8
Thursday 14 Mar 2019 01:31

پاکستان ایران تعلقات، خواہشات پر ایک نظر

پاکستان ایران تعلقات، خواہشات پر ایک نظر
تحریر: عرفان علی

پاکستان اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے مختلف لابیوں کی مختلف خواہشات سامنے آتی رہی ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ باوجود این کہ یہ لابیاں امریکا، جعلی ریاست اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ بیانیہ پر پاکستان کا جعلی ٹھپہ لگا کر پھیلا رہی ہیں، انکے اس بیانیہ میں شامل جھوٹ، الزامات اور ان کی بنیاد پر غلط نتیجہ گیری کے جواب میں بعض ایسی معلومات اور بعض ایسے نکات پیش خدمت ہیں کہ جس سے میرے جیسا عام پاکستانی شہری مذکورہ لابیوں کی ان خواہشات کے برعکس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ پچھلی تحریر میں قیام پاکستان سے ایرانی انقلاب سے قبل تک کے تعلقات پر ایک مختصر جائزہ پیش کیا گیا تھا۔ اب انقلاب اسلامی ایران کے بعد کے تعلقات سے متعلق چند اہم نکات کا جائزہ مقصود ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے اسکالرز اور طلباء بخوبی آگاہ ہیں کہ پاکستان کی خارجہ و دفاع پالیسی کو انڈیا سینٹرک قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی پاکستان کی دفاعی ڈاکٹرائن میں پڑوسی ملک بھارت (ہندوستان یا انڈیا) کی حیثیت دشمن، مرکزی حریف یا ولن(ان میں سے جو آپ مناسب سمجھیں) کی سی رہتی آئی ہے اور اسکی وجوہات بھی ہیں کہ اس سے جنگیں ہوچکی ہیں اور کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے دائمی کشیدگی بھی چلی آرہی ہے۔

اس بناء پر کہا جاتا ہے کہ ریاست پاکستان کا تھریٹ پرسیپشن انڈیا سینٹرک رہا ہے۔ دوستی و اتحاد کے لحاظ سے ریاست پاکستان مغربی آربٹ (محور) میں ہی رہتی آئی ہے۔ انقلاب اسلامی سے قبل ایران بھی اسی مغربی آربٹ میں تھا، لیکن انقلاب کی کامیابی کے فوراً بعد ایران نے علامتی نہیں بلکہ واقعی اپنی پالیسی میں جوہری تبدیلی کر دی، لیکن ریاست پاکستان پچھلے چالیس برسوں سے براہ راست یا بالواسطہ انہی طاقتوں کی ساتھی رہی، جو انقلاب سے پہلے تو ایران کو مغربی آربٹ میں ہونے کی بنیاد پر اور خطے میں سوویت یونین کے خلاف ایک اتحادی کی حیثیت سے بظاہر اچھے تعلقات رکھے ہوئے تھے، اس طرح پاکستان اور ایران دونوں ہی خطے میں سوویت کمیونزم کے خلاف مغربی بلاک کے خدمتگار ممالک بھی تھے اور اس زاویئے سے بھی اگر جائزہ لیں تو دونوں ہی ملکوں کو استعمال کیا گیا، جبکہ انکی کوئی ٹھوس مدد نہیں کی گئی، انکی مشکلات برطرف کرنے میں مغربی بلاک کی بڑی طاقتوں نے کوئی خاص اور یادگار معاونت نہیں کی۔ ایرانی انقلاب کے بعد ریاست پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں مغربی بلاک جس کا قائد امریکا تھا اور اس بلاک کے سب سے اہم مسلم اتحادی سعودی عرب کے مشترکہ ایجنڈا کے لئے خدمات پیش کیں، یعنی با الفاظ دیگر پاکستان کے امریکی بلاک اور سعودی عرب سے تعلقات کی نوعیت برابری کی بنیاد پر نہیں تھی بلکہ پاکستان کی حیثیت عربی غربی اتحاد کے اینٹی سوویٹ یونین پروجیکٹ کے سہولت کار کی تھی۔

سوویت کمیونزم کا خطرہ یا خدشہ، اس سے متعلق بھی بہت سی کہانیاں موجود ہیں، لیکن خطرہ تو ایران کو بھی تھا اور انقلابی حکومت نے سوویت یونین سے دو اعلیٰ ترین سطح کے معاہدے منسوخ کر دیئے تھے۔ اسکے ساتھ ہی ایران کی سرحدوں پر سوویت یونین کے خلاف امریکا کے جاسوسی نظام کو بھی ختم کر دیا تھا۔ ایران نے بیک وقت دونوں بڑی طاقتوں یعنی امریکا اور سوویت یونین سے وہ سارے تعلقات منقطع کر دیئے تھے، جو ایران کے داخلی امور میں مداخلت پر مبنی تھے یا جس سے اسکی غیر جانبداری پر حرف آرہا تھا۔ یعنی ایران غیر ملکی مفادات اور پراکسی وار لڑنے والوں کے لئے نو گر ایریا بنا دیا گیا۔ ایران آزادانہ افغانستان کے مزاحمت کاروں کی مدد کرتا رہا اور پاکستان کی طرح ایران نے بھی افغان مہاجرین کو پناہ بھی دی، لیکن ایران کے معاملات ایرانی قیادت کے ہاتھ میں رہے جبکہ پاکستان کے معاملات میں امریکی و سعودی دخیل رہے۔ اس پر اسٹیو کول نے بن لادن خاندان سے متعلق اپنی تصنیف میں روشنی ڈالی ہے جبکہ یہ معلومات سعودی حکمران شخصیات یا انکے قریبی معتمد کی بیان کردہ ہے، جو اس تصنیف میں ریفرنس کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، تفصیلات کے لئے دی بن لادنز کا مطالعہ فرمائیں۔ یہی نہیں بلکہ سوویت کمیونزم کے خلاف امریکی منصوبہ افغانستان میں سوویت دراندازی سے قبل ہی طے پاچکا تھا اور سی آئی اے کے اس وقت کے گیری اسکروئن نے بھی اسے بیان کیا ہے اور اسکے لئے انکی تصنیف دی فرسٹ ان پڑھئے۔

یاد رہے کہ معاہدہ بغداد جو بڑی طاقتوں کی ایما پر سوویت کمیونزم کے خلاف منظور کیا گیا اور جس کو سینٹو اتحاد کہا جاتا ہے، انقلاب کے بعد ایران نے اس سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا تو پاکستان نے بھی سینٹو کو خیرباد کہنے میں تاخیر نہیں کی، لیکن باقی پالیسیوں پر غیر ملکی فیکٹرز اثر انداز رہے اور یوں پاکستان کی مجموعی پالیسی آزاد نہ رہی۔ البتہ سوویت فیکٹر یا افغان فیکٹر یا عربی غربی فیکٹر جو مناسب سمجھیں، ان تین میں سے کوئی بھی نام استعمال کرسکتے ہیں کہ مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل ضیاء نے اس فیکٹر کے تحت پاکستان کی آزادی و خود مختاری، لسانی و مذہبی ہم آہنگی بلکہ پورے پاکستان کی معاشرتی فیبرک کا بیڑہ غرق کر دیا۔ منشیات اور خطرناک آتشیں اسلحے نے پاکستان کا رخ کر لیا اور اسکا فال آؤٹ آج تک پاکستان بھگت رہا ہے۔ پاکستان کے سابق بیوروکریٹ روئیداد خان کے مطابق جنرل ضیاء کے پاس پاکستان کے آئین اور جمہوری اقدار کے لئے سوائے حقارت کے کچھ نہیں تھا، جبکہ انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ سابق صدر جنرل ایوب خان کے قریبی معتمد اور بیوروکریٹ الطاف گوہر نے جنرل ضیاء کو سب سے بڑا منافق قرار دیا تھا۔

سوویت یونین کے سقوط کے بعد بھی پاکستان کی افغان پالیسی ایسی رہی کہ جس پر پاکستانیوں کو اعتراض رہا۔ حتیٰ کہ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے، افغان جہاد کے حامی ہفت روزہ تکبیر نے اور اہم عہدوں پر فائز شخصیات نے وقتاً فوقتاً اس افغان پالیسی اور طالبان پر بھی تنقید کی، اس پر سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز اور سابق سفارتکار ریاض خان کی تصانیف سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے، کیونکہ سابق سفارتی حکام نے تو امریکی سعودی فنڈنگ سے بننے والی مساجد و مدارس تک کے بارے میں لکھا ہے۔ اس طرح نائن الیون تک یہ معاملات چلتے رہے اور نائن الیون کے بعد ریاست پاکستان کی جو پالیسی بنی تو عوامی نیشنل پارٹی کے پختون سربراہ اسفندیار ولی نے تاریخی جملہ کہا کہ ہم نے اپنی پالیسی نہیں بدلی بلکہ ریاست پاکستان نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔

حالانکہ تبدیلی کیا تھی، پہلے بھی کسی اور کا ہی پروجیکٹ تھا اور بعد میں بھی انہی کا رہا اور افغانستان پر جنگ مسلط کر دی گئی جبکہ پاکستان کو ایک اور مرتبہ عربی غربی اتحاد کے پروجیکٹ کا سہولت کار بنا دیا گیا۔ پاکستانی حکام کے آفیشل بیانات ریکارڈ پر ہیں، امریکی غربی بلاک (خاص طور پر سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور سابق برطانوی وزیر خارجہ رابن کک) کے بیانات ریکارڈ پر ہیں کہ وہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ افغانستان کے معاملے میں ان سے غلطیاں ہوئیں، مس کیلکیولیشن کی، جن تکفیریوں کا آج دہشت گرد کہہ رہے ہیں، یہ انہی کی پیداوار ہیں۔ پھر بھی ان میں سے کسی نے اپنی پالیسی واقعی تبدیل نہیں کی اور اپنے اپنے ملکوں میں عوام کو بے وقوف بناتے رہے۔

پاکستان کا اصل ایشو انڈیا فیکٹر تھا، لیکن جنرل ضیاء کی وجہ سے افغانستان کا اضافی بوجھ بھی پاکستان پر آگیا، جس کا ملبہ آج تک پاکستان پر گرتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی تمام تر خدمات و سہولت کاری کے بعد بھی عربی غربی اتحاد نے نہ تو کشمیر تنازعہ حل کرکے دیا اور نہ ہی بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی کوئی ٹھوس نوعیت کی مدد و معاونت کی۔ نائن الیون کے بعد امریکی حکم پر پاکستان نے لبیک کہا۔ تب مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کی طرح جنرل پرویز مشرف زبردستی کے حکمران تھے۔ نائن الیون کے بعد کی پاکستان کی خدمات برائے غربی عربی اتحاد در افغانستان کی روداد کے لئے اس وقت کے سی آئی اے کے اسٹیشن چیف برائے اسلام آباد رابرٹ ایل گرینائر کی یادداشتوں پر مشتمل تصنیف ’’اے سی آئی اے ڈائری۔۔، ایٹی ایٹ ڈیز ٹو قندھار‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔

ریاست پاکستان نے ہر مشکل وقت میں غربی عربی اتحاد کے مفادات کا تحفظ کیا، انکے مفادات پر پاکستان کا لیبل لگایا جاتا رہا، لیکن اس عرصے میں غربی عربی اتحاد اور خاص طور پر امریکا اور خلیجی جی سی سی ممالک کے بھارت کے ساتھ تعلقات میں توسیع ہوتی چلی گئی اور اب حال یہ ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے در اندازی کی، اسرائیلی بم گرائے، لیکن غربی عربی اتحاد اور خاص طور پر امریکا، سعودیہ و متحدہ عرب امارات نے بھارتی جارحیت کی مذمت نہیں کی، بھارت کے سہولت کار بن کر پاکستان سے مطالبات منواتے چلے گئے اور ان دنوں بھارتی سیکرٹری خارجہ واشنگٹن کے دورے پر ہیں تو وہاں سے امریکی وزیر خارجہ مائیکل پومپیو نے حکم صادر فرمایا ہے کہ پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف فوری اور مزید اقدامات کرے، جو بھارت کی نظر میں دہشت گرد ہیں۔

دوسری طرف ایران ہے کہ جس کا تھریٹ پرسیپشن پاکستان سے مختلف رہتا آیا ہے۔ ایران ہر ملک سے دو طرفہ باعزت اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کا قائل ہے، سوائے جعلی ریاست اسرائیل کے۔ ایرانی قوم نے ایک طویل عرصے برطانیہ، سوویت یونین، امریکا اور ایک دور میں فرانس کے ہاتھوں اپنی آزادی و خود مختاری پر ڈاکے اور اپنے وسائل کی لوٹ مار دیکھی ہے، اس لئے بحیثیت قوم، وہ ان بڑی طاقتوں اور انکے طفیلیوں کے حوالے سے بہت زیادہ محتاط ہیں۔ البتہ اسلامی ممالک کے لئے نرم ہیں۔ صدام نے جو جنگ مسلط کی اور جو آٹھ سال جاری رہی، ان آٹھ برسوں میں وہ سارے ممالک جن کو پاکستان اتحادی اور دوست قرار دیتا آیا ہے، وہ سبھی صدام کے پشت پناہ رہے ہیں۔ ایران نے انقلاب کے بعد ان ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی تھی، لیکن یہ سب امریکی ڈکٹیشن پر صدام کے سہولت کار ہوا کرتے تھے۔ پاکستانیوں نے اپنی پوری تاریخ میں کل ملا کر جتنی جنگیں لڑی ہیں، انکا دورانیہ ایران کی اس ایک جنگ کے برابر تو کیا آدھا یا چوتھائی بھی نہیں ہے۔ ایران کے جانی و مالی نقصانات بھی پاکستان کے جنگی نقصانات سے کہیں زیادہ ہیں۔ صدام کی اس جنگ میں سعودی عرب کا کردار سمجھنا ہے تو صرف ایک صفحہ پاکستان کے سابق سفارتکار جمشید مارکر کی یادداشتوں کا پڑھ لیجیے ’’خاموش سفارتکاری، ایک پاکستانی سفارتکار کی یادداشتیں‘‘ کے بیسویں باب بعنوان فرنس میں انہوں نے بیان کیا ہے۔

ایران کے خلاف سعودی عرب کی حمایت برائے صدام کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، لیکن ایک پاکستانی سفارتکار کی معتبر گواہی کے بعد سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کی ایران مخالف ہرزہ سرائی اور وہ بھی پاکستان میں بیٹھ کر ایسا کرنا، اور بھارت کی جارحیت کے خلاف ایک لفظ نہ کہنا بلکہ تحمل کی تلقین کرنا، یہ حقیقت سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ یہ ایران نہیں تھا جس نے سعودی عرب کے خلاف کسی جنگ میں شراکت داری کی تھی، بلکہ 1980ء تا 1988ء صدام کی جنگ میں سعودی عرب ایران کے خلاف تھا اور پاکستان میں بیٹھ کر بھی سعودی وزیر نے بھارت کے خلاف کوئی منفی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا بلکہ ایران ہی کے خلاف بیان دیا تھا، یعنی سعودی وزیر نے پاکستان کے مفاد میں کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ ایک آزاد و خود مختار مملکت کے لئے اس سے بڑھ کر کیا ذلت و رسوائی ہوگی کہ کسی دوسرے ملک کا وزیر اس کی سرزمین پر اس کے کسی ایسے پڑوسی ملک کے خلاف بیان دے کہ جس کے ساتھ بقول ریاستی ادارے کے ترجمان کے انتہائی بہترین تعلقات ہیں یعنی ایران کے۔۔۔

اس کے باوجود ان لابیوں کا جن کا آغاز میں تذکرہ کیا گیا، ان کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکا کی بھارت نواز پالیسیوں کا دفاع کرتے رہنا، انکے لئے حسن ظن، مثبت رائے رکھنا اور ایران کو سنگل آؤٹ کرنا جبکہ بھارت کے جو بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، ان کو کو مذکورہ لابیاں دوست اور بھائی و اتحادی قرار دیتی ہیں، ان کا احترام کرتی ہیں، یہ عدل و انصاف کے خلاف ہے بلکہ یہ منافقت و دوغلاپن ہے۔ ان ممالک کا بھارت کے ساتھ تعلق ایران کی نسبت زیادہ ہے، لیکن ان لابیوں کو صرف ایران بھارت تعلقات کی فکر کھائے جا رہی ہے، جبکہ ایران پر اقتصادی پابندیاں ہیں اور دیگر ممالک پر پابندیاں نہیں ہیں۔ ایران، بھارت اور پاکستان تینوں زیادہ قریبی پڑوسی ہیں، امریکا، سعویہ و امارات کب سے پاکستان و بھارت کے پڑوسی ہوگئے۔؟

پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت نے امریکی دباؤ پر اپنا قومی مفاد مقدم رکھ کر ایران کے ساتھ تجارت کی ہے تو ایران ایک ایسے ملک کو کیوں مقدم رکھے کہ جس کی اپنی تجارت ایران کی نسبت بھارت سے زیادہ ہے، جی ہاں خود پاکستان! پاکستان نے بھارت کیساتھ دو بلین ڈالر سے زائد تجارت کی ہے، جس میں بھی عدم توازن بھارت کے حق میں ہے، کیونکہ پاکستان نے سوا ارب ڈالر سے زائد مالیت کی خریداری بھارت سے کی ہے، جبکہ ایران سے پاکستان کی کل تجارت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ارب ڈالر بھی نہیں تھی! سعودی عرب اور بھارت کے مابین دوطرفہ تجارت کا حجم سال 2017-18ء میں تقریباً ساڑھے ستائیس بلین ڈالر رہا جبکہ اسی دورانیہ میں ایران بھارت دوطرفہ تجارت کا حجم تیرہ اعشاریہ آٹھ بلین ڈالر رہا۔

یعنی خود پاکستان اور سعودیہ تو بھارت کے ساتھ ایران سے بھی زیادہ تعلقات رکھیں، لیکن ایران نہ رکھے، کیا یہ کسی عاقل، بالغ، ہوشمند، عقلمند فرد کی خواہش ہوسکتی ہے یا پھر کسی منافق کی! پاکستان کی گوادر بندرگاہ سمیت بلوچستان کی ساحلی پٹی کو بجلی ایران دے، چابہار میں افتتاحی تقریب میں پاکستانی وزیر کو ایرانی صدر اپنے ساتھ کھڑا رکھے اور امریکی، سعودی، اماراتی ڈکٹیشن پر پاکستان ایران سے آنے والی گیس پائپ لائن کی تعمیر پر کام ہی شروع نہ کرے، ایران کہے کہ اسکی گیس بھارت تک جائے تو بھارت دشمن ہے اور جب امریکی سعودی ڈکٹیشن آئے تو اسی دشمن بھارت کو تاپی گیس پائپ لائن منصوبے سے گیس کی فراہمی کے لئے پائپ لائن کی اجازت دے دی جائے! پہلے ہم یعنی پاکستانی خود سے تو مخلص ہو جائیں پھر ایران ایران کا رٹا لگائیں۔

پھر صوبہ بلوچستان کے حوالے سے جو بھارتی ادارے "را" کی بلوچستان ڈیسک تو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بھارتی ہائی کمیشن میں موجود تھی، جو بقول بلوچ صحافی احمر مستی خان کے ناجش بھوشن چلا رہا تھا۔ اسی امریکا نے سلالہ میں پاکستان کے فوجی مارے، اسی امریکا نے بقول امریکی صحافی بوب ورڈز کے افغانستان میں تین ہزار افراد پر مشتمل ٹاپ سیکرٹ کوورٹ آرمی چلائی اور اسکا نام کاؤنٹر ٹیررازم پرسوٹ ٹیم (مخفف سی ٹی پی ٹی) تھا۔ یہ ایسے افغان باشندوں پر مشتمل تھی، جنہیں جو امریکی ادارے سی آئی اے کے تنخواہ دار، تربیت یافتہ تھے اور انہی کے کنٹرول میں تھے۔ بوب وڈورڈز کے الفاظ میں
They killed or captured Taliban insurgents and often went into tribal areas to eliminate. They conducted dangerous and highly controversial cross-border operations into neighbouring Pakistan.

باوجود این، پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت کا حجم دو بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا سے پاکستان کی تجارت 2017ء میں چھ اعشاریہ چار بلین ڈالر تھی۔ ان نکات سے صرف اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ یہ لابیاں جو ایران کو سنگل آؤٹ کرکے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں، ان سے پوچھنا چاہیئے کہ "را" کا بلوچستان نیٹ ورک امریکا میں بھارتی سفارتی مشن سے چلائے جانے کے باوجود، متحدہ عرب امارات و سعودی عرب کا بھارت سے بہترین تعلقات کے باوجود، افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملوں، سلالہ میں پاک فوج کے جوانوں کو شہید کرنے کے باوجود، امریکی سرپرستی میں کراس بارڈر ٹیررازم کے باوجود، پاکستانی جغرافیائی حدود کی بارہا خلاف ورزی اور پاکستان کے خلاف بیانات و اقدامات کے باوجود، متحدہ عرب امارات کے وزیر انور قرقاش کی پاکستان کو دھمکیوں کے باوجود، پاکستان کو فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں لانے کے حق میں سعودی عرب کے ووٹ کے باوجود، اگر یہ سارے ملک پاکستان کے دوست، بھائی، اتحادی، معزز و معتبر ہوسکتے ہیں تو ایران ان سے سوگنا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کو پاکستان کا دوست، بھائی و اتحادی سمجھا جائے، کیونکہ ایران نے کسی ملک سے تعلقات ختم کرنے کی ڈکٹیشن نہیں دی ہے، صرف اتنا کہا ہے کہ جس طرح ان کی پاکستان سے ملحق سرحدیں ہمارے لئے یعنی پاکستان کے لئے محفوظ بنا دی گئی ہیں، بالکل اسی طرح پاکستان کی ایران سے ملحق سرحدیں بھی ان کے لئے محفوظ بنا دی جائیں، یہ مطالبہ امریکی، سعودی و امارتی دھمکیوں کی طرح تو نہیں ہے۔

اور جو یہ کہتے ہیں کہ ایران یہ کرے، ایران وہ کرے، وہ پہلے ایران کے بھی ویسے ہی خدمتگار و سہولت کار بن کر دکھائیں، جیسے وہ پچھلے چالیس برسوں سے امریکا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے لئے بنتے رہے ہیں اور امریکا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے بھی وہ بھارت کے خلاف وہ مطالبات منوا لیں جو پچھلے چالیس برسوں کی خدمت گذاری اور سہولت کاری کے باوجود نہیں منوا سکے ہیں۔ رہ گئی بات سعودی و اماراتی مفادات کی تو پوری دنیا جانتی ہے کہ عرب مسلمان ملکوں کی خارجہ پالیسی میں اولین ایجنڈا فلسطین کی آزادی رہا ہے اور خود سعودی عرب نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کی آزادی اور مقبوضہ بیت المقدس یعنی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کے لئے قائم کی تھی۔ پورے فلسطین پر، لبنان اور شام کے بعض حصوں پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے اور عرب اسلامی مفاد یہ ہے کہ اس اسرائیلی قبضے کو ختم کرایا جائے، مگر سعودی و اماراتی شاہ و شیوخ اسرائیل کو غیر رسمی طور تسلیم کرچکے ہیں ، خفیہ و اعلانیہ روابط قائم کرچکے ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی و امریکی مفاد پر اپنا ٹھپہ لگایا ہے، لیکن عرب بھی اور مسلمان بھی جانتے ہیں کہ ایران سے نہیں بلکہ اسرائیل سے اور اس کے سرپرست امریکا سے ان کو خطرات لاحق ہیں۔ افغانستان، عراق، فلسطین، شام و لبنان و یمن ہر جگہ اسرائیلی امریکی مفاد کی جنگ لڑی جا رہی ہے اور سعودی و اماراتی حکومتیں ان کی سہولت کار ہیں۔ نہ تو عرب لیگ اور نہ ہی او آئی سی، ان میں سے کوئی بھی ایران کے خلاف نہیں بنائی گئی تھی، کیونکہ عربوں اور مسلمانوں کا مفاد یہی تھا اور آج بھی ہے کہ فلسطین آزاد ہو، لیکن اسرائیلی امریکی مفاد یہ ہے یمن، شام، لبنان پر بھی وہ یا ان کے سعودی اماراتی اتحادی یا ان کے طفیلیے حاوی ہو جائیں۔ چلیں مسلمان نہ سہی عربوں کی حیثیت سے ہی سہی، سنی کی حیثیت سے ہی سہی، فلسطین 1948ء سے سعودی مدد کا منتظر ہے، مگر آل سعود ہیں کہ انکی غیرت جاگ کے نہیں دے رہی! جب یہ سنی عربوں کے ہی نہیں تو سنی کشمیریوں یا پاکستانیوں کے کیا ہوں گے!؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Hillary Clinton: We created Al-Qaeda to fight the Soviets https://www.youtube.com/watch?v=0C8hz1oIkpk
ْ Pakistan A Dream Gone Sour by Roedad Khan (OUP 1997) 
https://www.dawn.com/news/1469308
The Bin Ladens: Oil Money, Terrorism and the Secret Saudi World by Steve Coll (2008)
Quiet Diplomacy: Memoirs of an Ambassador of Pakistan by Jamsheed Markar (OUP-2010 also in 2012)
https://www.dawn.com/news/1449784
http://www.indianembassy.org.sa/india-saudi-arabia/india-saudi-bilateral-relations
https://www.indianembassy-tehran.ir/pages.php?id=16
https://www.dawn.com/news/1402319
Fear: Trump in the White House by Bob Woodward (2018)
Bin Laden was, though, a product of a monumental miscalculation by western security agencies. Throughout the 80s he was armed by the CIA and funded by the Saudis to wage jihad against the Russian occupation of Afghanistan. https://www.theguardian.com/uk/2005/jul/08/july7.development
Pak-Afghan bilateral trade crosses $2 bn
https://www.thenews.com.pk/print/409077-pak-afghan-bilateral-trade-crosses-2-bn
خبر کا کوڈ : 783199
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب