0
Tuesday 2 Apr 2019 12:39

شرم تم کو مگر نہیں آتی

شرم تم کو مگر نہیں آتی
اداریہ

ایک ایسے وقت جب فلسطین میں واپسی مارچ کے لیے فلسطینی مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں اور یوم الارض کی مناسبت سے مظاہرے کر رہے ہیں ایسے میں بعض ممالک ایسے اقدامات انجام دے رہے ہیں جس سے مسلمان ہونے کے ناطے انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ آج فلسطین میں غزہ کے عوام ایک بہت بڑی جیل میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ عرصے سے جاری ہے۔ صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ پر حملے کے لیے تمام فورسسز کو الرٹ کر رکھا ہے، ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے بیت المقدس کو دارالحکومت قرار دے کر جولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کی مالکیت قرار دے دیا ہے۔ ایسے میں بحرین کے آل خلیفہ کا حالیہ اقدام فلسطینی کاز سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کے لیے زہر بحھا تیر ثابت ہو رہا ہے۔ آج مسلمان ممالک تو ایک طرف یورپی یونین تک ڈونالڈ ٹرامپ کے فیصلے پر معترض نظر آتی ہے۔

یورپ کے بعض ممالک نے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، ایسے میں ایک عرب ملک بحرین نے روزگار کے مواقع، نامی کانفرنس میں اسرائیلی ریزرو فورس کے اراکین کے علاوہ صہیونی وزیر خزانہ ایل کوبن کو ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ بحرین آنے کی دعوت دی ہے۔ موصولہ خبروں کے مطابق اپریل کے دوسرے ہفتے میں یہ کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، اس میں اسرائیل کا ۴۵ رکنی وفد شریک ہو رہا ہے۔ بحرین میں منعقدہ کانفرنس اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی ایک اور کوشش ہے اور عرب ممالک کو اس کانفرنس میں بلا کر اسرائیل سے ان کی قربتیں بڑھائی جائیں گی۔ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے، اس کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں فلسطین کے شہریوں کی ایک بڑی تعداد در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے اور جو آبادی غرب اردن یا غزہ وغیرہ میں موجود ہے، وہ زندگی کے انتہائی دشوار ایام گزار رہی ہے۔

بحرین کی ڈکٹیٹر آل خلیفہ حکومت اسرائیل کے ذریعے روزگار کے کونسے مواقع پیدا کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے، ایسا لگتا ہے بچوں کی قاتل غاصب اسرائیلی حکومت بحرین میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پہلے بحرین کی آبادی کو کم کرنے کا مشورہ دے گی اور ان تمام بحرینیوں کے قتل عام کا منصوبہ بنایا جائے گا، جو آل خلیفہ کے مخالف اور اسرائیل کو فلسطینیوں کا قاتل سمجھتے ہیں۔ اس قتل عام اور آل خلیفہ حکومت کے مضبوط ہونے کے بعد بحرین میں شہریوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور اس سے روزگار کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ اسرائیل جیسی حکومت سے اس کے علاوہ توقع رکھنا دیوانگی کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔ آل خلیفہ کی حکومت بھی خوش ہو جائے گی اور نیتن یاہو بھی سینہ پھیلا کر کہے گا کہ ہم نے بحرین میں روزگار کے مواقع بڑھا دیے ہیں، اب یہ ملک بھی بہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں دوسرں سے اوپر آ جائے گا، البتہ اس کے لیے بچوں کو قتل کرنا پڑے گا، گھروں کو مسمار کرنا ہو گا اور بین الاقوامی قوانین کو پامال کرنا ہو گا۔ 
خبر کا کوڈ : 786448
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب