0
Friday 8 Feb 2019 13:07

انقلاب اسلامی، حیرت تو ہوتی ہے(2)

انقلاب اسلامی، حیرت تو ہوتی ہے(2)
تحریر: ثاقب اکبر
 
امام خمینی کی قیادت میں برپا ہونے والے انقلاب کا ایک مقبول عام نعرہ ”لا شرقیہ لا غربیہ، جمہوریہ اسلامیہ“ تھا۔ آج بھی ایران کی وزارت خارجہ کی عمارت کی پیشانی پر یہ نعرہ کندہ ہے۔ یہ نعرہ اس دور کی یاد دلاتا ہے، جب دنیا دو قطبی تھی۔ ہر چھوٹا ملک امریکا یا سوویت یونین میں سے کسی ایک کی پناہ لیتا تھا۔ جو ممالک بظاہر غیر جانبدار تھے، وہ بھی کسی نہ کسی بڑی طاقت کی طرف میلان رکھتے تھے۔ دونوں نظام اپنے عالمی اور اقتصادی تصورات پر استوار تھے۔ انقلاب اسلامی نے گویا ان دونوں تصورات کو مسترد کر دیا۔ اس کا اپنا تصور کائنات تھا، اپنا نظام حکومت تھا اور اپنا اقتصادی نظام۔ پھر یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے سوویت یونین کا خاتمہ ہوگیا۔ مرکزی ایشیاء کی کئی ایک ریاستیں سوویت یونین سے آزاد ہوگئیں۔ روس پھر بھی ایک بڑی طاقت تو تھا، لیکن دنیا بظاہر یک قطبی ہوگئی۔ امریکا واحد سپر پاور کی حیثیت سے ابھرا۔ اس کی آرزو تھی کہ جو بھی اس کے سامنے دم مارے، وہ اسے روند ڈالے۔ ایران کسی صورت اس کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہ تھا۔ ایران کی بعض پالیسیاں تو اسے کسی صورت گوارا نہ تھیں۔ ان میں سے سب سے اہم اس کی فلسطین کے بارے میں پالیسی تھی۔ امام خمینی نے اقتدار سنبھالتے ہی اسرائیل سے شاہ کے دور میں قائم سفارتی تعلقات منقطع کر لیے اور تہران میں قائم اسرائیلی سفارتخانے کی عمارت فلسطینیوں کے حوالے کر دی۔ اس کے لیے ایک باقاعدہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں مرحوم یاسر عرفات نے شرکت کی۔
 
امام خمینی نے اسرائیل کو ایک ناجائز صہیونی ریاست قرار دیا۔ وہ اسرائیل کو خطے میں سرطان کا پھوڑا قرار دیتے تھے۔ وہ اس سرزمین پر ایک ہی ریاست کو جائز سمجھتے تھے اور وہ تھی فلسطین۔ ان کی رائے میں اس سرزمین پر استعماری طاقتوں نے اسرائیل کو زبردستی مسلط کر رکھا ہے۔ وہ خطے کے مسائل کا حل اسرائیل کے خاتمے میں قرار دیتے تھے۔ مغرب اور خاص طور پر امریکا اور برطانیہ اس بات کو ہرگز گوارا نہیں کرسکتے تھے۔ وہ تو پہلے روز سے ہی اسرائیل کی ناز برداریاں کرتے چلے آئے تھے۔ انہی کے ایما پر اسرائیل اپنی توسیع کے منصوبے پر گامزن تھا۔ عرب ریاستوں پر خوف طاری تھا۔ انھوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس سے ”دوستانہ“ روابط کے قیام میں ہی عافیت سمجھ رکھی تھی۔ بعض عرب ممالک اپنے عوام کے خوف سے کھل کر تو اسرائیل کو تسلیم نہیں کر رہے تھے، لیکن درپردہ ان کے صہیونی ریاست سے تعلقات موجود تھے۔ ویسے بھی یہ امر ظاہر ہے کہ آج کی دنیا میں امریکا کی دوستی اور اسرائیل کی مخالفت دونوں اکٹھے تو نہیں چل سکتے۔ یہ ممالک فلسطینیوں کے بظاہر حامی تھے، لیکن درحقیقت فلسطینیوں کو کمزور کرنے کی اسرائیلی حکمت عملی پر زبانی جمع خرچ کے علاوہ ان کا کوئی ردعمل سامنے نہ آتا تھا۔
 
ادھر ایران آج بھی امام خمینی کی پالیسی پر قائم ہے۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے آج تک مشرق وسطیٰ میں جو اتار چڑھاﺅ پیدا ہوا، اسے سمجھنے کے لیے یہی پس منظر ہے۔ دیکھا جائے تو منافقت آشکار ہوتی چلی جا رہی ہے اور امام خمینی کی حکمت عملی کامیابی کے ساتھ ایک کے بعد دوسرا مورچہ سر کر رہی ہے۔ امام خمینی کا انقلاب خارجہ محاذ پر ہی نہیں، تمام تر معاشی مشکلات اور وحشت ناک پابندیوں کے باوصف داخلی محاذ پر کامیاب دکھائی دیتا ہے۔ داخلی کامیابیوں کا جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ مختلف شعبوں میں ہونے والی پیشرفت پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ تعلیم، صحت، مواصلات، دفاعی پیداوار، انفراسٹرکچر، صنعت، زراعت، بجلی کی پیداوار، پانی کے حصول کے ڈیموں کی تعمیر، علمی و سائنسی پیش رفت، سماجی علوم میں پیشرفت اور سیاسی نظام کی تسلسل کے ساتھ مضبوطی، گویا جس پہلو پر بھی نگاہ دوڑائی جائے، ایران کی ترقی خیرہ کن دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر اس وقت اور بھی حیران کن لگتا ہے، جب چالیس سال سے لگائی جانے والی عالمی سامراج کی پابندیوں کو ملحوظ نظر رکھا جائے۔
 
جن لوگوں نے انقلاب اسلامی سے پہلے کا ایران اور آج کا ایران دونوں دیکھے ہیں، وہ اس امر کی شہادت دیں گے کہ زمین تا آسمان فرق دارد۔ ایران میں داخل ہو کر رواں دواں ترقی یافتہ زندگی کو دیکھ کر یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ وہی ملک ہے، جو عالمی استعمار کی روزافزوں شرارتوں، جسارتوں اور پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ایران نے آزادی پسند قوموں کو اپنے عمل سے یہ پیغام دیا ہے کہ جو قوم استقامت سے آزادی کی راہ اختیار کرے گی، آخر کار سرافرازی اس کے قدم چومے گی۔ غلامی یا عزت و افتخار، دونوں راستوں میں سے ایک راستے کا انتخاب قوموں نے خود کرنا ہے۔ مشکلات تو آئیں گی، لیکن بالآخر عزت و سرفرازی بھی نصیب ہوگی۔ قوموں کو خوف کا حوا اتار پھینکنے کا فیصلہ کرنا ہے، دنیا میں عزت و افتخار کے حصول کا یہی راستہ ہے۔ یہ درست ہے کہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابیوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، لیکن حیرت کی اوٹ میں ایک خدا پرست با عظیمت قیادت، ایک با ایثار قوم کی مسلسل جدوجہد اور حکومت و عوام کے مابین اعتماد کا رشتہ دکھائی دیتا ہے۔ ان حیرت سامانیوں کے آئینے میں ہر پسماندہ قوم اپنا روشن مستقبل دیکھ سکتی ہے۔
(تمام شد)
خبر کا کوڈ : 776865
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے