0
Saturday 2 Mar 2019 08:15

انسانیت نوحہ کناں

انسانیت نوحہ کناں
اداریہ
یمن کی ایک بارہ سالہ بچی فاطمہ کی تصویر دیکھ کر دل حون کے آنسو رو رہا ہے، یہ بچی کئی یمنی بچوں کی طرح شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔ اس کا وزن صرف 10 کیلو ہے، جبکہ فاطمہ کا قد 120 سینٹی میٹر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمنی باشندے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی شدید بمباری کے باوجود اس بچی کو اسپتال میں داخل کرانے میں تو کامیاب ہوگئے ہیں، لیکن کیا فائرنگ، بمباری اور سعودی طیاروں کی کارپٹ بمنگ میں اس کا علاج و معالجہ بھی ہوسکے گا یا نہیں، اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ یمن میں ایک فاطمہ نہیں ہزاروں اس عمر کے بچے اس سے بھی بری صورت حال سے دوچار ہیں۔ یمن کی فاطمہ اور اس طرح کے بچوں کو دیکھ کر انسانیت کے پاس کیا جواب ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس پر کیا کہتی ہیں۔ دین و مذہب کے ٹھیکیدار کیا بھاشن دیتے ہیں۔؟ یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جنگ چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے جاری ہے اور اس میں اب تک پچاس ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں پچیس لاکھ یمنی شہری بے گھر ہوئے ہیں اور اس ملک کی 80 فیصد سے زیادہ بنیادی تنصیبات تباہ ہوچکی ہیں۔ عالمی ادارے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل آنتونیو گوترش وہ اہم ترین عالمی شخصیت ہیں، جنہوں نے با رہا اعلان کیا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ حالیہ عشروں کے سب سے بڑے انسانی المیے کا باعث بن چکی ہے۔

اس سے پہلے ایک اور عالمی ادارے یونیسف نے یمن کے بارے میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یمن کے تقریباً چار لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یمن میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ بچے ہیں، جن میں سے اکثر کو اس وقت انسان دوستانہ امداد کی سخت ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کے دفتر نے بارہا خبردار کیا ہے کہ یمن کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے اور اس ملک کے دو کروڑ، چالیس لاکھ شہریوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔ یونیسف کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے امور کے ڈائریکٹر نے بھی حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ دسمبر دو ہزار اٹھارہ میں طے پانے والے سوئیڈن سمجھوتے کے باوجود یمنی بچوں کی صورت حال پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے اور یمن میں روزانہ تقریباً آٹھ بچے جاں بحق و یا زخمی ہو رہے ہیں۔ پاکستان، ہندوستان اور کئی ممالک میں پٹرو ڈالر تقسیم کرنے والا بن سلمان کئی ممالک میں اربوں ڈالر کی امداد اور قرضے تقسیم کر رہا ہے، لیکن یہی بن سلمان یمن میں موت، غربت، افلاس اور تباہی و بربادی بانٹ رہا ہے۔ پٹرو ڈالر لینے والے ممالک یمن کے بچوں کے قاتل بن سلمان کا دھوم دھام سے استقبال کرکے انسانیت کا منہ چڑھا رہے ہیں۔ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی، یمن کے بچوں پر جاری جارحیت کو بھی تاریخ نہیں بھولے گی۔ کاش آج کے مسلمان حکمران تاریخ سے سبق حاصل کرتے، لیکن بقول شخصے آج تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ بن گیا ہے کہ اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔
خبر کا کوڈ : 780843
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب