0
Saturday 16 Feb 2019 00:20

سعودی شہزادے کا دورہ پاکستان، وزارت داخلہ کا شرمناک نوٹیفیکیشن

سعودی شہزادے کا دورہ پاکستان، وزارت داخلہ کا شرمناک نوٹیفیکیشن
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ
 
پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے لکھے گئے خط  میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے متوقع دورۂ پاکستان کے حوالے سے سوشل میڈیا ہر ہونے والے منفی پروپیگنڈے کو اہل تشیع سے منسوب کیا گیا ہے اور پاکستان کے شیعوں کے لئے انگریزی زبان کا ایک لفظ Dissidents استعمال کیا گیا ہے، جس کے معنی ہیں، ایسے افراد جو ریاست کی آفیشل پالیسی سے اختلاف رکھتے ہوں۔ عجیب بات ہے کہ شیعہ فرقے کے لئے یہ لفظ ایک ایسے ملک کی وزارتِ داخلہ نے استعمال کیا ہے، جس ملک کا بانی خود اسی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔ پاکستان کے معروف تجزیہ کار نے اپنے مسلک پہ قائم رہتے ہوئے موجودہ پاکستانی حکومت کی سعودیہ نواز خارجہ پالیسی پر جامع انداز میں تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میرا پاکستان کی کسی بھی مذہبی و سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میرا کسی بیرونی ملک کی کسی ایجنسی یا جماعت سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں ایک محبِ وطن پاکستانی ہوں، نوکری پیشہ ہوں اور ٹیکس پئیر ہوں اور اس ملک کی سالمیت کو عزیز سمجھتا ہوں۔ میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ میں ایک مسلمان ہوں اور کیونکہ مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں تو میں بھی مسلمانوں کے ہی ایک فرقے سے تعلق رکھتا ہوں۔

مندرجہ بالا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے لکھا ہے کہ میں یہ کہنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں کہ بحیثیت ایک آزاد پاکستانی شہری کے میں پاکستانی آئین کے تحت کسی بھی بیرونی ملک کی خارجہ پالیسی اور اس کے سربراہ سے ذاتی حیثیت میں سیاسی اختلاف رکھ سکتا ہوں اور آزادئ اظہار کے تحت اسکا اظہار بھی کرسکتا ہوں۔ اپنے اسی آئینی حق کو استعمال کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ: میں آلِ سعود کو ڈاکو، اسلام دشمن اور حرمین شریفین پر بزورِ طاقت قابض سمجھتا ہوں۔ میں آلِ سعود کے موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کو یزیدِ وقت سمجھتا ہوں اور اس کے خلاف علی الاعلان آواز بلند کرنے کو اپنے حسینی ہونے کی علامت سمجھتا ہوں۔ میں آلِ سعود اور محمد بن سلمان کو اپنے اور تمام مسلمانوں کے رسول محمد ﷺ کو ایذا پہنچانے والا سمجھتا ہوں، کیونکہ اس آلِ سعود نے رسول ﷺ کی چہیتی بیٹی فاطمة الزہرا (س) کو مرنے کے بعد بھی سکون نہیں لینے دیا اور رسول ﷺ کی بیٹی اور دیگر اہلبیتِ اطہار علیھم السلام کی قبروں کے نشان تک مٹا دیئے۔ میں اس لئے بھی محمد بن سلمان کو اسلام دشمن، یہودیوں کا ایجنٹ اور یزیدِ وقت سمجھتا ہوں کیونکہ اس ملعون نے کھل کر اظہار کیا ہے کہ یہ امام مہدی آخرالزمان سے جنگ کرے گا، جبکہ مسلمانوں کے تمام مسالک امام مہدی آخرالزمان کو مسلمانوں کا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔

اسی نوٹیفیکیشن کے متعلق مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی اولادوں، یعنی ملت جعفریہ کی تذلیل انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان فوری طور پہ اس شرمناک نوٹیفکیشن کہ اجراء میں ملوث افراد کے خلاف تادیبی اقدام کرتے ہوئے اس شرمناک نوٹیفکیشن کو واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملت جعفریہ نے قیام پاکستان سے لیکر اب تلک اپنے ہزاروں پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، لیکن ملکی سلامتی اور قومی مفاد پہ آنچ نہیں آنے دی، لیکن انصاف کے نام پر قائم حکومت کی جانب سے بزرگ علماء بشمول مولانا مرزا یوسف حسین پہ ایف آئی آر کا اندراج اور ملک بھر میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے فعال افراد کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کراچی میں مجلس وحدت اور ملک بھر میں ملت کی نمائندہ طلبہ تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن و دیگر قومی اداروں کے دفاتر پر چھاپے اور ملک و قوم کے مستقبل جوانوں کی بے دریغ گرفتاری و کریک ڈاؤن قابل مذمت ہے۔

انہوں بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان ان انتقامی کارروائیوں اور شیعہ دشمن اقدامات کا فوری نوٹس لیں، تاکہ ملت تشیع میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ اسی طرح اہل تشیع قائدین کی جانب سے کراچی، سکھر، ملتان، سرگودہا، راولپنڈی اور اسلام آباد میں شیعہ کارکنوں کی گرفتاریوں اور انہیں پابند سلاسل کرنیکی سخت مذمت کی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں سعودی ولی عہد تیونس سمیت جہاں بھی گئے ہیں، انہیں سخت احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے نکلنے کے لئے جس دورے کا آغاز مصر اور پھر تیونس سے شروع کیا تھا، اب وہ ایشیا کی جانب بڑھ چکا ہے، سعودی ولی عہد اپنے اس غیر ملکی دورے کے دوران پاکستان اور بھارت کے علاوہ ممکنہ طور پر چین، ملائیشیا اور انڈونیشیا بھی جائیں گے۔

پاکستان کے بعد سعودی ولی عہد اگلے ہفتے سعودی کاروباری شخصیات کے ایک وفد کے ساتھ بھارت جائیں گے۔ نئی دہلی میں ملکی وزارت خارجہ کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان کو اس دورے کی دعوت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دی تھی۔ نریندر مودی سعودی ولی عہد کو ارجنٹائن میں گذشتہ برس نومبر میں ہونے والی جی ٹوئنٹی کی سربراہی کانفرنس میں مل چکے ہیں۔ سعودی عرب بھارت کو خام تیل مہیا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن نئی دہلی اور ریاض آپس کے تعلقات کو توانائی کے شعبے سے بہت آگے تک لے جا چکے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک آپس میں ایک اسٹریٹیجک پارٹنرشپ پر بھی اتفاق کرچکے ہیں۔ اسی لیے نئی دہلی اور ریاض کے مابین اشتراک عمل توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے، دفاع اور سلامتی سمیت بہت سے متنوع شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔

محمد بن سلمان کے اس دورے کے دوران وزیراعظم مودی کو یہ توقع بھی ہوگی کہ سعودی عرب بھارت کے قومی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر فنڈ (NIIF) میں ابتدائی سرمایہ کاری کا اعلان بھی کرے گا۔ اس کے علاوہ خود سعودی حکومت اس خواہش کا اظہار بھی کرچکی ہے کہ وہ بھارت میں زرعی شعبے میں بھی ایسی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے، جس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی پیداوار سعودی عرب برآمد کی جایا کرے گی۔ اسی دوران اکتالیس ممالک کے عسکری اتحاد نامی اتحاد کے سربراہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جرنیل راحیل شریف بھی بن سلمان سے پہلے پاکستان پہنچے، جو کہ سعودی شہزادے کے پروٹوکول کا حصہ ہے۔ واضح رہے کہ اکتالیس ممالک کے اتحاد نامی عسکری اتحاد اب تک کاغذوں سے باہر نہیں آیا اور اس کی کوئی بھی عملی شکل و صورت سامنے موجود نہیں ہے۔ سعودی عرب نے ماضی میں پاکستان کی ہمیشہ اہم مراحل میں بروقت مدد کی ہے اور بحرانوں سے نکلنے میں اپنا اہم حصہ ڈالا ہے، لیکن ساتھ ساتھ پاکستان میں موجود بہت سے بحرانوں میں بھی سعودی عرب کا بڑا اہم اور مرکزی کردار رہا ہے کہ جسے آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 778206
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے