0
Thursday 21 Feb 2019 20:04

پاراچنار، آغا مظاہری کیجانب سے مسئلہ بالش خیل کے حل کی سفارش

پاراچنار، آغا مظاہری کیجانب سے مسئلہ بالش خیل کے حل کی سفارش
رپورٹ: ایس این حسینی

بالش خیل اور ابراہیم زئی قبائل نے شاملات کے حوالے سے 8 جنوری 2019ء کو سمیر عباس کے مقام پر طوری بنگش اقوام کا ایک نمائندہ جرگہ بلایا۔ جس میں مجوزہ مسئلے کے حل کے لئے لوگوں سے تجاویز طلب کی گئیں۔ عمائدین نے جرگے سے خطاب کے دوران اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ آخر میں کرم کے تمام اقوام کے چیدہ چیدہ اراکین پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ تشکیل دیا گیا، جن میں انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کے دو دو اراکین سمیت 14 افراد شامل تھے۔ اس حوالے سے انہوں نے اگلے ہی روز صدہ میں حکومت سے مذاکرات کئے اور اسکے بعد بھی مذاکرات کے کئے دور ہوئے، تاہم مسئلے کا فوری حل نہ نکل سکا تو متاثرہ اقوام نے مرکزی انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی سے رجوع کیا اور انہی کے مشورے سے مرکزی انجمن حسینیہ کے دفتر میں تمام اقوام پر مشتمل ایک اور میٹنگ بلائی گئی، جس میں طوری بنگش اقوام نے بھرپور شرکت کی۔

انجمن حسینیہ کے نئے سیکرٹری حاجی سردار حسین نے میٹنگ کی صدارت کی۔ مسئلے کے حوالے سے عمائدین کے خطابات اور تجاویز کے بعد سمیر کے مقام پر بننے والی کمیٹی کو توسیع دیکر کچھ مزید اہم افراد کو شامل کیا گیا۔ جنہوں نے اگلے روز کرم کی سول اور فوجی انتظامیہ کے ساتھ ایک مشترکہ میٹنگ رکھی۔ جس میں جرگے نے اپنا موقف دوٹوک انداز میں پیش کیا اور ان پر ثابت کیا کہ کرم میں امن و امان کی کنجی مسئلہ بالش خیل ہے۔ لہذا حکومت اگر امن و امان سے مخلص ہے تو اولین فرصت میں مسئلہ بالش خیل کا حل نکالے۔ اسکے بعد سول اور فوجی انتظامیہ نے اس مسئلے کے حل کے لئے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل ہر ایک خود کو بے بس اور مسئلے سے غیر مربوط قرار دیکر دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتا رہا تھا۔

اسی مسئلے کے ضمن میں ضلع کرم کے ممتاز عالم دین اور جامع مسجد پاراچنار کے پیش امام علامہ فدا حسین مظاہری نے مرکزی جامع مسجد پاراچنار میں طوری بنگش اقوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرم میں سول اور ملٹری انتظامیہ کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینا علاقے کے مسائل حل کرنے کی طرف بڑا قدم ہے، جس سے محروم قبائل کی محرومیوں کا ازالہ ہوجائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کرم میں جو امن و امان قائم ہے، اس کی مثال پورے ملک میں نہیں ملتی۔ علامہ مظاہری نے مزید کہا کہ کرم ڈسٹرکٹ کے موجودہ ڈپٹی کمشنر، سول اور ملٹری انتظامیہ علاقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی اور احساس ذمہ داری سے دلچسپی لے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ڈسٹرکٹ کرم میں تمام تر قبائلی لڑائیاں شاملاتی رقبوں، پہاڑوں اور جائیداد پر ہوتی رہی ہیں۔ جنہیں بعد میں مفاد پرست عناصر نے فرقہ واریت کا رنگ دیا۔

جامع مسجد کے پیش امام نے مزید کہا کہ موجودہ امن کی فضا مستقل طور پر قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوج اور سول حکومت مل کر قبائل کے مابین شاملات اور پہاڑوں کے حوالے سے تنازعات کا فیصلہ محکمہ مال میں موجود ریونیو ریکارڈ کے مطابق کرانے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ علامہ فدا حسین مظاہری نے کہا کہ فی الحال کرم کا حساس ترین مسئلہ بالش خیل شاملات کا ہے، جس سے کسی بھی وقت امن و امان کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور کچھ افراد اسے ماضی کی طرح فرقہ واریت کا رنگ دے سکتے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ علاقے کو خون خرابہ سے بچانے کے لئے اور حقدار کو اسکا جائز حق دلانے میں اپنی ذمہ داری نبھائے۔ انہوں نے بالش خیل کے مسئلے کو صحیح طریقے سے اٹھانے پر جرگہ ممبران کا شکریہ ادا کیا۔
خبر کا کوڈ : 779260
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب