0
Monday 25 Mar 2019 22:33

مہاتیر محمد کی جرات رندانہ کو سلام

مہاتیر محمد کی جرات رندانہ کو سلام
تحریر: ثاقب اکبر
 
ملائیشیا کے پیرسال وزیراعظم کی پاکستان میں بہت سی بھلائیاں اور پیغامات اپنے ساتھ لائے، لیکن انھوں نے اسرائیل کے بارے میں جو بات کی اس نے ان کی جواں ہمتی اور جرات راندانہ کو آشکار کر دیا۔ انھوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اسرائیل کے سوا کوئی دشمن نہیں، باقی تمام ممالک سے ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اسرائیل سے ہم نے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہودیوں کے خلاف نہیں مگر دوسروں کے ملک پر قبضہ کرنا ڈاکوﺅں کا کام ہوتا ہے۔ اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان سے پہلے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مہمان وزیراعظم کو عجیب انداز سے خراج تحسین پیش کیا۔ شاید یہ خراج تحسین بعد میں ہونے والی تقریر کی طرف اشارہ تھا یا اس کے لیے دروازہ کھول رہا تھا۔ انھوں نے کہاکہ بدقسمتی سے بہت کم مسلم راہنما ایسے ہیں، جنھوں نے ان معاملات پر موقف اپنایا، جنھوں نے مسلم دنیا کو متاثر کیا۔ 
 
انھوں نے کہا کہ مہاتیر محمد وہ بات کہہ دیتے ہیں جو دیگر مسلمان لیڈر کہنے سے ڈرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسا اس لیے ہے کہ ان میں سے اکثریت لیڈرز نہیں بلکہ آفس ہولڈرز ہیں، لیڈر وہ ہوتے ہیں جن کا نظریہ ہوتا ہے اور وہ مورل ایشوز پر کھڑے ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے دیگر لیڈرز اسٹینڈ نہیں لیتے اور سب کو خوش کرتے ہیں۔ مہاتیر محمد نے اپنے خطاب میں اسرائیلی ریاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عبرانی ریاست چوروں اور ڈاکوﺅں کا ملک ہے۔ انھوں نے 1948ء میں فلسطینی زمین پر ڈاکہ ڈال کر نام نہاد یہودی ریاست قائم کی اور آج تک فلسطینی اراضی اور املاک چوری کررہے ہیں۔ انھوں نے اسرائیل کو ایک ایسی بے لگام ریاست قرار دیا جو بین الاقوامی قوانین کی پابندی نہیں کرتی۔ انھوں نے کہا کہ ہم یہودیوں کے خلاف نہیں، مگر فلسطینی اراضی پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتے۔ 
 
ملائیشیا کے بزرگ وزیراعظم نے جن کا عالم اسلام میں ایک خاص احترام پایا جاتا ہے اور جو ملائیشیا کی اقتصادیات کے معمار ہیں، ایک پسماندہ ملک کو اپنے حسن تدبیر سے ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کر دیا۔ کرپشن کے خلاف جنگ کرکے انھوں نے اپنے ملک کی بنیادوں کو مضبوط کیا، پوری دنیا میں عموماً اور عالم اسلام میں خصوصاً انھیں اس وجہ سے ایک خاص احترام اور وقار حاصل ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم بھی انھیں اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔ ان کا اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اس اظہار خیال کی ٹائمنگ بہت اہم ہے اور ان کی جرات اور لیڈر شپ کو وزیراعظم پاکستان کا خراج تحسین بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس ٹائمنگ کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس امر کو سامنے رکھا جائے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں پاکستان کے اندر ایک خاص لابی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے دباﺅ ڈالنے میں سرگرم ہو چکی ہے۔

علاوہ ازیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پاکستان پر مہربان بعض عرب ریاستیں بھی اس سلسلے میں پاکستان پر زور دے رہی ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے 7 مارچ 2019ء کو شائع ہونے والا معروف صحافی حامد میر کا کالم بہت اہمیت رکھتا ہے، جس کا عنوان ہے عمران خان اور اسرائیل۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کالم سے کچھ اقتباس پیش کریں یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان کے حکومتی ذرائع نے مارچ کے شروع میں یہ خبر دی تھی کہ بھارت نے 27 مارچ کی رات پاکستان پر جس میزائل حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، اس میں اس کے ساتھ اسرائیل بھی شریک تھا۔ تاہم انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے حملے کا یہ منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔ اب آتے ہیں حامد میر کے مذکورہ کالم کی طرف وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان کو صرف بھارت نہیں بلکہ بیرونی ممالک کی سازشوں کا بھی سامنا ہے اور ان ممالک میں اسرائیل بھی سر فہرست ہے۔

حامد میر لکھتے ہیں کہ 26 فروری کو بالاکوٹ کے قریب جابہ میں بھارتی ایئرفورس کے حملے کے بعد سے عالمی میڈیا میں یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ اس حملے میں بھارت نے اسرائیل ساختہ اسلحہ استعمال کیا۔ مصدقہ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ بھارت نے اسرائیل کے ساتھ مل کر راجستھان کے راستے سے پاکستان پر ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کو اس حملے کی قبل از وقت اطلاع مل گئی اور پاکستان نے بھارت کو یہ پیغام بھجوایا کہ اگر ہماری سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو بہت بھرپور جواب دیا جائے گا اور یوں بھارت کا یہ حملہ ٹل گیا۔ بھارت اور اسرائیل کے اس پاکستان دشمن اتحاد کے تناظر میں کچھ دنوں سے عمران خان کو یہ مشورہ دیا جارہا ہے کہ ہمیں بھارت اور اسرائیل کا اتحاد توڑنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں۔ عمران خان کو یہ مشورہ 26 فروری کے بھارتی حملے سے پہلے بھی دیا گیا تھا اور 26 فروری کو بھارتی حملے کے بعد بھی دیا گیا۔

حامد میر نے لکھا کہ مشورہ دینے والوں کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم آزادی فلسطین کے نمائندے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں، اگر مصر، اردن اور ترکی کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستان کو بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لینا چاہئیں۔ اس طرح پاکستان کے خلاف اسرائیل اور بھارت کا اتحاد ختم ہو جائے گا۔ یہ مشورہ اسرائیل نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں نظر آتا ہے۔ عمران خان یہ مشورہ تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دے دیں تو پورے مغرب کے ہیرو بن سکتے ہیں، لیکن ان مشوروں پر ان کا سادہ سا جواب تھا، دل نہیں مانتا۔ حامد میر کی تحریر کے باوصف حقیقت یہ ہے کہ دل اور دماغ کی اس جنگ میں فتح یابی کو مہاتیر محمد نے یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد کچھ عرصے کے لیے اسرائیل کی حامی لابی پاکستان میں ضرور کمزور پڑ گئی ہے۔ اگر پاکستان کی معیشت سنبھل جاتی ہے تو اسرائیل کے حامی اور سرپرست ممالک کے پاکستان پر دباﺅ میں ضرور کمی آئے گی۔ کیونکہ معاشی لحاظ سے آزاد قومیں سیاسی اور نظریاتی طور پر بہتر اور آزادانہ فیصلے کر سکتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 785132
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے