0
Tuesday 26 Mar 2019 12:08

معاملہ ہندو لڑکیوں کے اغواء کا۔ ۔

معاملہ ہندو لڑکیوں کے اغواء کا۔ ۔
تحریر: تصور حسین شہزاد

ہمارے میڈیا میں اچانک شور اُٹھا کہ سندھ کے علاقے گھوٹکی سے مبینہ طور پر دو ہندو لڑکیاں اغواء ہو گئی ہیں۔ لڑکیوں کے لواحقین کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ اغواء ہونیوالی لڑکیوں کو زبردستی اسلام قبول کروایا جائے گا۔ اس شور پر وزیراعظم نے بھی فوری نوٹس لیا اور متعدد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں تاہم معاملہ عدالت پہنچ چکا ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں کہ ہندو لڑکیوں کے فرار کو اغواء کا نام دیا گیا ہو۔ اِن سے قبل بھی بہت سی ہندو لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر آئیں، اسلام قبول کیا اور مسلمان لڑکوں سے شادیاں کیں۔ اب مسلمان ہونیوالی روینا نے اپنا نام آسیہ اور رینا نے شازیہ رکھ لیا ہے۔ روینا کا نکاح صفدر جبکہ رینا کا برکت سے ہو چکا ہے۔ دونوں لڑکیوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ بغیر کسی دباو کے مسلمان ہوئی ہیں اور انہوں نے مرضی سے شادی کی ہے۔ دونوں لڑکیاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئیں۔ دونوں بہنوں کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انہوں نے مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی پسند سے ہی شادی ہے، اب انہیں جان کا خطرہ ہے، تحفظ فراہم کیا جائے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ جس دوران دونوں نو مسلم بہنیں عدالت میں اپنے وکلاءکے ہمراہ پیش ہوئیں، جس دوران جسٹس نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو روسٹرم پر طلب کیا۔ فاضل جج نے ریمارکس جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے، جس سے پاکستان کا تشخص جڑا ہے، نبی پاک (ص) کے فتح مکہ اور خطبہ حجتہ الوداع پر دو خطاب ہیں اور دونوں خطاب اقلیتوں سے متعلق قانون و آئین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے امیج کا معاملہ ہے، لڑکیوں کو ڈپٹی کمشنر کے حوالے کر رہے ہیں، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو گارڈین مقرر کر رہے ہیں۔ عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری سندھ اور دیگر فریقین سے آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جسٹس اظہر من اللہ نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں کو شیلٹر ہوم یا دیگر جگہوں پر رکھا جا سکتا ہے اور ایس پی لیول کی افسر بچیوں کی حفاظت کیلئے تعینات کی جائے۔ عدالت نے مزید کارروائی منگل تک ملتوی کر دی ہے۔  یہ لڑکیوں کیوں بھاگیں، حقائق کیا ہیں، اور میڈیا اسے کیوں اچھال رہا ہے یہ سوال اپنی جگہ اہم ہیں، جن کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ان دونوں بہنوں کا تعلق ہندووں کی انتہائی نچلی ذات بھگیواڑ سے ہے۔ ہندووں میں غربت بہت زیادہ ہے۔ دوسرا وہاں کے امیر ہندو اپنے ہی برداری کے غریب ہندووں کیساتھ جو سلوک روا رکھتے ہیں وہ تشویشناک ہے۔ ہندووں میں کزن میرج نہیں ہوتی، اور بھاری جہیز کے بغیر بھی کوئی رشتہ نہیں لیتا۔ اس لئے غریب گھرانوں کی لڑکیاں اچھی زندگی کے خواب آنکھوں میں سجائے یہ راستہ اختیار کرتی ہیں۔ مذہب تبدیل کر کے انہیں عزت بھی مل جاتی ہے اور دولت بھی جبکہ ایک خاندان چھوڑنے کے بدلے پورے ملک میں انہیں احترام دیکر اپنوں کا پیار دیا جاتا ہے۔ جس سے ان کا اسلام کی جانب راغب ہونا ایک فطری امر ہے۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ صرف لڑکیاں ہی اسلام کیوں قبول کرتی ہیں، لڑکے کیوں نہیں، تو یہ صرف میڈیا کا پروپیگنڈہ ہے، لڑکیوں کی نسبت لڑکے زیادہ اسلام قبول کرتے ہیں اور بعض اوقات تو خاندان کے خاندان اسلام قبول کر لیتے ہیں۔ مگر ہمارا میڈیا انہیں نمایاں نہیں کرتا، کیوں کہ میڈیا میں این جی اوز کا اثرورسوخ بھی ہے اور این جی اوز نے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ہی ایسے ایشوز اٹھانے ہوتے ہیں۔

پاکستان میں کسی مسلمان لڑکی کیساتھ جو ظلم مرضی ہو جائے میڈیا اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا، حتیٰ ایک لائن کی خبر بھی نہیں لگائی جاتی جبکہ کسی ہندو، عیسائی یا قادیانی لڑکی کی بات آ جائے تو زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے جاتے ہیں اور ایسا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر کے رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ سوال کہ لڑکیاں کیوں بھاگیں؟ ظاہر ہے غربت کی زندگی میں پس رہی تھیں، اور مقامی صحافیوں کے بقول اونچی ذات کے ہندو انہیں تنگ بھی کرتے تھے، مگر ان بہنوں نے وہاں رُسوا ہونے کے بجائے عزت کی زندگی کو ترجیح دی اور اسلام قبول کر لیا۔ اب این جی اوز مافیا جسے عرف عام میں موم بتی مافیا بھی کہتے ہیں شور مچا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کا بھی انتظار نہیں کیا، لڑکیوں کا موقف بھی نہیں سنا اور ایک دم ہماری معاشرتی و اسلامی اقدار پر یک طرفہ حملہ کر دیا کہ ظلم ہو گیا، لڑکیوں کو جبری مذہب تبدیل کروا لیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ ریاست کو اس حوالے سے اس موم بتی مافیا کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیئے کہ حقائق کیا ہیں۔ حقائق کی روشنی میں فیصلے کرنا عدالت کا کام ہے، این جی اوز مافیا  کا نہیں۔ لہذا انہیں لگام دی جانی چاہیے۔ این جی اوز کے حکام کو سوچنا چاہیے کہ وہ بلا وجہ اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان  اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔

پہلے لڑکیوں کا موقف سن لیتے۔ راقم گزشتہ 20 سال سے صحافت سے وابستہ ہے۔ پاکستان میں کسی بھی جگہ پر جبری مذہب تبدیلی کا کوئی معاملہ نہیں ہوتا۔ یہ محض این جی اوز کا پروپیگنڈہ ہے۔ وہ کوئی ایک مثال بھی پیش کرنے سے قاصر ہیں جنہیں جبری مذہب تبدیل کرنے کیلئے کہا گیا ہو۔ راقم کے حلقہ احباب میں بھی سکھ، ہندو، عیسائی اور قادیانی ہیں، مگر آج تک کسی ایک نے بھی یہ شکایت نہیں کی کہ اسے مذہب کی تبدیلی کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ بلکہ مسلمان دیگر مذاہب کے لوگوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کی نسبت زیادہ احترام دیتے ہیں۔ این جی اوز کے اس "کار خیر" میں ہمارا  انگریزی میڈیا پیش پیش ہے۔ انگریزی میڈیا بھی ٹٹول ٹٹول کر ڈھونڈ رہا ہوتا ہے کہ کوئی خبر ایسی ملے جس میں قادیانیوں، ہندووں یا عیسائیوں کو ہراساں کیا گیا ہے۔ وہ خوب مرچ مصالحہ لگا کر اسے شائع کرتے ہیں جبکہ اردو میڈیا کا کردار اس حوالے سے کسی حد تک اطمینان بخش اور ذمہ دارانہ ہے۔ راقم کے خیال میں حکومت کو اس حوالے سے واضح پالیسی بنانی چاہیے جس میں وطن کی حرمت اور امیج کو خراب کرنیوالوں کا بھی محاسبہ کیا جا سکے۔ ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے ایسے ایک دو ہی دبوچ لئے گئے  تو باقیوں کو ویسے ہی "سکون" ہو جائے گا۔  کیوں کہ سب سے پہلے وطن کی ساکھ اہم ہوتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 785207
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب