0
Monday 11 Mar 2019 03:08

گلگت بلتستان میں مفاد پرست ٹولے کے برے عزائم!

گلگت بلتستان میں مفاد پرست ٹولے کے برے عزائم!
تحریر: محمد حسن جمالی
 
علم اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی بدولت آج پوری دنیا میں قومیں بیدار ہوچکی ہیں، اس دور میں مذہبی، سیاسی اور سماجی پراپیگنڈے اور سازشوں کو چھپانا ممکن نہیں، مگر ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت کون سمجھائے؟ وہ تو بدستور اپنی قوم کو سازشوں کے جال میں پھنسانے پر زور لگا رہے ہیں۔ ستر سال پر محیط عرصہ میں پاکستان کے حکمران اس ملک کے باسیوں کو بے وقوف بنا کر ان پر حکمرانی کرتے رہے۔ انہوں نے حق حکمرانی کو محدود خاندانوں کی میراث قرار دیئے رکھا، وہ باری باری حکومت کرتے رہے، اس گندی خاندانی سیاست کی دلدل سے نکلے ہوئے حکمرانوں نے پاکستانی قوم کو ترقی کی راہ سے ہٹا کر پستی اور محرومی کا شکار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کی حکمرانی کے ادوار میں مثبت کارناموں پر ان کے منفی اقدامات کا غلبہ رہا۔ انہوں نے انصاف کو اپنی حکومت کی شناخت بنانے کی کوشش کرنے کی بجائے فرعون کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ناانصافی کو اپنی پہچان بنائے رکھا، جس کی بے شمار مثالوں میں سے ایک گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق سے محروم رکھنا ہے۔ انہوں نے مختلف حیلے اور بہانے تراشتے ہوئے گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل نہیں کیا، اس کے باشندوں کو آئینی حقوق سے دور رکھا، ان کے سامنے جھوٹ، دھوکہ دہی اور مکر و فریب کے پاپڑ بانڈھتے رہےـ اس خطے میں وہ منافقانہ سیاست کرکے کامیاب رہے۔
 
مخفی نہ رہے کہ گلگت بلتستان میں حکمرانوں کی منافقانہ سیاست کی کامیابی میں خود اس خطے کے چند مفاد پرست افراد نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، انہوں نے مذہبی اور لسانی تعصب میں گرفتار ہوکر خطے کے اجتماعی مفادات کے بارے میں سوچنے کو اپنے لئے شجرہ ممنوعہ قرار دیئے رکھا اور جس رخ سے ان کے ذاتی مفادات کی ہوا چلتی، وہ اسی طرف مڑتے رہے۔ اس مفاد پرست طبقے نے گلگت بلتستان کی قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کے لئے مخالفین کی پوری مدد کی۔ خطہ امن گلگت بلتستان کے سیاسی حالات پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس خطے کے عوام کو مذہبی اور لسانی تفریق کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کرنے میں موجودہ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس منفی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے خفیہ طور پر کتنی جدوجہد کی ہے، خدا جانتا ہے، لیکن یہ ہمارے علم میں ہے کہ موصوف نے گلگت بلتستان کے غیور اور باشعور عوام کو تقسیم کرنے کے لئے اپنے ناپاک عزائم کا کھل کر تین بار اظہار کیا، جو خطے کے مقامی اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بنا ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کچھ لوگ گلگت بلتستان کو لبنان بنانا چاہتے ہیں۔ ایک مرتبہ یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا تھا کہ بلتستان والے بھارت کے ایجنٹ ہیں۔ غالباً سن 2016ء میں ان کی ایک ویڈیو میڈیا و سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ کھل کر یہ کہہ رہے تھے کہ گلگت، غذر، نگر، دیامر اور ہنزہ پر مشتمل صوبہ بنے گا، مگر بلتستان، استور ،سکردو کھرمنگ گنگچھے مسئلہ کشمیر کے فریق ہونے کے ناطے متنازعہ حیثیت سے نہیں نکل سکتے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے بیانات کے ذریعے حفیظ الرحمان اپنے برے عزائم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اب تو گلگت بلتستان کے سارے باشعور افراد جان چکے ہیں کہ موصوف وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے خطے کے عوامی مسائل پر توجہ دینے سے کہیں زیادہ گلگت بلتستان میں مذہبی اور لسانی نفرت اور تعصب کی آگ بھڑکانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ جس پر شاہد یہ ہے کہ چند روز قبل گلگت میں حفیظ الرحمان کے بعض ایلچیوں نے ان کی منفی سوچ کا ایک بار پھر اعلان کیا۔ انہوں نے پریس کانفرس کی جس میں یہ مطالبہ کر دیا کہ استور اور بلتستان کو متنازعہ رکھا جائے، مگر گلگت سمیت غذر، نگر، ہنزہ اور دیامر کو آئینی صوبے کی حیثیت دی جائے۔

اس پریس کانفرس نے گلگت بلتستان کے غیور عوام پر یہ آشکار کر دیا کہ حفیظ الرحمن اپنے برے عزائم سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں، بلکہ پوری منصوبہ بندی کے تحت وہ انہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے شب و روز کوشش کر رہے ہیں۔ وہ گلگت بلتستان کے باسیوں کی اتحادی قوت کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مگن ہیں۔ وہ عوامی ووٹ سے حاصل ہونے والے اقتدار سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کے باشعور افراد بیدار رہیں۔ آپ دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں، حفیظ الرحمان کی زیر نگرانی سر اٹھانے والے سازشی عناصر کے خلاف آواز بلند کریں۔ خطہ امن گلگت بلتستان کے عوام کو تقسیم کرنے والی سازشوں کو نقش بر آب کرنے میں کردار ادا کریں اور حفیظ الرحمان کے غلط اقدامات کو برملا کرکے آپس میں الفت، اخوت، محبت اور اتحاد و یکپارچگی کو فروغ دینے کے لئے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ حفیظ الرحمان سمیت پاکستانی حکمران گلگت بلتستان کے عوام میں پھوٹ ڈال کر انہیں اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں، لیکن یہ ان کی بھول ہے، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب باشعور ہوچکے ہیں، وہ تمہاری سازشوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، وہ متحد تھے اور رہیں گے۔
 
 ایک اسرائیلی لڑکی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں اس کا کہنا ہے کہ دنیا میں بعض ممالک ایسے ہیں، جن کو شکست دینا مشکل ہے۔ ان میں سے ایک پاکستان بھی ہے۔ اس نے کہا کہ 5 وجوہات ایسی ہیں، جن کی وجہ سے پاکستان پر قبضہ کرنا ناممکن ہے۔ اگر سنجیدگی سے ان پانچ وجوہات کا تجزیہ کیا جائے تو گلگت بلتستان کے بغیر پاکستان میں یہ پانچ وجوہات مکمل نہیں ہوتیں۔ وہ اسرائلی لڑکی پہلی وجہ یہ بیان کرتی ہے کہ پاکستان میں صحرا اور بلند و بالا پہاڑ موجود ہیں، جس کی وجہ سے اسے فتح کرنا بہت مشکل ہے۔ کیا کے ٹو سے بلند پہاڑ پاکستان میں کہیں ہے؟ دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے اس لڑکی نے کہا کہ پاکستان میں مختلف تہذیبوں کے لوگ رہتے ہیں اور پاکستانی عوام جنگجو ہیں اور جنگجو ہونا ان کے خون میں شامل ہے۔ کیا گلگت بلتستان کی تہذیب اور فداکار فوجی جوانوں کے بغیر اس کا مصداق مکمل ہے۔؟

تیسری وجہ پاکستان کے لوگوں کا اپنے ملک سے پیار ہے، جب بھی کوئی باہر سے ان پر حملہ کرتا ہے تو پوری قوم اکٹھی ہو جاتی ہے۔ کیا گلگت بلتستان والوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرنے والے ہیں۔؟ پاکستان سے محبت ہی کی وجہ سے اہلیان گلگت بلتستان اپنی مرضی اور اختیار سے پاکستان سے ملحق ہوئے ہیں۔ کیا گلگت بلتستان بھارت کے سامنے ڈھال نہیں بنے ہوئے۔؟ تو کیا گلگت بلتستان کے بغیر یہ وجہ مکمل ہے؟ پاکستانیوں میں قومی اتحاد ہے اور یہ قومی اتحاد کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رکھتا ہے۔ جب کبھی جنگ ہو جائے تو شہری اپنی فوج کے ساتھ مل کر دشمنوں کے خلاف لڑتے ہیں۔ کیا گلگت بلتستان کی قوم کی وحدت کی مثال پاکستان کی دوسری جگہوں پر ملتی ہے۔؟ پانچویں وجہ پاکستان کی فوج ہے، جو کہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔ ایٹمی ہتھیار ہونے کی وجہ سے دشمن حملہ کرنے کی جرات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ پاکستانی فوج میں شہادت کا جذبہ ہوتا ہے، جو کہ باقی کسی بھی غیر مسلم فوج کے پاس نہیں۔ اس اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو گلگت بلتستان کے بغیر یہ وجہ مکمل نہیں۔
خبر کا کوڈ : 782538
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب