0
Sunday 31 Mar 2019 11:41

ایران کے خلاف ایک اور اجلاس

ایران کے خلاف ایک اور اجلاس
 اداریہ

 گذشتہ روز تیونس میں عرب لیگ وزرائے خارجہ کے سیکرٹریٹ میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کی موجودگی میں ایک اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب، بحرین اور مصر نے شرکت کی۔ بظاہر اس نشست کا ہدف تیونس میں ہونے والے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کا اعلانیہ تیار کرنا تھا، لیکن یہ اجلاس ایک بار پھر ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات اور اسلامی استقامت و مقاومت کے خلاف نئی سازشیں تیار کرنے کی نذر ہو گیا۔ عرب لیگ عرب دنیا کا ایک بڑا اور موثر ادارہ تھا اور ہے، لیکن اپنے ماضی کے مشکوک فیصلوں کی وجہ سے علاقے میں وائٹ ہائوس کی پالیسیوں کے نفاذ اور غاصب اسرائیل جیسی ریاست کے لیے سلامتی فراہم کرنے والے ادارے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ عرب لیگ کی پہلی ترجیح عرب ممالک ہونے چاہیں، لیکن عرب لیگ عربوں کی ترجیحات کو ترک کر کے ہمیشہ واشنگٹن کی ترجیحات پر عمل پیرا رہی، آج جس وقت تیونس میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے، عرب دنیا کو تاریخ کی سخت اور پیچیدہ ترین مشکلات کا سامنا ہے۔

یمن کے خلاف سعودی جارحیت، عراق اور شام میں دہشت گردی کا آخری رائونڈ، بحرین میں عوامی تحریک، سعودی عرب قطر کشیدہ تعلقات اور سب سے بڑھ کر فلسطین میں انتفاضہ اور واپسی مارچ کے نام پر عوامی جدوجہد میں اضافہ۔ عرب لیگ ان تمام موضوعات کو نظرانداز کر کے یا معمولی سی توجہ دے کر عرب ممالک کی داخلی قوت کو مضبوط کرنے کی بجائے ایرانو فوبیا کی مرض میں مبتلا ہے۔ عرب لیگ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس پر سعودی عرب کا تسلط ہے۔ سعودی عرب محمد بن سلمان کی وجہ سے جس راستے پر چل پڑا ہے، اس کا نتیجہ تباہی و بربادی کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ سعودی عرب کی امریکہ سے قربتوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات کی جرات ہوئی کہ پہلے اس نے بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا اور اب جولان کی پہاڑیوں پر بھی اسرائیلی قبضے کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عرب لیگ کو اس وقت جولان کی پہاڑیوں کی شام کو واپسی کے مسئلے کو شدت سے اٹھانا چاہیے، لیکن عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور خطے میں اس کے روز افزوں اثر و رسوخ کے خلاف قراردادیں منظور کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر عرب دنیا کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عرب حکمرانوں میں احساس زیاں ہی ختم ہو رہا ہے۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
خبر کا کوڈ : 786128
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب