0
Saturday 23 Feb 2019 03:15

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی سندھ کی سیاست میں دوبارہ بھرپور انٹری کی تیاری

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی سندھ کی سیاست میں دوبارہ بھرپور انٹری کی تیاری
رپورٹ: ایس ایم عابدی

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے سندھ بھر میں اپنی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، اتحاد کی جانب سے گذشتہ عام انتخابات میں جی ڈی اے کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والے تمام امیدواروں کا ایک اجلاس 20 مارچ کو مٹیاری ہالہ میں سید جلال شاہ جاموٹ کی میزبانی میں طلب کیا گیا ہے، جبکہ 11 اپریل کو لاڑکانہ میں اسی نوعیت کا ایک اور اجلاس ہوگا، جس کے میزبان ڈاکٹر صفدر عباسی ہوں گے، اسی طرح مئی میں جی ڈی اے کا تیسرا بڑا اجلاس عرفان اللہ خان مروت کی زیر میزبانی کراچی میں ہوگا۔ گذشتہ دنوں جی ڈی اے کا ایک اہم جلاس پیر صاحب پگارا کی زیر صدارت ان کی قیام گاہ کنگری ہاؤس کراچی میں ہوا۔ جس میں پیر صدر الدین شاہ راشدی، ڈاکٹر ذولفقار مرزا، ڈاکٹر ارباب غلام رحیم، شہریار مہر، ڈاکٹر صفدر عباسی، ایاز لطف پلیجو، عرفان اللہ خان مروت، نندکمار گوکلانی اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، سندھ کے سیاسی معاملات، جی ڈی اے کے تنظیمی امور اور دیگر معاملات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ جی ڈی اے کے رہنما پیر صدرالدین شاہ راشدی اور ایاز لطیف پلیجو نے ذرائع سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ میں کئی اہم معاملات زیر بحث آئے اور اتحاد کی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جی ڈی اے نے آئندہ بلدیاتی اور عام انتخابات کی ابھی سے تیاریاں شروع کردی ہیں اور ان میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس نے سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا اور بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد اور شرانگیز الزام تراشی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ پاکستان کی پوری قوم بھارت کے مذموم عزائم کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہے۔ جی ڈی اے رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ کی ممکنہ گرفتاری سے متعلق پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جس دن سندھ کے مظلوموں کی آہیں اور غریبوں کی بدعائیں پر اثر ثابت ہوگئیں، اس دن یہ لوگ گرفتار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو وہ پچپن سے جانتے ہیں، وہ صرف پھونکیں مارنا جانتے ہیں اور ان کی دھمکیوں سے کوئی نیا بنگلہ دیش نہیں بن سکتا۔ انہوں کہا کہ نے سندھ میں پہلے ایک ڈائن تھی اب کئی اور ڈائنوں کا اضافہ ہوگیا ہے، وفاق کی جانب سے اگر این ایف سی کی پوری رقم ادا کر دی گئی تو خدشہ ہے کہ یہ رقم بھی کوئی ڈائن نہ ہڑپ کرلے۔

جی ڈی اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ اٹھارویں ترمیم کو سپورٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز تمام صوبوں کو ایک نظر سے دیکھے اور صوبوں کے مسائل حل کئے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی سندھ میں نہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنا رہی ہے اور نہ ہی صوبائی این ایف سی کا اجلاس بلایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال میں جو لوگ جاں بحق ہوئے، ان افراد کا حساب کون دیگا، سندھ حکومت کی جانب سے آر او پلانٹس لگانے کی بات کی گئی، بتایا جائے کہ وہ کہاں لگے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج نے بھی پوچھا ہے کہ سندھ کا پیسہ آخر کہاں خرچ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کرپشن سندھ میں ہے، اس کے خلاف پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی آواز بلند کرے۔ انہوں نے کہا کہ بدین، میرپور خاص، ٹنڈوالہیار تباہ ہوچکے ہیں، پہلے گنے اب گندم کے ریٹ نہ دیکر غریب کاشت کاروں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

جی ڈی اے کے رہنماؤں نے کہا کہ ارشاد رانجھانی اور رمشا کا قتل یہ بتاتا ہے کہ سندھ میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پورے سندھ کے لئے ایک بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کرے۔ ارباب غلام رحیم کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جلد سندھ کے دورے پر آئیں گے، وہ تھر کے علاقے چھاچھرو بھی جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا، وہ پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ عرفان اللہ خان مروت نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں پتہ چلا کہ قلفی والے، فالودے والے اور دوسرے لوگوں کے ناموں پر اربوں روپے کے جعلی اکاؤنٹس کھولے گئے اور منی لانڈرنگ کی گئی، جو لوگ اس پورے معاملے میں ملوث ہیں انہیں پکڑا بھی جائے۔
خبر کا کوڈ : 779498
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب