0
Monday 1 Apr 2019 23:41

مشرق وسطی سے متعلق ایران اور امریکہ کی سکیورٹی حکمت عملی، ایک تقابلی جائزہ

مشرق وسطی سے متعلق ایران اور امریکہ کی سکیورٹی حکمت عملی، ایک تقابلی جائزہ
تحریر: سید حسین موسویان

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے چیف کمانڈر جنرل جعفری نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اعلان کیا ہے کہ ایران نے عراق اور شام میں ایک لاکھ رضاکار افراد کو فوجی تربیت مہیا کی ہے تاکہ وہ ایران کی فوجی مہارت اور تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اپنے ملک کی مسلح افواج کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف ایران کی حکمت عملی امریکی حکمت عملی سے زیادہ موثر واقع ہوئی ہے جبکہ امریکہ نے ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ بجٹ صرف کیا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے عراق کا سرکاری دورہ بھی کیا جس دوران عراقی حکام نے دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف ایران کی مدد کو اس قدر سراہا اور اس کی قدردانی کی عالمی رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
 
اگر عراقی حکام کی جانب سے ایرانی صدر کے پرتپاک اور بے مثال استقبال کا اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ عراق سے موازنہ کیا جائے تو انتہائی قابل غور نتائج سامنے آتے ہیں۔ دسمبر 2018ء کے آخری دنوں میں امریکی صدر انتہائی خفیہ انداز میں عراق گئے جبکہ ان کا جہاز رات کی تاریکی میں عراق میں موجود ایک امریکی فوجی اڈے میں اترا اور عراق کے کسی حکومتی عہدیدار نے ان کا استقبال نہیں کیا۔ اسی طرح عراقی صدر، وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نے بھی امریکی صدر سے ملاقات سے اجتناب کیا۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے دورہ عراق کا پہلے سے سرکاری سطح پر اعلان کیا جا چکا تھا اور ان کا ہوائی جہاز دن کی روشنی میں بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا اور عراق کے اعلی سطحی حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اسی طرح ایران کے صدر نے عراق میں اپنے قیام کے دوران عراق کے تمام اعلی سطحی حکومتی عہدیداروں سمیت ملک کی اہم سیاسی اور مذہبی شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان شخصیات میں مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی بھی شامل تھے۔
 
ان دو صدور مملکت کے دورہ عراق کی اس یکسر مختلف صورتحال کے اسباب دونوں ممالک کی جانب سے خطے سے متعلق اپنائی جانے والی حکمت عملی میں اختلاف میں پوشیدہ ہیں۔ مشرق وسطی خطے اور دیگر خطوں سے تعلق رکھنے والے بعض تجزیہ کار یہ رائے رکھتے ہیں کہ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی تاریخ میں ایک ایسا اہم موڑ تھا جو بعد میں مشرق وسطی میں انتہائی اہم اور بنیادی تبدیلیاں رونما ہونے کا باعث بنا۔ شاید اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران کی ایک واضح ترین خصوصیت امریکہ کے ساتھ تلخ اور متلاطم تعلقات ہیں۔
 
بہت سے عالمی تجزیہ کاروں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ بعض اہم ایشوز پر ایران اور امریکہ کے مفادات میں نظام مند طور پر یکسوئی اور قربت ہونے پر کافی شواہد پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر افغانستان میں طالبان اور عراق میں صدام حسین دونوں ایران اور امریکہ کے مشترکہ دشمن تھے۔ اس وقت بھی دونوں ملک داعش اور دہشت گردی کے دیگر وسیع نیٹ ورکس جیسے القاعدہ، النصرہ فرنٹ اور بوکوحرام کو اپنی قومی سلامتی کیلئے اصلی خطرہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے سکیورٹی اور قومی مفادات میں ایسی یکسوئی اور قربت کیوں دونوں ممالک میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کا باعث نہیں بنی؟ یقیناً اس سوال کا ایک جواب امریکہ کی خارجہ سیاست کی تنگ نظری اور کوتاہ بینی جیسے خطے کے ایسے اتحادیوں کی مسلسل حمایت جو خود دہشت گردی کے فروغ میں مصروف ہیں، سے مربوط ہے۔
 
یاد رہے سعودی عرب کی جانب سے مختلف دہشت گرد گروہوں جیسے القاعدہ، النصرہ فرنٹ اور داعش کی مالی اور لاجسٹک سپورٹ کے بارے میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ یہ حمایت شدت پسندانہ اور دہشت گردانہ نظریات اور افکار کی ترویج کا باعث بنی ہے۔ دوسرے الفاظ میں دہشت گرد گروہوں کی مالی مدد اور نظریاتی برین واشنگ خود خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کی جانب سے انجام پائی ہے۔ لہذا امریکہ ایسے اتحادیوں کی فوجی اور سیاسی حمایت میں مصروف ہے جو یمن پر جارحیت جیسی تباہ کن جنگوں کے ذریعے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
 
لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہتر نہ ہونے کی زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں اپنی اتحادی حکومتوں پر تکیہ کرنے کو ہی اپنے قومی مفاد کے حق میں بہتر تصور کرتا ہے جس کی وجہ سے خطے کی قومیں امریکہ کی مخالف ہو گئی ہیں۔ اس قسم کی نگاہ لمبی تاریخ کی حامل ہے۔ 1953ء میں ڈاکٹر مصدق کی سربراہی میں ایران کی جمہوری حکومت نے تیل کی صنعت کو نیشنلائز کیا جس کے ردعمل میں امریکہ نے بغاوت کے ذریعے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا اور رضا خان جیسے ڈکٹیٹر کو برسراقتدار لے آیا۔ امریکہ نے ہمیشہ سے ایران کے رضا شاہ، سعودی عرب کے فرمانرواوں، مصر کے حسنی مبارک، تیونس کے بن علی اور عراق کے صدام حسین جیسے ڈکٹیٹر حکمرانوں کی بھرپور حمایت کی ہے اور اپنے قومی مفادات کو غیر جمہوری حکمرانوں کی حمایت میں تلاش کیا ہے۔
 
دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران نے اپنی موثر حکمت عملی کی بنیاد صرف حکومتوں سے اچھے تعلقات استوار کرنے تک محدود نہیں رکھی بلکہ خطے کی اقوام کو اہمیت دیتے ہوئے ان سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایسی حکمت عملی تھی جو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایرانی حکومت نے خود اپنی عوام کیلئے بھی اختیار کی تھی۔ عراق کی جانب سے تھونپی گئی جنگ کے دوران ایران کی مسلح افواج کو انسانی قوت کی قلت کا سامنا تھا۔ لہذا انقلاب اسلامی ایران کے بانی امام خمینی رح نے عوامی سطح پر سب کو فوجی تربیت حاصل کر کے دو کروڑ رضاکاروں پر مشتمل عوامی فورس تشکیل دینے کا حکم جاری کر دیا جس کے نتیجے میں عوامی رضاکار فورس "بسیج" تشکیل پائی۔ اس عوامی فورس نے ملک کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کیلئے جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ہر سماجی طبقے اور مذہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والا ایرانی شہری قومی جذبے کے تحت ملک کے دفاع کیلئے جارح قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہو گیا۔
 
گذشتہ چالیس برس کے دوران یہ ماڈل خطے کے دیگر حصوں میں بھی دہرایا گیا ہے۔ 1960ء کے عشرے کی ابتدا میں ایران کی مسلح افواج کی مدد سے لبنان کی علاقائی سالمیت کی حفاظت اور اسرائیل کی جارحیت کا دفاع کرنے کیلئے لبنانی جوانوں پر مشتمل ایک عوامی رضاکار فورس تشکیل پائی جو حزب اللہ لبنان کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اسی طرح عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے جارحانہ اقدامات اور ملک کے ایک حصے پر قبضے کے بعد مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی سید علی السیستانی نے عوامی سطح پر جہاد کو واجب کفائی قرار دیتے ہوئے عوامی رضاکار فورس تشکیل دینے کا فتوی دیا۔ لہذا دسیوں ہزار جوانوں پر مشتمل عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی معرض وجود میں آئی جس کی فوجی تربیت میں ایران نے مرکزی کردار ادا کیا۔ لہذا خطے میں قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے عوامی رضاکار فورس تشکیل دینے پر مبنی ماڈل ایران میں بسیج کی تشکیل سے اخذ کیا گیا ہے۔
 
آج امریکہ بغداد اور عراق کی عوامی رضاکار فورس کے ساتھ اپنے تعلقات میں مشکلات کا شکار ہے کیونکہ انہوں نے ایران سے اچھے تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ اگرچہ امریکہ داعش کے قبضے سے عراق کی سرزمین آزاد کروانے میں عوامی رضاکار فورس کے کردار کو سراہتا ہے لیکن ساتھ ہی اسے اپنے لئے خطرہ بھی تصور کرتا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ عراق کی عوامی رضاکار فورس سے مقابلہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی لہذا ایسا نظر آتا ہے کہ امریکہ اس کے خلاف فوجی اقدام نہیں کرے گا کیونکہ اس فورس کو عراق میں بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے اور اسے عراق کے مستقبل کی امید قرار دیا جا رہا ہے۔
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی جانب سے خطے میں دہشت گردی کے خلاف تشکیل پانے والی عوامی رضاکار فورسز کی حمایت صرف شیعہ گروہوں تک محدود نہیں ہے۔ ایران جس طرح شیعہ گروہوں کی حمایت کرتا ہے اسی طرح سنی مزاحمتی گروہوں جیسے فلسطین میں سرگرم حماس کی بھی حمایت کرتا ہے۔ ایران نے مشرق وسطی کے بحرانوں کے سب سے بڑے منبع یعنی مسئلہ فلسطین میں خود کو حتی فلسطینی عوام سے بھی متحد کر لیا ہے جنہوں نے اسرائیلی جارحانہ اقدامات کے خلاف مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے۔ دنیا میں فلسطینی کی عوامی مزاحمت کو ایک انسانی مسئلے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی حمایت صرف اسلامی دنیا تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ خطے میں امریکی اتحادی یعنی اکثر خلیجی ریاستیں اور مصر بظاہر تو فلسطین سے حمایت کا اظہار کرتے ہیں لیکن پس پردہ اسرائیل کے ساتھ خفیہ اور قریبی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں بعض معتبر رپورٹس میں اسرائیل کے ساتھ ان ممالک کے وسیع تعلقات منظرعام پر لائے گئے ہیں۔ دوسری طرف عوامی محبوبیت کے حامل گروہ یعنی فلسطین میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں حشد الشعبی کو خطے اور دنیا کے بہت سے ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
 
مختصر یہ کہ ایران اور امریکہ مشرق وسطی میں دو مختلف حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ امریکہ نے صرف خطے کی حکومتوں کے ساتھ اتحاد کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر رکھا ہے جبکہ ایران حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کی اقوام کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم کرنے پر زور دیتا ہے۔ ایران کی حکمت عملی اس بات پر استوار ہے کہ خطے میں استعماری طاقتوں اور ان کی سازشوں کے خلاف تشکیل پانے والے مزاحمتی گروہ عوام کے اندر سے ابھر کر سامنے آئیں۔ خطے میں اپنائی یہ دو مختلف اسٹریٹجیز ایران اور امریکہ کے تعلقات پر بھی بہت زیادہ اثرانداز ہوئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں رکاوٹ ثابت ہوئی ہیں۔ جب تک امریکہ عوام کی آواز پر کان بند رکھتے ہوئے عوامی گروہوں سے مقابلہ جاری رکھے گا اور فلسطین سمیت مشرق وسطی کی اقوام کے حق پر مبنی مطالبات سے چشم پوشی کرتا رہے گا اسے خطے میں اپنے خلاف نفرت آمیز جذبات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
 
خبر کا کوڈ : 786374
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے