0
Saturday 30 Mar 2019 22:00

مائیک پمپئو کی لبنان سے خالی ہاتھ واپسی

مائیک پمپئو کی لبنان سے خالی ہاتھ واپسی
تحریر: فاطمہ صالحی

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپئو نے حال ہی میں مشرق وسطی خطے کا دورہ کیا جس میں وہ کویت، مقبوضہ فلسطین اور لبنان گئے۔ ان یہ علاقائی دورہ مکمل طور پر ایران مخالف اہداف اور لبنان میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم حزب اللہ کے خلاف منفی پروپیگنڈے پر مشتمل تھا۔ اکثر سیاسی ماہرین اور تجزیہ کار اسے ایک ناکام اور لاحاصل دورہ قرار دے رہے ہیں۔ اس سے پہلے امریکی وزارت خارجہ نے سرکاری طور پر اعلان کیا تھا کہ مائیک پمپئو اس دورے میں ایران کے خلاف امریکہ، اسرائیل، لبنان اور کویت کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے۔ امریکی حکام نے پہلے تو لبنان میں مائیکل عون کو صدارت کے عہدے پر فائز ہونے سے روکنے کی کوشش کی کیونکہ وہ حزب اللہ لبنان اور ایران کے حامی تصور کئے جاتے ہیں۔ جب وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہے تو طویل عرصے تک لبنان میں کابینہ تشکیل پانے میں روڑے اٹکاتے رہے۔ جب اس مقصد میں بھی انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو اب مائیکل پیمپئو امریکی صدر کے خصوصی ایلچی کے طور پر لبنان پہنچے تاکہ تفرقہ افکنی کے ذریعے ملک میں حزب اللہ لبنان کی پوزیشن کمزور کر سکیں۔
 
دوسری طرف میڈیا رپورٹس اور لبنان کی اہم سیاسی شخصیات خاص طور پر پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر ایلی فرزلی کی نظر میں امریکی وزیر خارجہ کا دورہ لبنان اسرائیل کی ایماء پر انجام پایا ہے۔ ان کی نظر میں اس دورے کا مقصد لبنان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا اور اس طرح اسرائیلی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ مائیک پمپئو نے اپنے دورہ لبنان اور لبنانی حکام اور اہم شخصیات سے ملاقات کے دوران حزب اللہ لبنان کے خلاف بیانات دے کر اس کے خلاف منفی فضا بنانے کی کوشش کی اور اس طرح لبنانی عوام میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش انجام دی جو آخرکار ناکامی کا شکار ہو گئی۔ امریکی وزیر خارجہ نے لبنان دورے کے دوران تمام سفارتی آداب کی حدیں پار کرتے ہوئے اپنے لبنانی ہم منصب کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "لبنان اور لبنانی عوام کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خودمختار اور باافتخار قوم کی طرح آگے بڑھیں اور دوسرا یہ کہ ایران اور حزب اللہ لبنان کو اپنے مہم جویانہ پست اقدامات کے ذریعے اپنا مستقبل خراب کرنے کی اجازت دے دیں۔" لبنانی حکام سے مائیک پمپئو کی بات چیت کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی نے ان کی آرا کو اہمیت نہیں دی اور وہ خالی ہاتھ واپس لوٹے ہیں۔
 
اس نکتے سے غافل نہیں ہونا چاہئے کہ حزب اللہ لبنان سیاسی، سماجی اور اقتصادی اثرورسوخ سے عاری ایک چھوٹی سی جماعت نہیں بلکہ آج یہ تنظیم پوری طاقت سے ملک کی کابینہ میں موجود ہے اور لبنان کا کوئی سیاسی گروہ یا جماعت حزب اللہ لبنان کو ملک کے سیاسی میدان سے نکال باہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح حزب اللہ لبنان کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ مائیک پمپئو نے لبنان آنے سے قبل کہا تھا کہ ان کے دورے کا مقصد حزب اللہ لبنان کے گرد گھیرا تنگ کرنا اور اس پر دباو بڑھانا ہے اور بعض سیاسی جماعتوں سے اس کا اتحاد ختم کرنا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ لبنانی حکام اور اہم سیاسی شخصیات نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور امریکہ کے ناجائز مطالبے کے خلاف واحد موقف کا اظہار کیا ہے۔ لبنان کے تمام سیاسی رہنماوں نے حزب اللہ لبنان کو سیاست سے بے دخل کرنے پر مبنی امریکہ کے غیر قانونی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ حزب اللہ لبنان ایک ناقابل انکار طاقت ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے لبنان کے صدر مائیکل عون، پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہہ بری، وزیراعظم رفیق حریری اور وزیر خارجہ جبران باسیل سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور تمام لبنانی رہنماوں نے مشترکہ طور پر امریکہ کا مطالبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
 
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اپنی حالیہ تقریر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئو کے دورہ لبنان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: "حقیقت تو یہ ہے کہ میں نے امریکی وزیر خارجہ کی باتوں میں کسی درست اور سچائی پر مبنی بات کا مشاہدہ نہیں کیا جو حقائق پر مبنی ہو۔ مائیک پمپئو کے دورہ لبنان کو ایک عام دورے کی نگاہ سے دیکھنا صحیح نہیں ہے کیونکہ امریکہ آج غاصب صہیونی رژیم کے مفادات کے تحفظ کی خاطر ایک وسیع جنگ میں داخل ہو چکا ہے۔" سید حسن نصراللہ نے مزید کہا: "مائیک پمپئو نے دورہ لبنان میں ہر موضوع پر بات کی لیکن اس بات کی طرف اشارہ تک نہیں کیا کہ لبنان آج ایک بہت بڑے چیلنج سے روبرو ہے جس کا نام اسرائیل ہے۔ ایک ایسی ناجائز رژیم جو حد سے زیادہ مجرمانہ اقدامات کا ارتکاب کر چکی ہے۔ لبنانی عوام اپنے ملک میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حزب اللہ، لبنان کی جماعتوں اور فورسز کا حصہ ہے جس کا ملک کے دفاع میں اہم کردار ہے۔" امریکہ پہلے مرحلے پر سفارتی ہتھکنڈوں کے ذریعے اور اس کے بعد فوجی ہتھکنڈوں سے لبنان کی سیاسی جماعتوں پر حزب اللہ لبنان سے دوری اختیار کرنے کیلئے دباو ڈالنے کا منصوبہ رکھتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے تمام اقدامات شکست کا شکار ہوں گے۔
 
خبر کا کوڈ : 786073
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے