0
Saturday 9 Feb 2019 06:02

انقلاب اسلامی ہے تو جہانی مگر۔۔۔۔۔

انقلاب اسلامی ہے تو جہانی مگر۔۔۔۔۔
تحریر: محمد حسن جمالی
 
11 فروری 1979ء انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کا تاریخ ساز دن ہےـ یہ انقلاب آج سے 39برس قبل ایران کی سرزمین پر عوامی طاقت سے معرض وجود میں آیا، جس کی قیادت زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھنے والے عظیم فقیہ امام خمینی( رہ) نے کی، ان کی رحلت کے بعد اس انقلاب کی قیادت رہبر معظم انقلاب حضرت امام خامنہ ای فرما رہے ہیں اور 11 فروری 2019ء کو سربلندی اور عزت سے سرشار یہ انقلاب چالیسویں برس میں داخل ہو جائے گا۔ انقلاب سے قبل ایرانی معاشرے کے حالات ناگفتہ بہ تھے اور اسی معاشرے میں امام راحل بھی اپنی زندگی کے پاکیزہ لمحات گزار رہے تھے۔ جب اس عظیم شخصیت نے دیکھا کہ ایرانی قوم خواب غفلت میں مست ہے، وہ رضا شاہ پہلوی کے مظالم کو اپنی تقدیر کا حصہ سمجھ کر غلامانہ زندگی بسر کر رہی ہے، ایرانی معاشرے میں روز بروز دینی تعلیمات اور احکام قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں۔

استعماری طاقتوں کے اثر و نفوذ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، آزادی کے نام پر فحاشی اور بے پردگی عام ہوتی جا رہی ہے، اقدار انسانی مسخ ہوکر بہیمت کی صفات انسانوں میں نشوونما پا رہی ہیں، لوگ دین اور سیاست کے اجتماع کو محال سمجھ رہے ہیں، دینی مدارس اور یونیورسٹی کے طلباء ایک دوسرے سے روز بروز دوری اختیار کرنے میں اپنی عافیت تلاش کر رہے ہیں، مسجدیں ویران جبکہ لہو لعب کی محفلوں میں لوگوں کو جگہ نہیں مل رہی ہے، نیک اور صالح افراد کی حوصلہ شکنی جبکہ بدکردار اور برے لوگوں کی خوب حوصلہ افزائی ہو رہی ہے، ملک کے جوانوں کو اپنی صلاحتوں کے بل بوتے پر کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں مل رہا ہے، ملک میں ناانصافی کا دور دورہ ہے، غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جا رہے ہیں، کمزور اور نادار طبقے کا کوئی پرسان حال نہیں۔

ایران کی تیل کی پوری ثروت امریکہ اور اس کے ہم نواوں کی جیب میں جا رہی ہے، ایرانی قوم پر مسلط رضا شاہ پہلوی امریکہ کے اشارے سے سرمو اختلاف کرنے کی جرات نہیں رکھتا، وہ امریکہ کا غلام مطلق بنا ہوا ہے، اس نے اپنی اور اپنے خاندان کی عیاشی کی خاطر پورے ملک کی ثروت پر استعماری طاقتوں کی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور پورے نظام مملکت کی زمام امریکہ کے ہاتھ میں دے کر اسے مختار کل بنایا ہوا ہے تو آپ (رہ) نے اپنے جد بزرگوار حسین ابن علی (ع) کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رضا شاہ پہلوی کی ظالم سلطنت کے خلاف آواز حق بلند کی اور ایرانی عوام کو شعور دلایا۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دی کہ اسلام میں ظلم کرنا بھی گناہ ہے اور ظلم سہنا بھی۔
 
امام خمینی (رہ) نے ایرانی عوام اور خواص دونوں کو یہ باور کروایا کہ رضا شاہ پہلوی ہمارے وقت کا یزید ہے، جس کے خلاف قیام کرنا ہمارے اوپر واجب ہےـ جب تک اس فاسد نظام کا خاتمہ نہیں ہوتا ہے، تب تک ایرانی عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب نہیں ہوگا اور فرمایا کہ رضا شاہ کی سلطنت کے زیر سایہ بسر کی جانے والی زندگی ذلت ہے بلکہ موت ہے اور یہ سید الشھداء حضرت امام حسین (ع) کی منطق کے برخلاف ہے، ان کی منطق یہ تھی کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہےـ عزت کی راہ میں مرنا موت واقع ہونا نہیں بلکہ مرنے والا حیات جاودانہ کا مالک بن جاتا ہے اور اس کے برعکس ذلت آمیز زندگی زندگی نہیں بلکہ حقیقت میں وہ ابدی موت ہے، جس کے بعد زندگی کا تصور نہیں۔
 
 اس میں شک نہیں کہ انقلاب کربلا کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کا انقلاب وہ منفرد انقلاب ہے، جس کی نظیر آج تک کرہ ارض پر دکھائی نہیں دیتیـ یہ دنیا کی عیاشی میں مست ظالم رضا شاہ پہلوی کے مظالم سے تنگ آکر ایرانی عوام کے اتحاد و اتفاق کی بدولت کامیابی سے ہمکنار ہواـ جس کی آبیاری شھداء کے مقدس لہو سے ہوئیـ اس مقدس تحریک کو مستحکم کرنے کے لئے ایرانی قوم نے پوری جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں 1979ء کو ایران کی سرزمین پر انقلاب کا سورج طلوع ہوا، امام خمینی کو ایران میں نظام حکومت اسلامی کی بنیاد رکھنے میں کامیابی ملی اور ایرانی قوم کو عادلانہ اسلامی حکومت کے زیر سایہ عزت اور سربلندی سے جینے کا موقع ملاـ امیر اور غریب کی تفریق مٹ چکی، طبقاتی نظام کا شیرازہ بکھیر چکا۔
 
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسلامی انقلاب اپنے بلند و ارفع اہداف کے پیش نظر ایران کی حد تک ہرگز محدود نہ رہا بلکہ قلیل مدت میں ہی گلاب کی خوشبو کی طرح اس کی خوشبو سے دنیا کے مختلف ممالک معطر ہوئےـ بدون تردید اسلامی انقلاب مستضعفین جہاں کے لئے مینارہ نور ثابت ہوا اور اسی کی روشنی سے استفادہ کرتے ہوئے مستضعفین عالم ظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، جس کی مثال یمن، بحرین، کشمیر سمیت عربی و غیر عربی ممالک میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انقلاب اسلامی ایران کو آئیڈیل قرار دے کر پوری دنیا میں آج کمزور طبقے نظام آمریت، شہنشاہیت اور نظام ظلم و استبداد کو زمین بوس کرنے کے لئے تحرکیں چلا رہے ہیں، مگر بعض مغرض افراد حقائق سے چشم پوشی کرکے اس انقلاب کو فقط ایک مکتب یا ایک ملک میں محصور و محدود کرنے کی سعی لاحاصل کرکے آسمان پر تھوکا کے مصداق قرار رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انقلاب اسلامی جہانی اور عالمی ہےـ اس کے ثمرات سے پوری انسانیت مستفید ہو رہی ہے، جس پر بہترین گواہ امام راحل کا وصیت نامہ اور 39 برس میں حکومت اسلامی ایران کی عملی کارکردگی ہےـ اس پورے عرصے میں ایران کی قیادت اور حکومتی مسئولین نے اتحاد بین المسلمین کے استحکام کے لئے بے نظیر اقدامات کیےـ استعماری طاقتیں خصوصاً شیطان بزرگ امریکہ اور اس کے ہم نوالہ رجیم اسرائیل کی مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں اور پراییگنڈے کو ناکام بنانے کے لئے سب سے زیادہ کردار ادا کیا اور کر رہے ہیں۔ ملت مظلوم جہاں خصوصاً ملت مظلوم فلسطین، یمن اور کشمیر کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔
 
 انقلاب اسلامی کے جہانی ہونے کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے کے لئے بین الاقوامی حوادث کے متعلق نظریہ دینے والے نظریہ پردازوں نے انقلاب اسلامی کے حوالے سے جن نظریات کا اظہار کیا ہے انہیں ضرور پڑھیں، بطور نمونہ اس ویب سائٹ  http://www.hajij.com/ur/ethnic-and-morality/imam-khomeini/item/2063-1392-12-25-11-46-56 پر موجود جعفری صاحب کے مقالے کا ایک حصہ نقل کر رہا ہوں ملاحظہ ہو: ''ایران میں امام خمینی کی حکومت کے آغاز کے ساتھ اسلام نے ایک نئی زندگی کا آغاز کر لیا، جس نے بہت مختصر وقت میں عالمی سطح پر اپنے ایسے سیاسی اور ثقافتی آثار و برکات نچھاور کئے، جن کی ہرگز پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی تھی۔" (ماہنامہ اسلام و غرب، شمارہ بہمن و اسفند٧٨) ''اسلامی انقلاب اور اس کے رہبر(امام خمینی) بے شک اسلام کو نئی زندگی دینے والی تحریک کے موجد ہیں، جنہوں نے دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کو بھی اپنی اسلامی ہویت اور شخصیت کو دوبارہ حاصل کرنے کا سلیقہ سکھلا دیا۔ یہ تحریک قومیت سے بالاتر اثر و رسوخ کی حامل ہے۔'' ( پروفیسر کارسٹن کوپلر، شکل اسلام، ص٦٧)
 
''امام خمینی نے اسلامی انقلاب کے ذریعے نہ صرف ایرانیوں اور مشرق وسطیٰ کو بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کو اپنا عاشق بنا دیا۔''(گراہام فولر امریکی، قبلہ عالم، جیوپولیٹیک ایران، ترجمہ عباس مخبر، ص١١١) ''جس طریقہ سے امام خمینی نے ایرانیوں کی زندگی کو معنی اور مفہوم دیا ہے، اسی طریقہ سے کروڑوں مستضعف انسانوں کو زندگی کی امید دی ہے۔'' (فتحی شقاقی، تحریک فلسطین کا رہبر، انتفاضہ و طرح اسلامی معاصر، ص٨٧) ''آج اسلامی انقلاب کے آثار و برکات ایرانی بارڈر سے باہر نکل گئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا سیاسی اور اسلامی تحریکوں کا محرک اسلامی انقلاب ہے۔'' ( ڈاکٹر ماروین زونیس، امریکہ یونیورسٹی کا استاد، رسالت نیوز اینجسنی کو انٹرویو دیتے ہوئے، ٧٩،١١،١٧) ''انقلاب امام خمینی، مسلمان قوموں کو متحد کرنے کی غرض سے ان کے اندر اسلامی بیداری کی لہر پیدا کرنے میں سب سے زیادہ موثر ثابت ہوا ہے۔'' (شیخ عبد العزیز عودہ،)
 
''آج شمال افریقہ سے لے کر ایشیاء کے جنوب مشرق تک تمام اسلامی ممالک میں اسی انقلاب کی وجہ سے اسلامی بیداری کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر آئے دن اس کے طرفداروں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔''( پیتر۔ ال۔ برگر، معروف امریکی سوشیالیسٹ، افول سکولاریزم، ترجمہ افشار امیری، ص٢٣) ''ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے فلسطینی انقلاب اور عوام پر بہت گہرا اثر ڈالا۔''( شیخ عبد اللہ شامی، تحولات انقلابی در ایران، جمیلہ کدیور، پایان نامہ کارشناسی ارشد، ص١٤٢) اور ''فلسطینی عوام نے یہ احساس کر لیا کہ اسرائیل کو شکست دینا ممکن ہے۔''(فتحی شقاقی، مذکورہ حوالہ)۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران ایک خاص مکتب و ملک سے مخصوص ہے تو اس کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے، اس حقیقت کو ہر غیر متعصب انسان نے تسلیم کیا ہے کہ انقلاب اسلامی ایران جہانی ہے، کسی مخصوص مکتب فکر سے ہرگز مختص نہیں۔ ختم کلام کے لئے علامہ اقبال (رہ) کا یہ حقیقت پر مبنی خوبصورت شعر موزوں ہے
تہران ہوگر عالم مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
خبر کا کوڈ : 776987
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب