0
Sunday 24 Mar 2019 19:56

ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں عالمی سطح پر امریکی اثرورسوخ کا زوال

ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت میں عالمی سطح پر امریکی اثرورسوخ کا زوال
تحریر: علی احمدی

دوسری عالمی جنگ کے خاتمے اور اس کے بعد چند عشرے مشرقی اور مغربی بلاکس کے درمیان سرد جنگ رہنے کے نتیجے میں سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ ہمیشہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی، سیاسی اور فوجی طاقت کے طور پر جانا گیا ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے دوسرے نصف حصے اور اکیسویں صدی کے آغاز سے عالمی سطح پر چند نئی طاقتیں ابھر کر سامنے آئیں جنہوں نے ہر شعبے میں امریکہ کو شدید چیلنجز سے روبرو کر ڈالا۔ ایسے چیلنجز جو حالیہ چند سالوں کے دوران امریکہ اور دنیا کے ملٹی پولر نئے عالمی نظام کے درمیان پیدا ہوئے ہیں اور ان کا نتیجہ عالمی سطح پر امریکی اثرورسوخ میں کمی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد عالمی سطح پر امریکی طاقت کے زوال میں مزید تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کا انتہائی غیر معقول فیصلہ مقبوضہ فلسطین میں اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے قدس شریف منتقل کرنے کا اعلان تھا جس کے مقابلے میں عالمی برادری کی طرف سے منفی ردعمل سامنے آیا اور آخرکار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس کے خلاف قرارداد بھی منظور کی گئی۔
 
عالمی تجارت اور مالی اور تجارتی نظاموں پر امریکی اثرورسوخ میں کمی
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے لے کر 1960ء تک امریکہ عالمی سطح پر انجام پانے والی کل تجارت کے 40 فیصد پر قابض تھا۔ اس دوران امریکہ ہمیشہ دنیا کی پہلی اقتصادی طاقت کے طور پر جانا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں نئی اقتصادی طاقتیں بھی ابھر کر سامنے آئین جن میں یورپی یونین، چین اور جاپان سرفہرست ہیں جس کے باعث 2013ء عالمی سطح پر انجام پانے والی کل تجارت کا صرف 25 فیصد حصہ امریکہ کے کنٹرول میں باقی رہ گیا۔ امریکہ کی جانب سے ٹرانس پیسیفک اور نیفتا جیسے عالمی تجارتی معاہدوں سے دستبرداری اور حالیہ چند سالوں کے دوران خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکہ اور یورپی یونین کے تعلقات میں کشیدگی کے باعث یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ برسوں میں امریکہ کے اقتصادی اثرورسوخ میں مزید کمی واقع ہو گی۔
 
اکیسویں صدی کے آغاز تک دنیا کے تمام بینکاری، مالی اور تجارتی نظاموں پر امریکی کرنسی ڈالر کا ہی قبضہ تھا لیکن 1999ء میں یورپی یونین کی جانب سے یورو نامی نئی کرنسی متعارف کروائے جانے کے بعد ڈالر کو پہلا دھچکہ لگا جبکہ حالیہ چند سالوں میں اقتصادی میدان میں چین کی تیز ترقی اور چینی کرنسی کا عالمی مارکیٹ میں داخل ہونے کی وجہ سے ڈالر مزید کمزور ہوا ہے۔ یورپ کے مرکزی بینک کی جانب سے 2015ء میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس سال عالمی تجارت کا صرف 50 سے 60 فیصد حصہ ڈالر کے ذریعے انجام پایا ہے۔ اسی طرح حالیہ چند سالوں میں روس، ایران اور بعض دیگر ممالک کے خلاف عائد ہونے والی امریکی پابندیوں اور امریکہ کی جانب سے ان ممالک سے تجارت نہ کرنے کیلئے دیگر ممالک پر دباو کے نتیجے میں مختلف ممالک نے اپنی تجارت سے ڈالر ختم کر کے علاقائی کرنسی میں کاروبار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مستقبل قریب میں ڈالر کی قدر میں بہت زیادہ کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔
 
سیاسی اور فوجی شعبوں میں امریکہ کی اسٹریٹجک اہمیت میں کمی
نارتھ ایٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یا "نیٹو" امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان ایک فوجی اور دفاعی اتحاد ہے جو گذشتہ عشروں میں امریکہ کا ایک عظیم اسٹریٹجک سرمایہ تصور کیا جاتا تھا۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کے رکن ممالک پر اس تنظیم کے بجٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کیلئے شدید دباو ڈالا جا رہا ہے۔ اس دباو کے نتیجے میں نیٹو اتحاد میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں اور یورپ کے بعض اہم ممالک نے ایک علیحدہ یورپی مشترکہ فوج تشکیل دینے کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرامز کی روک تھام میں ناکامی، اس بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی گیدڑ بھبکیاں، تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی شکست اور نابودی کے نتیجے میں مشرق وسطی سے متعلق امریکی سیاسی اہداف کی تکمیل میں ناکامی، ایران، روس، ترکی اور عراق کے تعاون سے داعش کی شکست وغیرہ حالیہ چند سالوں میں ایسے اہم واقعات تھے جن کے باعث امریکہ کے اثرورسوخ کو مزید ٹھیس پہنچی ہے۔
 
اسی طرح مشرقی یوکرائن اور کریمہ جزیرے سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں امریکہ کی ناکامی کے باعث امریکہ کے علاقائی اتحادی بھی اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور یورپی ممالک بھی امریکہ کی اسٹریٹجک پوزیشن کے بارے شک اور تذبذب کا شکار ہو گئے ہیں۔ مزید برآں، بعض یورپی حکمران سمجھتے ہیں کہ مشرقی یورپ میں امریکی اقدامات کا مقصد اس علاقے میں انرجی کی مارکیٹ پر قبضہ کرنا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق پیرس معاہدے سے دستبرداری، ٹرانس پیسیفک فری ٹریڈ معاہدے سے دستبرداری، ایران سے طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہاجرین کے خلاف شدید پالیسیاں اختیار کئے جانا اور آخرکار قدس شریف سے متعلق انتہائی ظالمانہ اور غلط فیصلے اس بات کا باعث بنے ہیں کہ عالمی سطح پر امریکہ ایک ناقابل اعتماد اور لاقانونیت پر گامزن ملک تصور کیا جائے جسے نہ تو بین الاقوامی قوانین کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی عالمی برادری اور عالمی ادارے اس کیلئے کوئی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس امریکی رویے کے باعث عالمی سطح پر امریکی اثرورسوخ کو ایسا شدید دھچکہ پہنچا ہے جس کا ازالہ مختصر مدت میں ممکن نہیں۔
خبر کا کوڈ : 784954
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب