0
Wednesday 27 Mar 2019 10:35

خوفزدہ امریکہ

خوفزدہ امریکہ
 اداریہ

امریکہ کی معروف شیگاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر جان میئرشیمر نے ایک ایسی بات کہی ہے کہ جس نے مشرق وسطیٰ اور علاقے کی پیچیدہ سیاست کو بڑے سادہ اور صاف الفاظ میں پیش کر دیا ہے۔ پروفیسر جان میئرشیمر نے معروف ویب سائٹ "لوپ لوگ" (Loop Loge) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران بالواسط یا بلاواسط امریکہ کے لے خطرہ نہیں۔ انھوں نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے پانچ دلیلیں دی ہیں۔ پہلی دلیل یہ کہ ایران کے پاس ایٹم بم نہیں، دوسری یہ کہ ایران کے پاس امریکہ تک مار کرنے والے میزائل موجود نہیں، تیسری یہ کہ ایران نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ اس کی فوجی طاقت امریکہ یا اس کے حامی کسی ملک پر حملہ کر سکتی ہے۔

چوتھی دلیل یہ ہے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں کسی ملک کے لیے فوجی خطرہ نہیں ہے، کیونکہ ایران نے آج تک خطے کے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ پروفیسر جان میئرشیمر کی پانچویں دلیل یہ ہے کہ ایران امریکی حکام کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتا چلا آ رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کا حامی ہے۔ امریکی پروفیسر نے اعدادوشمار کی روشنی میں ایران کے بارے میں درست تجزیہ کیا ہے، لیکن امریکہ کو اصل خطرہ ایران کی فوجی قوت سے نہیں ہے، وہ ایران کے اسلامی انقلاب کی فکر، سوچ اور الہی نظریہ سے خوفزدہ ہے۔ امریکہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر آج تک اسلامی انقلاب کے نظریے کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ہرطرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔

امریکہ کو اس بات کا یقین ہے کہ جس دن ایران کے اسلامی انقلاب کا پیغام محروم، مستضعف اور حریت پسند اقوام تک پہنچ گیا۔ ایران کا اسلامی انقلاب ان کے لیے ایک آئیڈیل اور مثالی نمونے میں تبدیل ہو گیا، تو اس دن امریکہ کی فوجی مشینری، ایٹمی پروگرام، اقتصادی دعب و دبدبہ، عالمی سیاسی ساکھ، عالمی اداروں پر تسلط سب بے کار ہو جائے گا۔ دنیا کے تمام وسائل ہونے کے باوجود سویت یونین کا شیرزاہ بکھر سکتا ہے، تو بہت دور کی بات نہیں کہ امریکہ بھی اسی سرنوشت سے دوچار ہو۔ خدا کے لہجے میں بولنے والوں کی رعونت پر وقت ایسی خاک ڈالتا ہے کہ فرعونی طاقتوں کو پیچھے مڑ کر دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور وہ نابود ہو جاتی ہیں۔ امریکی پروفیسر اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہر نے ایک اور بڑے پتے کی بات کی ہے کہ امریکہ سعودی عرب کی پیداکردہ دہشت گردی کے نتیجے میں کسی بڑی مشکل کا شکار ہو سکتا ہے، لہذا دو حاضر میں "دہشت گردی کا سرچشمہ" سعودی عرب کے لیے زیادہ مناسب نام، پہچان اور شناخت ہے۔
خبر کا کوڈ : 785385
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب