معاشرے میں رائج کرسکیں اور اس عظیم نعمت کی قدر کو جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور شکرگزاری کی توفیق حاصل کریں۔

چالیس سالوں میں انقلاب اسلامی میں قرآن کریم کی ترویج و تبلیغ کے چند نمایاں اثرات اور نتائج پر ایک نظر:
  • * انقلاب اسلامی کے نتیجے میں قرآن کی رو سے ’’دین سے سیاست کی جدائی‘‘ کے شعار کا عملاً رد ہونا۔
    * قرآن کے وضع کردہ اصول ’’لا شرقیہ و لا غربیہ" کے تحت حکومت کا قیام۔
    * قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سیاسی نظام کا نفاذ۔
    * ایران کے آئین کا قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ترتیب دیا جانا۔
    * انقلاب اسلامی نے قرآن کریم کو طاقوں اور غلافوں سے نکالا کر تمام شعبہ ہای زندگی میں عملی طور پر پیش کیا اور قرآن کریم کو دستور زندگی بنانے کے لیے عملاً اقدامات کیے۔
    * انقلاب اسلامی کے بعد قرآن پر بے تحاشا علمی و تحقیقاتی کام ہوا ہے اور اس سلسلے میں قرآن کریم کے تراجم، تفاسیر اور علوم و معارف پر ہزاروں جلد کتابیں لکھی گئی ہیں نیز مختلف موضوعات پر علمی و تحقیقاتی قرآنی مجلات کا اجراء بھی اسی کی ایک کڑی ہے۔

    * قرآن کریم کو گھر گھر تک پہچانے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں قرآنی نسخہ کی اشاعت کی گئی، جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ مزید یہ کہ ایران کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں سب سے زیادہ قرآن کریم کی نشر و اشاعت کی جاتی ہے۔
    * انقلاب اسلامی کے بعد قرآن کی طرف بازگشت سے مسلمانوں کے عزت و وقار میں اضافہ ہوا ہے۔
    * قرآنی تعلیمات اور مفاہیم کی روشنی میں انقلاب اسلامی کے بعد تمام میدانوں میں ایران کی ترقی کا سفر تیزی سے جاری ہے۔
    * انقلاب اسلامی کی برکت سے قرآنی ریڈیو، ٹیلی ویژن کا قیام اور سینکڑوں ویب سائٹس، سافٹ ویئرز اور موبائل ایپس بنائے جا چکے ہیں۔
    * اب تک قرآنی قصص و موضوعات پر بہت سی فلمیں اور ڈرامے فلمائے جا چکے ہیں۔
    * انقلاب اسلامی کے بعد ایران قرآنی ثقافتی سرگرمیاں کے حوالے سے پوری دنیا کا محور و مرکز بن گیا ہے۔

    * قرآنی موضوعات پر علمی، ادبی، ثقافتی مقابلہ جات، سیمینارز و نشستیں بھی آئے روز منعقد ہوتی رہتی ہیں۔
    * قرآنی معاشرے کی تشکیل کے سلسلے میں لا تعداد قرآنی مکاتب اور سینٹرز کا قیام بھی انقلاب کے مرہون منت ہے۔
    * انقلاب اسلامی کے بعد اب تک ہزاروں قرآنی تنظیمیں و ادارے معرض وجود میں آچکے ہیں۔
    * بڑی تعداد میں قرآنی یونیورسٹیز اور کالجز کا قیام انقلاب اسلامی کی برکات میں سے ہے۔
    * انقلاب اسلامی کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ اس وقت ایران قرآن کریم کے بین الاقوامی مقابلہ جات کا محور و مرکز بن چکا ہے اور اب تک مختلف جہات و موضوعات میں کئی بین الاقوامی قرآنی مقابلہ جات کروائے جا چکے ہیں۔

    * انقلاب کے بعد سے اب تک ایران میں ہر سال بین الاقوامی قرآنی موضوعات پر کتابوں کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
    * قرآن کریم کی تعلیم(ناظرہ، تجوید...) کے مقدمات کے بعد اب معاشرہ  تدبر اور قرآن کریم پر عمل کی طرف گامزان ہے۔
    * انقلاب اسلامی کے اثراث میں سے ایک یہ ہے کہ حفظ قرآن کریم پر  مختلف طریقوں اور روشوں سے بہت زیادہ کام  ہوا ہے، جس کی پوری دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اب تک ہزاروں افراد قرآن کریم کو اپنے سینوں میں محفوظ کرچکے ہیں۔
    * عالمی سطح پر  اتحاد بین المسلمین کے قرآنی اصول کا احیاء اور اس سلسلے میں عملی اقدامات کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔
    * انقلاب اسلامی معاشرے کو ہزاروں  قرآنی شخصیات، محققین، مترجمین، مفسرین، حفاظ و خوش الحان قراء کرام کے علاوہ قرآن کریم کے موضوعات پر ماہرین دے چکا ہے۔

  •  
آخر میں یہ بات بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ انقلابات کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی علاقہ، سرزمین یا مذہب سے مختص نہیں ہوتے اور ان کے اثرات نہ فقط ملکی  یا علاقائی سطح پر ہوتے ہیں، بلکہ ان انقلابات کے اثرات پوری دنیا میں رونما ہوتے ہیں، جن کو روکا نہیں جاسکتا۔ اگر فرانس، روس، چین یا دوسرے ممالک میں انقلاب آئے تو انہوں نے بھی باقی اقوام پر اپنے اثرات ڈالے، لیکن ایران میں آنے والے انقلاب اور باقی ممالک میں آنے والے انقلابات کا بنیادی فرق یہ ہے کہ ایران کا انقلاب ’’قرآن کریم‘‘ کے بنیادی اصولوں پر قائم ہے، جبکہ دوسرے ممالک میں آنے والے انقلابات خاص اقتصادی، یا معاشرتی نظریہ کی بنیاد پر تھے، کہ جن کا قرآن کریم سے کوئی براہ راست رابطہ نہ تھا۔ ایسے میں جہاں کہیں بھی ہم قرآنی معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں، وہاں کے لیے یہ اثرات و نتایج نمونہ عمل اور راہ گشا ہیں۔
"بشکریہ ماہنامہ العارف"
خبر کا کوڈ : 776857
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے