0
Friday 15 Mar 2019 16:01

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی، کیا مغربی معاشرہ تباہی کیطرف گامزن ہے؟

نیوزی لینڈ میں دہشتگردی، کیا مغربی معاشرہ تباہی کیطرف گامزن ہے؟
تحریر: سید ثاقب اکبر
 
آج (15 مارچ 2019ء) نیوزی لینڈ کی دو جامع مساجد میں اجتماعات جمعہ میں دہشت گردی کے واقعات نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پہلا حملہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کے ہیگلی پارک کے قریب ڈین ایونیو پر واقع مسجد النور پر کیا گیا اور دوسرا حملہ لِن ووڈ مسجد پر ہوا۔ اس وقت تک کی اطلاعات کے مطابق 40 نمازی شہید ہوئے اور 40 سے زیادہ زخمیوں کی تعداد بتائی جاتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جےسنڈا آرڈن نے اس سانحہ کے فوری بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ پولیس کمشنر مائیک بُش کے مطابق چار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بہت منظم طریقے سے کیا گیا ہے۔ حملہ آور کی شناخت آسٹریلیوی شہری سرینٹن ٹیرینٹ کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ مسجد میں داخل ہوا تو اس نے مشین گن سے فائرنگ شروع کی۔ مقامی میڈیا کے مطابق حملہ آور نے اپنی پنڈلیوں کے ساتھ گولیوں سے بھرے میگزین باندھے ہوئے تھے۔ اس کی گاڑی جدید ہتھیاروں سے لیس تھی، جس میں پٹرول بمب بھی موجود تھے۔ وہ ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے اس واردات کی ویڈیو لائیو اسٹریمنگ کر رہا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا آﺅ پارٹی شروع کرتے ہیں۔ یہ ویڈیو 17 منٹ کی ہے۔ حملہ آور نے فوجی وردی پہن رکھتی تھی۔ ویڈیو میں اس کا چہرہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔
 
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے دہشت گردوں کو پیغام دیا کہ تم نے ہمیں چنا، لیکن ہم تمھاری مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو قانون کے دائرے میں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جن پر حملہ کیا گیا ہے، وہ غیر ملکی تھے لیکن ہمارے اپنے تھے۔ انہوں نے حملے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا۔ دنیا بھر میں اس حملے کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نے اس پر دو ٹویٹس کے ذریعے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کی عبارت بہت معنی خیز ہے، انہوں نے لکھا: ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا ”اسلامو فوبیا“ کار فرما ہے، جس کے تحت دہشت گردی کی ہر واردات کی ذمہ داری مجموعی طور پر اسلام اور سوا ارب مسلمانوں کے سر تھوپنے کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں کی جائز سیاسی جدوجہد کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔ انہوں نے دوسری ٹویٹ میں لکھا کہ: کرائسٹ چرچ (نیوزی لینڈ) میں مسجد پر دہشت گرد حملہ نہایت تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ یہ حملہ ہمارے اس موقف کی تصدیق کرتا ہے، جسے ہم مسلسل دہراتے آئے ہیں کہ: ”دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں۔“ ہماری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
 
وزیراعظم عمران خان کی اس بات کے لیے بہت سی واقعاتی شہادتیں موجود ہیں کہ ان بڑھتے ہوئے حملوں کے پیچھے 9/11 کے بعد تیزی سے پھیلنے والا اسلامو فوبیا کارفرما ہے۔ ہم ذیل میں صرف چند ایک واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 31 جنوری 2017ء کو کینیڈا کے شہر کیوبیک میں مسجد پر حملہ کرکے متعدد افراد کو شہید کیا گیا۔ حملہ کرنے والا فرانسیسی کینیڈین الیگزینڈر بیسونت تھا، جو لاول یونیورسٹی کا طالب علم تھا۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔ سوئٹزرلینڈ میں گذشتہ چند برسوں میں کئی مساجد پر حملے ہوچکے ہیں۔ خود سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے مساجد کے خلاف معاشرے میں شدید نفرت پیدا کی اور مساجد کے میناروں کو 2009ء میں خلاف قانون قرار دیا گیا اور انہیں دہشتگردی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ حکومت نے عوام کی ذہن سازی کے لیے اس سلسلے میں ایک ریفرنڈم کا اہتمام بھی کیا۔
 
امریکا میں بھی بہت سارے واقعات رونما ہوچکے ہیں۔ وہاں تو ایک کروسیڈ (صلیبی جنگ) نامی جنگجو گروہ سرگرم عمل ہے۔ امریکا میں قرآن حکیم کو جلانے کے بھی واقعات ہوچکے ہیں۔ امریکا میں موجود امریکی اسلامی تعلقات کی کونسل نے کئی مرتبہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سے امریکا میں مساجد کی حفاظت کی اپیل کی ہے۔ مسلمانوں اور مساجد کے خلاف سب سے زیادہ واقعات جرمنی میں ہوتے ہیں۔ جرمنی اور اسپین میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ان دونوں ملکوں میں باپردہ خواتین پر دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے حملے تیز ہوگئے ہیں۔ جرمن حکومت کی سرکاری رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ صرف 2017ء میں جرمنی میں مسلمانوں اور مساجد پر 950 حملے ہوئے ہیں۔ اسپین میں بھی 2017ء میں اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے با پردہ خواتین، مسلم نوجوانوں اور مساجد پر 500 حملے کیے ہیں۔
 
البتہ غیر سرکاری ذرائع اور ماہرین کے مطابق جرمنی میں حملوں کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔ جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل کا کہنا ہے کہ سرکاری رپورٹ میں جرائم کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ اس کونسل کے سربراہ ایمن مزیک کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں حقیقت کے صرف چند ہی پہلوﺅں کو بیان کیا گیا ہے۔ حملوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہے۔ ادارے، پولیس اور پراسیکیوٹرز کچھ واقعات کے حوالے سے حساس ہیں اور ایسے واقعات درج ہی نہیں کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بہت سے متاثرہ مسلمانوں کی شکایات درج ہی نہیں کی جاتیں اور بہت سے خود پولیس کے پاس جانے سے کتراتے ہیں۔ 25 ستمبر2017ء کو برطانیہ کے گریٹر مانچسٹر کے علاقے میں ایک مسلمان آرتھوپیڈک سرجن کو اسلامی مرکز کے باہر چاقو کے ذریعے حملے کا نشانہ بنایا گیا، سرجن کا نام ناصر کردی ہے۔ اسلامی مرکز کے سیکرٹری امجد لطیف نے اس واقعے کے بعد کہا کہ مرکز میں اسلامی سوسائٹی کے دفتر کو گذشتہ کئی ماہ سے نسلی بنیادوں پر حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور رواں سال اپریل سے اب تک چار مرتبہ دفتر کے شیشے توڑے جا چکے ہیں۔
 
مغربی معاشرے میں حجاب پہننے والی خواتین کے خلاف جو فضا پیدا کی گئی، اس نے بہت سے سانحات کو جنم دیا۔ اس سلسلے میں ہم نے پہلے بھی کئی ایک مقالات سپرد قلم کیے ہیں۔ اسی طرح مساجد کے میناروں پر پابندی کی سوئٹزرلینڈ کی مہم کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے ہم نے مغربی معاشرے میں انتہا پسندی کے فروغ کے ہولناک نتائج سے خبردار کرنے کے لیے کئی ایک مضامین لکھے۔ اس سلسلے میں اکتوبر 2010ء میں ایک مضمون جو ”کیا مغربی سماج انتہا پسندی کی لہر کی گرفت میں ہے؟“ کے زیر عنوان لکھا گیا، اس سے چند جملے یہاں پیش کرتے ہیں: ”حجاب کے خلاف عوامی جذبات اس قدر برانگیختہ کیے جا چکے ہیں کہ جرمنی میں مصر کی ایک خاتون مروہ الشربینی کو بھری عدالت میں ایک جنونی نے فقط حجاب کی وجہ سے قتل کر ڈالا، جس نے ”شہیدہ حجاب“ کے نام سے شہرت حاصل کی۔ معاملہ حجاب کی مخالفت پر ہی نہیں رُک گیا۔ سوئٹزرلینڈ میں مساجد کے میناروں کے خلاف برپا کی جانے والی تحریک اور مغرب میں مساجد کے قیام میں پیدا کی جانے والی نفرت انگیز رکاوٹیں، مسلمانوں کے مسلسل احتجاج کے باوجود رسول اسلام کے توہین آمیز کارٹونوں کی کثرت اور پھر سرعام اعلانات کے بعد قرآن مجید کو جلانے کے واقعات سب مغربی معاشرے میں عدم رواداری، عدم برداشت، انتہا پسندی اور شدت پرستی کی بڑھتی اور امنڈتی ہوئی لہر کی غمازی کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ مغرب میں آزادی، جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولرزم کا مثبت تصور سب کچھ خطرے میں ہے۔"
 
ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی معاشرے میں جس انداز سے شدت پسندی فروغ پا رہی ہے، یہ فقط مسلمانوں کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہے گی۔ اس حوالے سے سب سے زیادہ واقعات امریکا میں رونما ہوتے ہیں۔ عام امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دیگر کئی ممالک میں بھی انتہاء پسندوں نے مسلم غیر مسلم کی تمیز کے بغیر سانحات کو جنم دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ مغرب کے سنجیدہ حلقے عالمی سطح پر دہشت گردی کو ایک انسانی مسئلہ سمجھتے ہوئے اس سے دنیا کو نجات دلانے پر متفق ہو جائیں۔ اسلام دشمنی اور اسلامو فوبیا سے نکلنا ایک پوری نفسیاتی کیفیت سے معاشروں کو نجات دلانے کے لیے ضروری ہے، ورنہ جب انسانی مزاج میں شدت پسندی کا عنصر داخل ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپنے اور غیر، مسلم و غیر مسلم اور مشرق و مغرب کا فرق روا نہیں رکھتا۔ امریکی قیادت کے نفرتوں کو ابھار کر اسلحہ فروشی کے طرز عمل کا اب خاتمہ کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے لیے سب سے اہم کردار خود مغرب کے ذمہ دار حلقے ہی ادا کرسکتے ہیں۔ انسان دوستی کی بنیاد پر نئے اور جرا ت مندانہ فیصلے کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ہمسائے کے گھر میں لگائی جانے والی آگ سے اپنے گھر کو محفوظ رکھنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
خبر کا کوڈ : 783479
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب