0
Friday 29 Mar 2019 22:06

عراق میں داعش کے مکمل خاتمے کیلئے تکفیری طرز فکر سے مقابلے کا آغاز

عراق میں داعش کے مکمل خاتمے کیلئے تکفیری طرز فکر سے مقابلے کا آغاز
تحریر: رامین حسین

2014ء کا سال تھا جب داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر نے شام کی جانب سے عراق پر یلغار کرتے ہوئے صوبہ نینوا کے صدر مقام موصل پر قبضہ کر لیا۔ وہ عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام حسین کی بعث پارٹی کے بچے کھچے عناصر کی مدد سے یہ کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ موصل پر قبضہ کرنے کے بعد وہ عراق کے دیگر شہروں پر قبضہ جمانے کا بھی خواب دیکھنے لگے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی تو عراق کے بزرگ عالم دین اور مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی نے داعش کے خلاف جہاد کا تاریخی فتوی جاری کیا۔ اس فتوے کے بعد عراقی جوان میدان میں اتر آئے اور انہی جوانوں پر مشتمل رضاکار فورس "الحشد الشعبی" تشکیل پائی۔ الحشد الشعبی میں شامل جوان مذہبی جوش و جذبے سے سرشار تھے اور شہادت کے شوق سے مالامال تھے لہذا انتہائی شجاعت کا مظاہرہ کرتے اور بہادری سے لڑتے تھے۔ بہت جلد یہ رضاکار فورس داعش کیلئے ایک ڈراونا خواب بن کر ابھری۔ داعش کو یکے بعد از دیگرے شکستوں کا سامنا ہوا اور اس کی مکمل نابودی کیلئے الٹی گنتی کا آغاز ہو گیا۔
 
آخرکار 2017ء میں عراق آرمی اور الحشد الشعبی کی جدوجہد رنگ لائی اور آیت اللہ العظمی علی السیستانی کے فتوے کا نتیجہ عراق میں داعش کی مکمل شکست کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تین سال کے اندر اندر نام نہاد اسلامی خلافت کا خاتمہ ہو گیا اور عراق کے تمام علاقے داعش کے قبضے سے آزاد کروا لئے گئے۔ اس عظیم کامیابی کے حصول میں بڑی تعداد میں عراقی فوجیوں اور رضاکار فورس میں شامل جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اس وقت عراق میں داعش کی حتمی شکست کو تقریباً ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس کے باوجود داعش کی تکفیری طرز فکر اور نظریات سے مقابلے کی اشد ضرورت کا احساس کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ عراق کے دور دراز علاقوں میں اکا دکا بچ جانے والے تکفیری عناصر اپنی سوچ پھیلانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ وہ یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید اس طرح عراق میں دوبارہ تکفیری سوچ رائج کر کے داعش جیسا نیا گروہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکیں۔
 
عراقی حکام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ داعش کو فوجی شکست دینے کے بعد اس کے مکمل ازالے کیلئے دو اہم اقدامات انتہائی ضروری ہیں؛ ایک تکفیری طرز فکر، سوچ اور نظریات کا مقابلہ کرنا اور دوسرا عراق کی تعمیر نو انجام دینا۔ عراقی سیاسی رہنما بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ تکفیری دہشت گردانہ سوچ اور نظریات سے مقابلہ کرنے کیلئے اسٹریٹجک فیصلے اور اقدامات انجام دیے بغیر ملک کی تعمیر نو بھی ممکن نہیں ہے۔ اس بارے میں عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے حال ہی میں شدت پسندی اور شدت پسندانہ سوچ سے مقابلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا: "داعش ایک سرطانی پھوڑے کی مانند ہے جسے مکمل طور پر نابود اور ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ داعش کی مکمل نابودی اور خاتمہ تکفیری اور شدت پسندانہ سوچ کی نابودی پر منحصر ہے۔ یہ ایک ایسا ہدف ہے جسے حاصل کرنے کیلئے عراق کے تمام اداروں کی جانب سے بھرپور تگ و دو اور جدوجہد درکار ہے۔"
 
تکفیری سوچ اور نظریات سے مقابلے کا مسئلہ ایسا ایشو ہے جس پر مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی بھی بارہا زور دے چکے ہیں۔ اس بارے میں آیت اللہ العظمی سیستانی کے نمائندے عبدالمہدی کربلائی نے کہا تھا: "تکفیری شدت پسندانہ سوچ شر کا منبع ہے اور اس کی نابودی کی کوششیں نہ صرف عراق بلکہ دنیا بھر میں انجام پانی چاہئیں۔" انہوں نے تکفیری سوچ کا مقابلہ کرنے کیلئے عوام کے شعور کو بلند کرنے اور ان کی آگاہی میں اضافہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: "تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی جانب سے عام شہریوں کے خلاف انجام پانے والے مجرمانہ اقدامات سے متعلق دستاویزات کے ذریعے اس گروہ کے بارے میں عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کیا جا سکتا ہے۔" لہذا عراق کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی رہنما اس بات پر اتفاق رائے پیدا کر چکے ہیں کہ داعش کی مکمل نابودی صرف فوجی میدان میں اسے شکست دے کر حاصل نہیں ہو سکتی بلکہ نظریاتی میدان میں بھی تکفیری سوچ اور نظریات کو شکست دے کر اس شرپسند گروہ اور علاقائی اور عالمی سطح پر اس کے حامیوں کو زیادہ بڑی اور عبرتناک شکست دی جا سکتی ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 785897
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے