0
Monday 25 Mar 2019 07:44

مائیک پمپیو کی آوارہ گردی اور خدائی دعوے

مائیک پمپیو کی آوارہ گردی اور خدائی دعوے
اداریہ

امریکی وزیر خارجہ مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں، انہوں نے لبنان، سعودی عرب، کویت اور غاصب اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ہمیشہ دو نکاتی پالیسی رہی ہے، پہلا نکتہ غاصب اسرائیل یعنی صہیونی حکومت کی حمایت اور دوسرا نکتہ ایرانو فوبیا۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لیکر آج تک کوئی امریکی عہدیدار اس علاقے میں نہیں آیا، جس نے ایران کے خلاف ہرزہ سرائی نہ کی ہو۔ امریکہ ان عرب ممالک مین ایرانو فوبیا کا ماحول پیدا کرکے کبھی ہتھیار بیچتا ہے، کبھی اسرائیل کو ان کا نجات دہندہ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے۔ امریکی حکام اس تسلسل سے اس علاقے کے دورے کرتے ہیں کہ ایک عہدیدار کے دورے کی بازگشت ابھی میڈیا میں موجود ہوتی ہے کہ دوسرا آ دھمکتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے حالیہ دورے کا آغاز بھی ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات سے کیا اور اختتام پر بھی اس کے ہونٹوں پر ایران کے خلاف الزامات کی مسلسل بوچھاڑ تھی۔

امریکی وزیر خارجہ کو لبنان میں اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، جب لبنان کے ان تمام حکام نے جن سے امریکی وزیر خارجہ نے ملاقات کی، امریکی توقعات اور خواہشات کے برعکس سب نے حزب اللہ کو لبنان کا سرمایہ قرار دیا اور اس کے خلاف موقف اختیار کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل کا ایسے عالم میں دورہ کیا ہے کہ نیتن یاہو کو اپنی زندگی کے سخت ترین انتخابات درپیش ہیں۔ صہیونی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ پر بدعنوانی کے متعدد الزامات ہیں اور عدالتوں میں ان کے خلاف مقدمات بھی دائر ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے غیر جمہوری رویوں اور نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کے لیے نیتن یاہو کے علاوہ کسی دوسرے امیدوار سے ملاقات کی زحمت بھی نہیں کی۔ امریکی وزیر خارجہ نے نہ صرف اپنی تمام تر حمایت نیتن یاہو کے پلڑے میں ڈال دی ہے بلکہ اسرائیل کی حمایت اور ایران کی مخالفت میں ایسا جملہ بھی کہا ہے، جس پر ہر عیسائی شرمندہ نظر آتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ خدا نے اسرائیل کو ایران سے بچانے کے لیے ٹرامپ کو بھیجا ہے۔
خبر کا کوڈ : 785015
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے