0
Tuesday 26 Feb 2019 11:47

پلوامہ حملہ، کشمیری عوام ہندو شرپسندوں کے نشانے پر

پلوامہ حملہ، کشمیری عوام ہندو شرپسندوں کے نشانے پر
رپورٹ: جے اے رضوی

مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں فدائین حملے کے بعد جموں میں رونما ہونے والی پُرتشدد صورتحال اور گاڑیوں و املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات پر پہلے تو پولیس کا رویہ افسوسناک رہا، لیکن بعد میں ملوث عناصر کے خلاف کیس درج کرکے ان کی گرفتاریوں کے دعوے کئے گئے اور پولیس کے مطابق 150 سے زائد افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ مزید قصورواروں کو بھی گرفتار کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔ اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی گورنر ستیہ پال ملک نے بھی متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، تاہم حکام کی طرف سے اس پیشرفت کے بعد تجارتی انجمنوں سمیت جموں کی متعدد تنظیموں کا بلوائیوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آنا اور ان کے خلاف درج کئے گئے کیسوں کو خارج کرنے کا مطالبہ کرنا نہ صرف انصاف کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک دانستہ کوشش ہے بلکہ ہندو شرپسندوں کے حوصلے کو بلند کرنے کی سعی بھی، جس کے نتیجہ میں ان عناصر کو آئندہ پھر سے ایسے حالات پیدا کرنے کا حوصلہ ملے گا، جو کشمیر میں امن اور بھائی چارے کے لئے ایک تشویشناک بات ہوگی۔

15 فروری کو جموں بند کی کال کے دوران اور اس کے بعد ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنا کر اس طبقے کی املاک کو نقصان پہنچانے اور پولیس کی موجودگی میں ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے سے شرپسند عناصر نے فرقہ وارانہ بنیادوں پر ریاستی عوام میں خلیج پیدا کرکے ایک نہایت ہی خطرناک ماحول کو جنم دیا ہے۔ اگر انہیں اپنے کئے کی سزا نہ دی گئی تو ایک تو اس سے یہ خلیج ختم ہونے کے بجائے مزید گہری ہو جائے گی اور دوسرے انتظامیہ اور پولیس پر سے بھی عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ موجودہ حالات کے تناظر میں جموں چیمبر کے مؤقف میں یکایک تبدیلی بھی کئی طرح کے سوالات کو جنم دیتی ہے، کیونکہ 15 فروری کی شام کو چیمبر نے پریس کانفرنس میں حملہ آوروں کی کڑی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات کو جموں کے لئے شرمندگی کا باعث قرار دیا تھا لیکن اس کے کچھ روز بعد دی گئی پریس کانفرنس میں چیمبر نے اپنا بیانیہ بالکل ہی بدل ڈالا اور اس پورے معاملے کو کچھ اور ہی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، جس پر کشمیر چیمبر اور تشدد کے واقعات کا نشانہ بننے والوں کو سخت مایوسی ہوئی۔

اسی دوران کچھ ایسی نام نہاد تنظیمیں بھی سامنے آئیں، جنہوں نے انسانیت کو شرمندہ کرتے ہوئے حملہ آوروں کی کارروائیوں کی خوب ستائش کی اور ان کی پیٹھ تھپتھپائی۔ ڈیڑھ ہفتہ قبل جموں میں پولیس کی موجودگی میں ہوئی تباہی کو کسی طرح سے بھول کر لوگ یہی امید کر رہے تھے کہ قانون کو اپنے ہاتھوں لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی اور انہیں ایسی عبرتناک سزا دی جائے گی کہ وہ آئندہ ایسی حرکت کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، لیکن اس تناظر میں کچھ تنظیموں کا ان عناصر کی کھل کر حمایت کرنا اور ان کے خلاف کارروائی پر انتظامیہ کو احتجاج کی دھمکیاں دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حالیہ واقعات کو ایک الگ زاویہ سے دیکھا جا رہا ہے اور شائد کچھ سیاسی طاقتوں کا مفاد بھی اسی پر ٹکا ہوا ہے۔ تاہم اس دباؤ کے باوجود یہ توقع کی جانی چاہیئے کہ گورنر انتظامیہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی اور متاثرین کو انصاف ملے گا، کیونکہ اسی طرح سے پولیس کے اعتماد کو بحال کیا جاسکتا ہے۔

ایسے حالات میں جموں کے ذی شعور افراد کو بھی ظالم کی مخالفت اور مظلوم کی حمایت میں کھل کر سامنے آنا چاہیئے، ورنہ ان کی خاموشی سے بھی امن دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جس کی ریاست جموں و کشمیر پھر سے متحمل نہیں ہوسکتی ہے۔ انتظامیہ کے لئے عدالت عظمٰی کی وہ ہدایت مشعل راہ ہونی چاہیئے، جس میں گیارہ ریاستوں کی سول و پولیس انتظامیہ کو ہجومی تشدد روکنے اور ایسی حرکتوں کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ایسے حالات میں اگر ریاستی انتظامیہ کسی دباؤ میں آتی ہے تو وہ ملک کے اعلٰی ترین ایوانِ انصاف کی توہین ہوگی۔ اب جموں کے ہر باشعور شہری کو بلا لحاظ مذہب و ملت سنجیدہ سوچ بچار کرنا چاہیئے، تاکہ آئندہ ایسے شرمناک حالات وقوع پذیر نہ ہوں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جموں میں ہر فرقے اور طبقے کے وسیع الخیال لوگوں کو ان حالیہ فسادات پر سنجیدہ غور و فکر کرکے ایک امن پسندانہ حکمت عملی وضع کرنی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 779944
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے